ایردوان سے کشید شدہ حکمت! – وسیم گل

0 399

وسیم گل ٹیلی کام کے شعبے سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ہیں، وہ سویڈش ٹیلی کام ملٹی نیشنل اریکسن میں کام کر رہے ہیں اور چین کے شہر بیجنگ میں رہتے ہیں

اردگان کے طرز فکر و عمل سے کشید شدہ حکمت

خلافت کا خاتمہ اور جدید قومی ریاست کا ظہور امت مسلمہ کے لئے کسی امتحان سے کم نہیں- تاہم زندگی نام ہی ناممکنات میں سے امکانات کی راہیں ڈھونڈنا ہے- بطور مسلمان ہم "تصور امت” سے انکار نہیں کر سکتے اور نہ ہی تب تک چین سے بیٹھ سکتے ہیں جب تک "ایک امت- ایک خلافت” کا خواب حقیقت کا روپ نہ دھار لے- لیکن ہر معاملے کی طرح امت و خلافت کے معاملے کی بھی دو پرتیں ہیں:

ایک نظریہ (Theory)

اور

دوسرا اس کی عملی صورت گری (Practical Modelling)-

دور حاضر میں اس نظریہ کی عملی صورت گری کا عملی نقشہ ہمیں ایردوان کے فکر و عمل میں ملتا ہے- اس نے پہلے ساری کوشش ترک معاشرے میں اسلام پسند جماعت کی جڑیں مضبوط کرنے پر صرف کیں اور اپنے لئے جگہ بنائی- اس کے بعد اگلا مرحلہ ترکی کو امت کی سطح پر متحرک کرنے کا تھا- اس وقت امت مسلمہ پوری دنیا میں پھیلی ہے اور قریب ساٹھ مسلم ریاستوں کی صورت ایک بڑا جغرافیہ بھی رکھتی ھے- ایردوان ترکی کو اس پوری امت کا حصہ (یونٹ) سمجھتے ہوئے پیش قدمی کر رہا ہے- اس کی ساری توجہ اور کوشش کا محور و مرکز اس کا ملک ترکی ہے جسے سیاسی’ معاشی’ فوجی میدانوں میں آگے لے جانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کوشش سے جو ثمرات حاصل ہوتے ہیں ان سے ترکی کو مستفید کرنے کے ساتھ ساتھ پوری امت کو بھی پہنچانے کی کوشش کرتا ہے- اس طرح وہ ترکی اور ترکی کے اسلام پسندوں کے لئے نقصان کے امکان کو کم سے کم رکھتا آگے بڑھتا جا رہا ہے-

ایردوان کی یہ کوشش مسلم ریاستوں کے لئے بالعموم اور اسلامی تحریکوں کے لئے اپنے اندر بے شمار اسباق رکھتی ہے- اس سے پہلے مہاتیر محمد ملایشیا میں ایسی ہی کوششوں میں مصروف رہے اور امت کے اس یونٹ کو کافی آگے لے جانے میں کامیاب رہے-

ایردوان کوئی فرشتہ نہیں- غلطیاں اس سے بھی سرزد ہو سکتی ہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ اس وقت وہی ایک امید ہے-

نوٹ: آر ٹی ای اردو کا مصنف کی رائے سے جزوی یا مکمل اتفاق ضروری نہیں

تبصرے
Loading...