آئینی ترامیم جن پر آج ترک عوام "ہاں” یا "ناں” کا ووٹ کاسٹ کر رہی ہے

0 327

ترک پارلیمنٹ کی طرف سے پاس کی جانے والی آئینی ترمیم کی 18 شقوں کا خلاصہ

مجلس قانون ساز:

پارلیمانی ممبران اسمبلی کی تعداد 550 سے 600 ہو جائے گی۔

ممبر پارلیمنٹ کے لئے امیدوار بننے کی عمر 25 سال سے 18 سال ہو جائے گی۔

صدارتی اور پارلیمانی انتخابات ہر 5 سال بعد ہوں گے۔

پارلیمنٹ کے قانون سازی، آئینی ترمیمات اور تنسیخی اختیارات جاری رہیں گے۔

پارلیمنٹ بدستور کسی بھی مسئلے پر بحث کرنے، پارلیمانی قرار دادیں پاس کرنے اور تحریک التواء کا اختیار رکھے گی۔

سپریم بورڈ آف ججز اینڈ پراسیکیوٹر:

4 ممبر صدر جبکہ 7 ممبر پارلیمنٹ منتخب کر سکے گی۔

محکمہ قانون کے انڈر سیکرٹری بورڈ کے مستقل ممبر ہوں گے۔

فوجی عدالتوں کا خاتمہ:

فوجی کمیشن اور فوجی عدالتوں کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔

آئینی کورٹ:

آئینی کورٹ کے ممبران کی تعداد 17 سے 15 کر دی جائے گی۔

صدارتی نظام:

صدر ریاست کا آئینی سربراہ ہو گا اور اس کے مطابق انتظامی اختیارات استعمال کر سکے گا۔

صدر اپنی جماعت سے تعلق نہیں توڑے گا۔

ایسا قانون ساز ممبر جس کی جماعت یا گروپ نے 5 فیصد ووٹ لئے ہوں یا انتخابات میں 100,000 ووٹ حاصل کیے ہوں، وہ صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اہل ہو گا۔

صدر مملکت، نائب صدور اور وزراء کا تقرر کر سکے گا۔

ایگزیکٹو اختیارات سے متعلق معاملات پر صدر کو احکامات جاری کرنے کا اختیار ہو گا۔

کوئی شخص دو سے زائد بار صدر منتخب نہیں ہو سکے گا۔

صدر مملکت کو اختیار ہو گا کہ وہ ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کر سکیں،اس کی منظوری پارلیمان سے لینا ہوگی۔

صدر مملکت ملکی بجٹ ترتیب دیں گے اور منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں جمع کروائیں گے۔

اعلی عوامی عہدیدار صدر کی منطوری کے ساتھ مقرر کیے جا سکیں گے۔

صدر اور پارلیمنٹ دونوں کو نئے انتخابات کروانے کا اختیار ہو گا۔

کسی مشتبہ معاملہ میں پارلیمان واضح اکثریت کے ساتھ صدر کے خلاف کارروائی شروع کرنے کی تحقیقات کا اختیار رکھے گی۔

 

تبصرے
Loading...