آج کا مرد بیمار یورپی یونین ہے، رجب طیب ایردوان

0 234

یورپی ممالک میں ترکی مخالف مہم کے حوالے سے برصا میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا: ” ہم جمہوریت، ہیومن رائٹس، اور شخصی آزادیوں سے پیار کرتے ہیں اور اس کی پاسداری کرتے ہیں، اس لئے نہیں کہ یورپی یونین کے ممالک ایسا چاہتے ہیں ، بلکہ اس لئے کہ ہمارے شہری اس چیز کے مستحق ہیں.اور ہم ان چیزوں کے معاملے میں ان سے برتر ہیں.ترکی کسی کو اجازت نہیں دے گا کہ وہ کسی بھی طرح انہیں زک پہنچائے. کیونکہ ہم جرات کے ساتھ کھڑے ہیں، جھک نہیں رہے۔ اور ان کی سانسیں پھولی جا رہی ہیں”۔

وہ ہمیں یورپی یونین کے دروازے پر انتظار کراتے رہے

بعض یورپی یونین ممالک کے سربراہان کے ریمارکس کے تناظر میں جس میں کہ کہا گیا تھا کہ وہ ترکی میں نیا نظام حکومت نہیں چاہتے جس کی 16 اپریل کے ریفرینڈم کے بعد توقع ہے، صدر طیب ایردوان نے کہا کہ "ہمیں حیرت ہوتی اگر وہ ایسا چاہتے۔ کیونکہ ہم بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ انہوں نے کتنا لمبا عرصہ ہمیں یورپی یونین کے دروازے پر انتظار کروایا”۔

جبکہ ایسے ایسے ممالک جن کا ترکی سے کوئی جوڑ نہیں یورپی یونین کے ممبر بنا لئے گئے ، اب یہ بات ہمارے لئے صاف ہوچکی ہے کہ وہ ترکی کی ممبرشپ منظور نہیں کریں گے کیونکہ ترکی کی 99 فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے. انہوں نے کہا کہ ہم اب تک یہ بات نہیں کر رہے تھے مگر آج کے بعد کریں گے۔ وہ تقسیم کے حق میں ہیں ، وہ نسل پرستی کے قائل ہیں، انہیں اسلامو فوبیا ہو گیا ہے، ایسا لگتا ہے وہ دیانتدار نہیں، ان کا رویہ دوستانہ نہیں … ہم انہیں اچهی طرح پہچان چکے تھے جب وہ ہمارے منہ پر ہم پر ہنسا کرتے تهے، مگر ہم نے انہیں بتایا نہیں …مگر آج کے بعد ہم انہیں بتائیں گے….ہم ان کے منہ پر انہیں بتائیں گے.” "یورپ نے اپنے سارے دروازے دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کیلئے کھول دیئے ہیں” صدر ایردوان نے کہا کہ ” وہ اپنے ملکوں میں پی کے کے اور فتح اللہ گولن کی دہشت گرد تنظیم فیتو کو پناہ دے رہے ہیں.اور ان کے ممبروں کو ہمارے حوالہ کرنے سے انکارکر رہے ہیں ..مگر اس پر بالائے ستم یہ بات ہے کہ وہ بے شرمانہ طریقے سے ہم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہم ان تنظیموں کے ممبر ان کے حوالہ کریں. یہ بات سمجھ لیں کہ ہماری عدلیہ اتنی ہی شفاف ہے جتنی تمہاری عدلیہ. اور جب ہم ان کے مطلوبہ نام انہیں حوالہ نہیں کرتے تو وہ آپے سے باہر ہونے لگتے ہیں. جب سے میں نے یہ منصب سنبھالا ہے،میں نے ان کا یہ مطالبہ نہیں مانا ہے. یورپ نے اپنے سارے دروازے دہشت گرد تنظیموں کے حامیوں کیلئے چوپٹ کهول رکھے ہیں ، لیکن ہمارے وزیروں کے داخلے پر بین لگاتے ہیں .وہ ایسے بینروں کا خیرمقدم کرتے ہیں جن میں میرے اوپر بندوق تهانی دکھائی گئی ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ ایسا سویس پولیس کی سرپرستی میں ہوتا ہے. کیا ہمیں اب بھی خاموش رہنا چاہیئے؟ یہی وجہ ہے کہ میں 16 اپریل کو "ہاں” کہتا ہوں. یہ میرا ذاتی مسئلہ نہیں ،بلکہ یہ ان سب کے حساب کا معاملہ ہے جنہوں نے اس قوم کی توہین کی ہے.

یہ دہشت گرد یورپ میں آزاد گھوم رہے ہیں یا نہیں؟ 

 ان کے دروازے ” ہاں ” کہنے والوں کیلئے بند ہیں.ان کے وزراء اور مشیر کھلے عام "نہیں” کی حمایت میں پروپیگنڈہ کر رہے ہیں . ہم تم سے 16 اپریل کے بعد بات کریں گے. انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ترکی کے پاس اب آنقرہ معیار ہے، اسے یورپی یونین کے معیاروں کی ضرورت نہیں.” صدر ایردوان نے مزید کہا: "ہم جمہوریت، ہیومن رائٹس، اور شخصی آزادیوں سے پیار کرتے ہیں اور اس کی پاسداری کرتے ہیں، اس لئے نہیں کہ یورپی یونین کے ممالک ایسا چاہتے ہیں ، بلکہ اس لئے کہ ہمارے شہری اس چیز کے مستحق ہیں.اور ہم ان چیزوں کے معاملے میں ان سے برتر ہیں.ترکی کسی کو اجازت نہیں دے گا کہ وہ کسی بھی طرح انہیں زک پہنچائے. کیونکہ ہم جرات کے ساتھ کھڑے ہیں، جھک نہیں رہے۔ اور ان کی سانسیں پھولی جا رہی ہیں۔ آج کا مرد بیمار ترکی نہیں بلکہ یورپی یونین ہے”۔

یورپ کا مستقبل وہاں مقیم ہمارے شہری ہیں

انہوں نے کہا: "وہ اپنی عمر میں اضافے  کے ساتھ آمدنی میں کمی، قرضوں میں اضافہ، تجارتی حجم میں کمی اور سرمایہ کاری کے ماحول کی تباہی دیکھیں گے۔ اور پھر وہ دیکھیں گے کہ کون کس کی ضرورت ہے۔وہ ہمارے وزرا کے جلسوں کو منسوخ کرکے یا کتوں اور گھوڑوں کے ساتھ  ہمارے شہریوں پر حملہ کر کے اس تصویر کو چھپانے نہیں کر سکتے۔یورپ کا مستقبل وہاں مقیم ہمارے شہری ہیں”۔

 

تبصرے
Loading...