اس قوم کو نیچا نہیں کیا جا سکتا جس میں اتحاد و یکجہتی کی روح موجزن ہو، صدر ایردوان

0 454

استنبول میں تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا: "ماضی میں انتشار، ہنگامہ آرائی اور عدم اعتماد ترکی کے چھپے ہوئے مسائل تھے۔ ہم نے 14 سالوں میں ترکی کو ماضی کے مقابلے میں تین گنا زیادہ طاقتور بنا دیا ہے۔ یہ سب ہم نے استحکام اور اعتماد کی فضاء قائم کر کے حاصل کیا ہے۔ تاہم قطع نظر ہم نے جو بھی کیا،جب نظام میں خرابی موجود ہے تو یہ کسی مرحلے پر سب ختم کیا جا سکتا ہے”۔

تاجر اور کاریگر ترکی کے لیے پیراماؤنٹ اہمیت کے حامل ہیں

تاجروں اور کاریگروں کی ملکی تعمیر میں معمار کی حیثیت واضع کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا: "جب ہم اپنے شہیدوں اور غازیوں کے پیشے پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان میں زیادہ تر تاجر اور کاریگر تھے۔ جس طرح انہوں نے ملک کو سنبھالا اور دفاع کیا اس طرح کسی اور طبقے نے نہیں کیا۔ اس قوم کو نیچا نہیں کیا جا سکتا جس میں اتحاد و یکجہتی کی روح موجزن ہو”۔

صدر نے مزید کہا: "تاجر ترک کلچر میں اخلاق، نظم وضبط اور یکجہتی پیدا کرنے کے بنیادی رکن ہیں”۔ انہوں نے کہا: "ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے ملک کے لئے تاجروں اور کاریگروں کی کتنی اہمیت ہے اور ہم اسے دیکھتے ہوئے ہی پالیساں بناتے ہیں”۔ہم چاہتے ہیں کہ مارکیٹ کے سفاکانہ مقابلے اور ماحول میں ہمارے تاجروں اور کاریگروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے”۔

ترکی تمام مسائل پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتا ہے

صدر ایردوان نے کہا: "ترکی ایسی صلاحیت اور سہولیتں رکھتا ہے کہ تمام مسائل پر قابو پا سکے”۔ انہوں نے کہا: "ماضی میں انتشار، ہنگامہ آرائی اور عدم اعتماد ترکی کے چھپے ہوئے مسائل تھے۔ ہم نے 14 سالوں میں ترکی کو ماضی کے مقابلے میں تین گنا زیادہ طاقتور بنا دیا ہے۔ یہ سب ہم نے استحکام اور اعتماد کی فضاء قائم کر کے حاصل کیا ہے۔ تاہم قطع نظر ہم نے جو بھی کیا،جب نظام میں خرابی موجود ہے تو یہ کسی مرحلے پر سب ختم کیا جا سکتا ہے”۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی لوگوں کو ماضی کے مسائل میں دوبارہ واپس لے جانے کا حق نہیں رکھتا۔ "اس لیے ہم نے نظام حکومت کو بدلنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ نظام میں استحکام اور اعتماد کی روح پیدا کی جا سکے”۔

نیا نظام حکومت ہماری ریاست کو مزید طاقتور بنا دے گا

نئے نظام سے رجیم بدل جائے گی اس دعویٰ پر تنقید کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا: "رجیم نہیں بدل رہی۔ نظام حکومت میں ترمیم کی گئی ہے جس میں ہماری ریاست مزید مستحکم و مضبوط ہو گی۔ وہ کہتے ہیں ‘پارلیمنٹ بند ہو جائے گی، غیر فعال ہو جائے گی’۔ نہیں، یہ کھلا جھوٹ ہے پارلیمنٹ بند نہیں ہو گی، صدر کے پاس پارلیمنٹ کو توڑنے کا کوئی اختیار نہیں ہے اس کے برعکس صدر وہ کرے گا جو پارلیمنٹ فیصلہ کرے گی۔ صدر کے پاس قانون سازی کا کوئی حق نہیں ہوگا، صرف بجٹ بنا سکتا ہے۔ جبکہ پارلیمنٹ کے ممبر قانون بنا سکیں گے”۔

تبصرے
Loading...