امام غزالی اور جدید دنیا میں تلاشِ علم – ابراہیم قالن

0 529

ابراہیم قالن، پی ایچ ڈی ڈاکٹر اور ترک صدر رجب طیب ایردوان کے چیف مشیر اور ترجمان ہیں، اس کے علاوہ وہ پرنس الولید سنٹر فار مسلم کرسچیئن انڈرسٹینڈنگ، جارج ٹاؤن یونیورسٹی، امریکا کے ایسویسی ایٹ فیلو بھی ہیں۔ انہیں ایک تربیت یافتہ اسلامی اسکالر گردانا جاتا ہے۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف اور کئی مضامین و نشر پاروں کے مقالہ نگار بھی ہیں۔ آپ ترکی کے متعلقہ موضوعات پر ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں۔

 اس وقت جب معلومات کو علم سمجھ لینا اور دانائی کو بھول جانا بہت آسان ہے، یہ اہم ہے کہ ہم آگے بڑھنے سے پہلے بنیادی تصورات سے آگاہ ہو جائیں۔ اس جدید دنیا کے اندر سچے علم کی تلاش میں ممتاز اسلامی اسکالر امام غزالی ہی ایسی شخصیت ہیں جو ہمیں دانائی تک پہنچا سکتی ہیں۔

امام غزالی کا اپنے معاصر اہل علم سے مختلف ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایسے مفکر ہیں جنہوں نے علم کے مختلف راستوں کا سفر کیا جن میں روایتی سائنس بھی شامل ہے اور مذہبی قوانین، تھیالوجی، فلاسفی اور میٹا فزکس پر بڑے سوالوں کے ساتھ سامنے آئے۔ اپنی خودنوشت جو "غلطی سے نجات” (المنقذ من الضلال) کے نام سے موجود ہے، اس میں وہ اپنے تلاشِ علم کی روداد اور اس سفر کے ایسے دھوکوں کے بارے بتاتے ہیں جن سے علم اور جوہرِحقیقی کے ایک سچے متلاشی کو متنبہ رہنا چاہیے تاکہ وہ اپنا درست راستہ کھو نہ دے۔

امام غزالی قرآن و سنت کی روحانی دانشکدہ دنیا میں رہے اور مذہبی علماء کو اپنے پائیدار خیالات سے بہرہ مند کیا. علم کے مختلف شعبوں کو یکجا کرنے کی صلاحیت نہ صرف ان کی ذاتی فراست کی شہادت تھی بلکہ ایسے دانشمندانہ اور روحانی ماحول کی عکاس بھی تھی جس میں وہ بطور مفکر اور محّقق پروان چڑھے۔ وہ ایک ایسے ثقافتی اور تعلیمی ماحول میں امتیازی مقام تک پہنچے جہاں علم کی حیثیت ایک اعلیٰ جوہر کی سی تھی اور علم رکھنے والے احترام کے بلند درجے پر فائز تھے۔ ظاہر ہے یہ درجہ قرآن مجید کی پیدا کردہ اہمیت سے پیدا ہوا جو وہ علم کے ساتھ جوڑتا ہے۔

علم اور اس سے متعلقہ ناموں کے الفاظ قرآن مجید میں 750 سے زائد مقامات پر استعمال ہوئے ہیں۔ علم کو الہام، قصص الانبیاء، انسانی نظریات یا فطری دنیا کا نام دیا جا سکتا ہے۔تقریباً ہر تمثیل میں علم، معلومات سے حد درجہ وسیع اور زیادہ اصل چیز ہے۔  علم ایک نشانی (آیت) کی طرح ہوتا ہے جس کی وضاحت دانا لوگ کرتے ہیں جس کا مقصد نہ صرف دنیا کے بارے کسی کا شعور وسیع کرنا ہوتا ہے جس میں ہم سب رہتے ہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری اور روحانی راستے کا ادراک بھی کروانا ہوتا ہے۔ ایک سچا علم ہمیشہ عقیدے اور نیکی کی طرف لے جاتا ہے کیونکہ تمام علوم ایسے چشمے تک پہنچاتے ہیں جہاں سے تمام اشیاء نکلی ہیں۔

اصل اور منبع جانے بغیر کوئی شخص بھی سچا اور مکمل علم نہیں پا سکتا۔ جیسا کہ ارسطو نے کہا تھا، کوئی بھی وجہ جانے بغیر اس کے اثرات کے متعلق نہیں جان سکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام وجوہات کی اصل وجہ ہے اور تمام اثرات کا منبع و مرکز اس لیے لاینحل طور پر سارا سچا علم اس ذات کی پہچان سے جڑا ہے جو سب کا خالق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید علم، عقیدہ اور نیکی میں مضبوط تعلق قائم کرتا ہے۔

ان معنوں میں علم "دماغی ورزش” کا نام نہیں ہے، یہ صرف تعلیم کا نام نہیں ہے اور نہ یہ ایسا آلہ ہے جس دنیائے فطرت کی جوڑ توڑ کی جائے۔ اس کے بجائے سچا علم یہ ہے کہ اشیاء کی حقیقت اور وجود کی تبدیلی کے عمل میں خود کو مصروف جائے یہ تبدیلی لاتا ہے اور جاننے والے میں پختگی لاتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ  بہت انفرادی ہے کہ وہ علم کی قوتِ انقلاب سے خود کو دور نہیں رکھ پاتا۔ حقیقی علم ہمیں صرف دانائی ہی نہیں دیتا بلکہ نیکی اور پُرسکون روحانی دنیا میں  لے جاتا ہے۔

امام غزالی علم، دانائی اور نیکی کے اس اسلوب ترکیبی کے ایک  چوٹی کے تخلیق کار ہیں اپنی کتابوں میں جن میں "احیاء علوم الدین”، "المصطفیٰ”، "الاقتصاد فى الاعتقاد”، "مشکوٰۃ الانوار” اور "تهافت الفلاسفہ” شامل ہیں وہ الہام اور مدلل علم کے اہم تعلق کا اظہار کرتے ہیں۔ جیسا کہ سچا علم ہمیں چیزوں کی اصل حقیقت سے آگاہ کرتا ہے، یہ ہمیں دعوت بھی دیتا ہے کہ ہم اس علم کے مطابق کام بھی کریں۔ یہ سمندر اور ہواؤں کے بارے سب کچھ جاننے جیسا نہیں ہے، اگرچہ یہ اہم ہے لیکن بادبان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کے مطابق عمل بھی کرے ورنہ وہ بحری سفر نہیں کر سکتا اور نہ ہی سمندری طوفانوں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ صرف جان لینا کافی نہیں ہے بلکہ ایک ایسی دانائی کی بھی ضرورت ہے جو درست اور غلط کی پہچان بھی بتا سکے اور اخلاقی راستے پر بھی چلائے۔

سچا علم حاصل کرنا ایک سنجیدہ کوشش کا نام ہے اور اس کے لیے دانشمندی اور روحانی اخلاص ضروری ہے۔ اس سے ہی ایک انسان معلومات سے علم کی طرف جاتا ہے، علم سے دانائی کی طرف رجحان پکڑتا ہے اور دانائی سے نیکی اور روحانی نفاست کی راہ پرجاتا ہے۔ آج اس کو یاد کرنا ضروری ہے جب ہم بڑے تفاخر کے سوچتے اور کہتے ہیں کہ تمام "معلومات” میری کمپیوٹر اسکرین پر موجود ہیں۔ یہ اسکرین چاہیے کتنی ہی رنگین اور درست کیوں نہ ہو، ہمیں علم، دانائی اور جوہر حقیقی تک نہیں پہنچا سکتی۔ ہمیں پہچان رکھنی چاہیے کہ یہ متاہِ حقیقی کہاں سے مل سکتی ہے۔

تبصرے
Loading...