اس خطہ زمین پر کوئی طاقت نہیں جو ہمارے وطن کو کمزور کر سکے، رجب طیب ایردوان

0 210

صدر رجب طیب ایردوان نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ اس خطہ زمین پر کوئی طاقت ہمارے وطن کو کمزور نہیں کر سکتی جب تک ہماری ملت ایمان کے اسلحہ سے لیس رہے گی، یہ ایمان کی طاقت ہی تهی جس نے 15 جولائی 2016ء کی رات انقلابیوں کو شکست دی تهی-
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد تنظیم PKK کی دہشت گردانہ کارروائیوں میں نشانہ بننے والوں میں اکثریت کردوں کی ہی ہے- اسی طرح دہشت گرد تنظیم داعش نے ہر اس مسلمان کو نشانہ بنایا جس کا تعلق اسلام، تاریخ، ثقافت اور اسلامی تہذیب سے تها حالانکہ داعش نے دعوی اسلامی ہونا کا کیا تها- اور وہ تمام 249 لوگ جو 15 جولائی 2016ء کی رات دہشت گرد تنظیم گولن کی بغاوت میں شہید ہوئے اس امت کے سپوت تهے-
انہوں نے کہا کہ PKK, گولن (Feto) اور داعش ان سب کے مقاصد مشترک ہیں- ایک دوسرے سے مختلف نظر آنے والے یہ دہشت گرد گروہ ایک دوسرے کے دست گریباں نظر آتے ہیں لیکن ان کے مقاصد یکساں ہیں اگر مختلف ہے تو وہ صرف نام ہیں-

صدر ایردوان نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ
"آپ کیا سمجهتے ہیں کہ بیک وقت ان تینوں گروہوں کی بندوقوں کا رخ ہماری طرف اتفاقا ہے ؟ بالکل نہیں- ان کے صرف نام مختلف ہیں ان سب کا پس پردہ ہدف ترکی ہے-”
اور ہر دور میں ان جیسے غداروں نے ہمیشہ اس امت کو نقصان پہنچایا ہے-

ترکی میں صوبائی نظام کے قیام کا کوئی ارادہ نہیں

صدر رجب طیب ایردوان نے آج مولانا جلال الدین رومی کے شہر قونیا میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترکی میں صوبائی نظام کا قیام ایجنڈے میں شامل نہیں اور نہ ہوگا-
انہوں نے خطاب میں بتایا کہ ﻣﯿﮟ ﻭحدتی ﻣﻠﮑﯽ ﮈﮬﺎﻧﭽﮯ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻋﻠﻤﺒﺮﺩﺍﺭ ﮨﻮﮞ-
ترکی ایک واحد مملکتی ڈهانچے کا ملک ہے- اور 1923ء ترک جمہوریہ کے قیام سے اب تک کبهی انتظامی اختیارات کے ساته صوبائی نظام نہیں قائم کیا گیا- یہ سب طے شدہ ہے-
صدر ایردوان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ترک اپوزیشن جماعت MHP کے رہنما دولت بیچالی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تها کہ 16 اپریل کو ہونے والے مجوزہ آئینی ترامیم پر ریفرینڈم کے بعد حکمران جماعت کا ارادہ صوبائی نظام قائم کرنے کا ہے-

اس سے قبل آج بروز جمعہ وزیراعظم ترکی بن علی یلدریم نے بهی کہا کہ آئینی ترامیم میں ایسی کوئی شق موجود نہیں اگر ایسا ہے تو میں آج ہی تمام عہدوں پارٹی قیادت اور اپنے وزارت عظمی کے عہدے سے استعفی دے دوں گا-
ایک ملک، ﻗﻮﻡ، ﭘﺮﭼﻢ ﺍﻭﺭ ﻭﻃﻦ ﯾﮧ ہمارے ﻧﺎﻗﺎﺑﻞ ِ ﺗﺴﺨﯿﺮ ﭼﺎﺭ ﺍﺻﻮﻝ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﻗﻮﻡ ﭘﺮﺳﺖ ﺍﻭﺭ ﺁﺋﯿﮉﯾﺎﻟﻮﺟﺴﭧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺑﮭﺎﺋﯽ واحد ﻣﻤﻠﮑﺖ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ ﭘﺮ ﺣﺴﺎﺳﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺣﺴﺎﺳﯿﺖ ﺑﮭﯽ ﮐﻢ ﺍﺯﮐﻢ ﺍﺳﯽ ﺳﻄﺢ ﮐﯽ ﮨﮯ- ﺍﺱ ﻣﻮﺿﻮﻉ ﭘﺮ ﺑﺤﺚ ﭼﮭﯿﮍﻧﺎ ﺍﺱ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﯼ ﻧﺎ ﺍﻧﺼﺎﻓﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ۔

تبصرے
Loading...