اسپین اور پاکستان سے آئے دوستوں کے ساتھ استنبول میں

0 369

 

عمر فاروق*

کافی عرصے سے پاکستان سے بہت قریبی دوست عمار یاسر بھائی ترکی آنے کا پروگرام بنا رہے تھے۔ پچھلے ماہ ان کا پیغام ملا کہ وہ ترکی آ رہے ہیں۔ ہم نے بھی خوش آمدید کہا اور ان کا انتظار کرنے لگے۔ اتفاقا پچھلے ہفتے ہمارے بہت ہی پیارے بھائی فیاض قرطبی کا بھی پیغام ملا کہ وہ پاکستان سے قرطبہ، اسپین جاتے ہوئے دو دن استنبول میں ٹھہریں گے۔ سب سے اچھی بات یہ کہ دونوں ایک ہی دن استنبول آ رہے تھے۔ اس لیے دونوں کو ایک ساتھ استنبول کی سیر کروانےکا پروگرام بنایا۔
ہفتہ کے روز دونوں دوست اپنے اپنے ہوٹل خیریت سے پہنچ گئے اور اپنی آمد کی اطلاع بھی دے دی۔ خیر ان سے اتوار کے دن صبح 10 بجے جامع سلطان احمد کے سامنے ملنے کا وعدہ ہوا۔
اتوار کو صبح آنکھ کھلی تو خوب بارش ہو رہی تھی اور سردی بھی کافی ہو گئی تھی۔  10 بجے تک بارش کا زور تھم چکا تھا۔ اسی دوران دونوں دوست میری بتائی ہوئی جگہ پر پہنچ چکے تھے اور آپس میں ایک دوسرے کا تفصیلی انٹرویو کر چکے تھے۔ خیر ہم بھی ہلکی ہلکی رم جھم میں چھتری تھامے طے شدہ جگہ پر پہنچ گئے۔ دور سے دیکھا کہ دونوں دوست خوش گپیوں میں مگن ہیں۔ دونوں سے ملے تو ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی اپنا بچھڑا ملا ہو۔ عمار یاسر بھائی سے تو کافی دفعہ پاکستان میں ملاقات ہو چکی تھی لیکن فیاض قرطبی بھائی سے پہلی روبرو ملاقات تھی۔


پہلے مرحلے میں توپ کاپ سرائے کی سیر کا فیصلہ ہوا اور ہم گپ شپ کرتے توپ کاپ میوزیم کی طرف چل پڑے۔ ہلکی ہلکی بارش جاری تھی۔ پاکستان کی گرمی سے بے حال دوست خوشگوار موسم سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ میوزیم کے داخلی دروازے پر ٹکٹ لینے والوں کی قطار لگی ہوئی تھی۔ ہم بھی اس قطار کا حصہ بن گئے۔ تھوڑی دیر کے انتظار کے بعد ہماری باری بھی آ گئی اور میوزیم کے ٹکٹ لے کر داخلی دروازے کی طرف روانہ ہوئے۔
توپ کاپ سرائے 1453 میں استنبول کی فتح کے فورا بعد ہی فاتح سلطان کی طرف سے تعمیر ہونا شروع ہو گیا تھا اور 1478 میں اس کی تعمیر مکمل ہو گئی۔ خلافت عثمانیہ کے آخری دور میں دولمہ باہچے سرائے کو محل بنا دیا گیا۔ دولمہ باہچے بھی ایک انسانی شاہکار ہے۔ وقت کی قلت کی وجہ سے وہاں نہ جا سکے۔

توپ کاپ سرائے 1923 میں خلافت عثمانیہ کے خاتمے بعد 1924 میں میوزیم میں تبدیل ہو گیا۔ میوزیم میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے انبیاء اور صحابہ کی باقیات والے حصے کا رخ کیا۔ حضرت موسی کا عصا، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیالہ، خانہ کعبہ کا غلاف اور مختلف صحابہ کی تلواریں موجود ہیں۔
سرائے کے بیرونی حصے اور باغیچے کا رخ کیا تو خوبصورت نظارہ دیکھنے کو ملا۔ سرائے کا عقبی حصہ سمندر سے متصل ہے۔ اسے آبنائے باسفورس کے دہانے پر تعمیر کیا گیا ہے اور بہت ہی خوب صورت منظر ہے۔ ڈھیر ساری تصاویر بنائیں۔ سرائے کے حرم والے حصے کا رخ کیا جو مکمل طور پر بند کمروں پر مشتمل ہے۔ یہ محل کی خواتین کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ کمروں میں روشنی کا انتظام بہت بہترین تھا۔ چھت اور دیواروں میں شیشے نصب کر کے سورج کا بہترین انتظام کیا گیا تھا جو آج بھی کسی شاہ کار سے کم نہیں۔
سرائے سے نکلتے نکلتے ظہر کا وقت ہو گیا۔ سلطان احمد مسجد کے میناروں سے خوبصورت آواز میں اذان سنائی دی۔ دیگر سیاحوں کی طرح ہم بھی مسجد کی جانب تیزی سے چلنے لگے۔ سلطان احمد مسجد نماز کے اوقات میں صرف نمازیوں کے لیے کھلی ہوتی ہے۔ دوسرے اوقات میں مسجد سب کے لیے کھلی ہوتی ہو لیکن حجاب پہن کر داخلہ لازمی ہے۔ وضو کے بعد نماز کی ادائیگی سے فارغ ہوئے اور اپنی اگلی منزل کی جانب چل پڑے۔
ہماری اگلی منزل کوئی اچھا سا ریسٹورنٹ تھا۔ صبح سے کافی گھومنے پھرنے کے بعد بھوک بھی شدید لگی ہوئی تھی۔ تھوڑی ہی دیر کی تلاش کے بعد بہت ہی مناسب اور اچھا ترکش ریسٹورنٹ مل گیا۔ ترکش کھانوں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ دنیا کے ہر کونے سے آیا شخص یہاں کھانا کھا سکتا ہے۔ پیٹ پوجا کے بعد آبنائے باسفورس کی سیر کا ارادہ لیے سمندر کنارے کی طرف چل پڑے۔
بارش کافی تیز ہو گئی تھی اور ہم تھک بھی گئے تھے۔ اس لیے ہم نے فورا ٹکٹ لیے اور کروز میں بیٹھ گئے۔ اندر درجہ حرارت بہتر تھا لیکن چھت پر بہت ٹھنڈ تھی۔ ہلکی ہلکی بارش سے لطف اندوز ہو رہے دوست اب سردی سے ٹھٹھر رہے تھے۔ عمار بھائی نے تو بیگ سے جرسی نکال کر پہن لی تھی۔ دو گھنٹے کی اس سیر میں آبنائے باسفورس کے دائیں بائیں موجود تاریخی جگہوں کا نظارہ کافی دلکش تھا۔ ہلکی ہلکی غنودگی بھی طاری ہو رہی تھی۔


کروز سے اترتے ہی سپائس بازار کا رخ کیا۔ سارے دوکاندار پاکستانی پاکستانی کہ کر اپنی طرف بلا رہے تھے۔ ہم نے بازار کا ایک چکر لگایا اور باہر کی طرف نکل پڑے۔ اب تھک تو کافی چکے تھے لیکن ہمت کر کے تاقسیم دیکھنے کا فیصلہ کیا اور ٹرام پر بیٹھ کر روانہ ہوئے۔
تاقسیم پہنچ کر میرے ایک پاکستانی دوست کے ریسٹورنٹ پر چلے گئے۔ گرم گرم سموسے اور چائے پی کر خود کو ریلیکس کیا۔ کافی دیر بیٹھ کر گپ شپ کی اور فیاض بھائی کے تجربات سے مستفید ہوئے۔ ریسٹورنٹ سے نکلے تو مشہور استقلال سٹریٹ کی طرف قدم بڑھا دیے۔
استقلال سٹریٹ میں رنگ برنگی دنیا ہے۔ ہر نسل اور ملک کے لوگ گھومتے نظر آ رہے تھے۔ کچھ نوجوان گانے بجا کر پیسے مانگ رہے تھے اور یہ سلسلہ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر جاری تھا۔ کچھ لوگ نئے آنے والے لوگوں کو مساج کا جھانسہ دیکر نائٹ کلبز کی دعوت بھی دے رہے تھے۔ خیر ان کی بات ان سنی کرتے ہوئے ہم آگے بڑھے اور راستے میں مشہور آئس کریم والے نظر آئے۔ عمار یاسر بھائی کی خواہش کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم  ان سے آئس کریم لینے چلے گئے۔ آئس کریم والے نے ہم تینوں کو خوب تنگ کرنے کے بعد جان چھوڑی۔ آئس کریم کھاتے ہوئے گلاتا ٹاور کی جانب چلتے گئے اور راستے میں فیاض قرطبی بھائی کے کاروباری مشوروں سے بھی استفادہ کرتے گئے۔ گلاتا ٹاور کے سامنے رکے چند تصاویر بنائیں اور اپنی آخری منزل ہوٹل کی طرف چل پڑے۔
فیاض بھائی کو ٹیکسی پر بٹھا کر الوداع کیا اور دوبارہ ملاقات کی تمنا کے ساتھ جدا ہو گئے۔ اب میں اور عمار یاسر بھائی اکٹھے تھے۔ عمار بھائی کافی تھک چکے تھے لہذا آج کے دن کا اختتام یہیں کرنے کا فیصلہ کیا۔ ٹرام پر سوار ہوئے۔ عمار بھائی کا ہوٹل راستے میں ہی تھا۔ عمار یاسر بھائی اپنے سٹاپ پر اتر گئے اور میں بھی ایک لمبے پرتکان لیکن دلچسپ دن کے بعد گھر کی جانب چل پڑا۔ گھر پہنچا تو میری پیاری اور ننھی بیٹی فاطمہ فاروق میرا انتظار کر رہی تھی۔ اسے گلے لگاتے ہی سارے دن کی تھکاوٹ اتر گئی۔
ترکی سیاحت کے لحاظ سے بہت بہترین ملک ہے۔ سستا بھی اور خوبصورت بھی۔ ہمیں امید ہے کہ یہ ٹوٹا پھوٹا احوال سیاحت آپ کے دل میں سفر ترکی کی تمنا جگا چکا ہوگا۔

*عمر فاروق پاکستان کے شہر نارووال سے تعلق رکھتے ہیں۔ گزشتہ سات سال سے ترکی میں مقیم ہیں۔ کوجالی یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں گریجویشن کی۔ دو سال سے ایک بین الاقوامی این جی او میں بطور یورپ ایشیا ہیڈ کام کر رہے ہیں۔

تبصرے
Loading...