امریکا! یہ ہے تمہاری حقیقت – حقی اوکال

0 489

حقی اوکال

ایک ہفتہ بھی نہیں ہوا ہے جب وائٹ ہاؤس کے ترجمان سین سپائسر نے کہا تھا کہ بشار الاسد ایک سیاسی حقیقت ہے جسے تسلیم کرلینا چاہیئے
ایران اور روس کے پروں کے نیچے چھپے یوئے بشار کیلئے یہ بیان بہت کچھ سے بھی زیادہ حوصلہ افزا تھا کہ وہ ادلب کے معصوم شہریوں اور بچوں پر زہر برسا دے۔
اب امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹیلرسن ایران اور روس سے درخواست کررہے ہیں کہ عام شہریوں کا قتل عام روکا جائے 
یہ بات سمجھ لینی چاہیئے کہ داعش کی شام کے اندر دہشت گردی کا خاتمہ ہونا چاہیئے۔ ترکی نے 24 اگست سے آزاد شامی فوج کی اپنے ٹینکوں اور سپاہیوں سے مدد شروع کی تاکہ ترکی داعش سے اپنا بارڈر صاف کردیں۔ فرات ڈھال نامی اس آپریشن کے ذریعہ 2015 مربع کلومیٹر کا رقبہ داعش سے چھڑا لیا گیا اور وہاں بشار الاسد رجیم کے بجائے آزاد شامی فوج کو مستحکم ہونے میں مدد دی گئی
ترکی نے اسدی فوجیوں کو بھی ان قصبوں میں داخل نہیں ہونے دیا اور پی کے کے کی ڈیموکریٹک یونین پارٹی پی وائی ڈی کو یہاں آفرین اور کوبانی صوبوں کے درمیان نام نہاد نیا صوبہ بنانے نہیں دیا۔
ترکی کی یہاں پر کوئی ملٹری بیس یا ایئرپورٹ موجود نہیں ہے لیکن پھر بھی آزاد شامی فوج صرف مہینہ بھر کے اندر اس قابل ہوگئی کہ اسدی رجیم اور داعشی دہشت گردوں کو یہاں سے مار بھگا سکیں۔ ترکی کھلے عام امریکا اور اس کے 59 اتحادیوں کو پیش کش کرچکا ہے کہ آئیں اور رقعہ شہر کو داعش سے پاک کرالیں جو کہ داعش کے دعوے کے مطابق ان کا دارالحکومت ہے 
ترکی کی شکل میں امریکا کیلئے ایک مضبوط اتحادی پہلے سے یہاں پر موجود ہے
امریکا کو یہاں مسلح افواج بھیجنے کی ضرورت نہیں، اسےکوبانی میں ایئرپورٹ بھی نہیں کھڑے کرنے،اسے ٹنوں کے حساب سے خود کار ہتھیار اور اینٹی ٹینک آرٹلری پی وائی ڈی  کے دہشتگردوں میں تقسیم نہیں کرنا چاہیئے۔ جس کے بارے میں ترکی خبردار کرچکا ہے کہ یہ لوگ پی کے کے کیلئے ترکی بارڈرز میں داخلے کی رسائی دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ترکی بار بار یہ یقین دہانی کراچکا ہے کہ وہ شام کی جغرافیائی سالمیت کا احترام کرتا ہے جبکہ دوسری طرف پی وائے ڈی مقبوضہ علاقوں میں نسلی تطہیر پر ایمان رکھتی ہے اور عرب و ترکمانی قبائل کو وہاں سے بے دخل ہونے پر مجبور کرتی ہے۔ اس کا لیڈر برملا کہہ چکا ہے کہ رقعہ شہر ان کے آزادہ کردہ علاقوں کا حصہ ہونا چاہیئے اور اسے شام کے وفاقی حکومت میں شامل ہونا چاہیئے۔ یہ چیز محض سول وار کو بڑھانے کا سبب بنے گی۔

لیکن نہیں! امریکا، ایک ایسا ملک جس کا "لچکدار ملٹری ریسپانس” ڈاکٹرائن کہتا ہے کہ وہ بیک وقت ڈھائی جنگ لڑسکتا ہے یہ کام اپنے بہترین دہشت گرد دوستوں پی کے کےاور پی وائی ڈی کو ٹھیکے پر دے چکی ہے۔
ہم ایک ایسے ملک کے بارے میں بات کررہے ہیں جہاں کے سکالر اور سیاستدان اپنے دہشت گردوں کو آپ کے دہشت گردوں کی فہرست سے علیحدہ رکھتے ہیں۔ کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ یہ پراکسی جنگ کا دور ہے۔ 
وائٹ ہائوس کے نظریہ ساز پچھلے ہفتے اپنی ظالمانہ تدبیر پر بڑے خوش تھے جب وہ کہہ رہے تھے کہ بشار اسد کو ایک حقیقت کے طور پر مان لینا چاہیئےان کا خیال تھا کہ اس طرح وہ اسد کی فوجوں کو فاصلے پر رکھنے میں کامیاب ہوجائیں گے جب وہ پی وائی ڈی کو ٹرین کرکے مسلح کریں گے اور رقعہ شہر پر چڑھائی کریں گے۔

شام میں اس طرح نیم پختہ عسکری تدبیریں ڈیزائن کرنےاور انہیں عملی جامہ پہنانے والوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ ان کی مشنریز اس زمین پر ان کیلئے ایک آزاد کردستان تعمیر نہیں کر سکتے۔ انہیں چاہیے کہ اپنی نظریں زہریلی گیس اور کیمیائی ہتھیاروں سے مرے ہوئے شامی بچوں کے لاشوں پر ڈالیں۔ یہی ان کیلئے حقیقت ہے۔

تبصرے
Loading...