تذکرہ ابن خلدون اور ٹوائن بی: چیلنجز اور ان کا جواب – ابراہیم قالن

0 494

ابراہیم قالن، پی ایچ ڈی ڈاکٹر اور ترک صدر رجب طیب ایردوان کے چیف مشیر اور ترجمان ہیں، اس کے علاوہ وہ پرنس الولید سنٹر فار مسلم کرسچیئن انڈرسٹینڈنگ، جارج ٹاؤن یونیورسٹی، امریکا کے ایسویسی ایٹ فیلو بھی ہیں۔ انہیں ایک تربیت یافتہ اسلامی اسکالر گردانا جاتا ہے۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف اور کئی مضامین و نشر پاروں کے مقالہ نگار بھی ہیں۔ آپ ترکی کے متعلقہ موضوعات پر ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں۔

ترک خارجہ پالیسی کے حالیہ تحرک نے روس، عراق، ایران، آزربائیجان، قازقستان، ازبکستان، سعودی عربیہ، قطر، متحدہ عرب امارات، اسرائیل، یورپی یونین، بلقان ممالک اور کئی اہم افریقی قوموں کے ساتھ تعلقات کے امکانات پیدا کر دئیے ہیں۔ عوامی تحفظ یونٹس (کرد پی وائے ڈی) جو کہ کالعدم پی کے کے کی شامی پرانچ ہے کو امریکا کی طرف سے کھلی امداد دینے کے معاملے پر اختلافات کے باوجود ترکی نے خطے کے کئی مسائل پر اوبامہ انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔ جوہری طور پر ترکی ایک متوازن پالیسی کا خواہاں رہا ہے جس میں مشرق اور مغرب، یورپ اور مشرق وسطیٰ، یوریشیا اور افریقہ، اور شمالی اور لاطینی امریکا کے درمیان برابری روا رکھی جاتی ہے۔
اس پیش منظر کا اہم نکتہ یہ امر ہے کہ ترکی خارجہ پالیسی کو زیرو سَم گیم نہیں سمجھتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ترکی کا ناٹو ممبر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ روس اور چین کے ساتھ اچھے تعلقات نہیں رکھ سکتا۔ ترکی کے مسلم دنیا کے ساتھ گہرے ثقافتی اور تاریخی گٹھ جوڑ اسے یورپی یونین کا مکمل رکن ملک بننے سے نہیں روکتے۔ ایسی کسی بھی مساوات پر باہمی طور پر کوئی تخصیص نہیں کی گئی۔ اس کے برخلاف اگر ان مساوات کو استعمال کیا جائے تو یہ دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنا سکتی ہیں جس کے ساتھ صدیوں پرانے تعصبات، غلط فہمیاں اور اسلامی دنیا اور یورپ کے درمیان سیاسی دشمنی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی تعلق کسی دوسرے تعلق کی قیمت پر نہ تو پیدا کیا جا سکتا ہے اور نہ اس سے فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ترکی کے لیے اس کی جغرافیائی سیاسی حیثیت، کئی خطوں اور براعظموں کے ساتھ تاریخی تعلقات، دفاعی مفادات اور عالمگیریت کے چیلنجز سے نبٹنے کے لیے بھی ایسی برابری اور متوازن پالیسی ضروری ہے۔ انسانی تلاش کے کسی بھی میدان میں تخفیف پسندی کام نہیں آتی۔ خارجہ پالیسی میں یہ حد درجہ اضافی چیز ہے۔ جبکہ کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ ترکی اپنے آپشنز کی ایک محدود سیٹ تک تخفیف کر لے جیسا کہ مغرب یا مشرق وسطیٰ۔ اس زمین پر موجود حقائق کے ساتھ ساتھ ترکی کے سرحدی منظرنامہ اس سے یہ چاہتا ہے بلکہ زور دیتا ہے کہ ترکی کے پاس کثیر آپشنز ہونا ضروری ہیں۔

اس پس منظر میں جو بات غور طلب ہے وہ شام میں گزرے ہوئے پچھلے 3 ماہ کی مثبت پیش رفت ہے۔ روس سے پچھلے سال جون سے تعلقات میں بہتری کے بعد ترکی نے روس کے ساتھ تعاون نہ صرف تیزی سے آگے بڑھایا ہے بلکہ روس کے ساتھ شام میں ہونے والی جنگ میں باہمی تعلقات میں بھی بہتری آئی ہے۔ امریکا اور اقوام متحدہ جنیوا معاہدوں کی روشنی میں شام کے اندر موثر جنگ بندی کروانے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں جبکہ ترکی اور روس نے مشرقی حلب میں ناصرف کامیاب جنگ بندی معاہدہ کروایا بلکہ انخلائی معاہدے پر بھی عمل درآمد کروایا۔ ملک گیر جنگ بندی معاہدہ جو کہ 30 دسمبر 2016 کو عمل میں آیا ابھی تک اسد رجیم اور عسکری گروہوں کی طرف سے کی جانے والی خلاف ورزیوں کے باوجود نافذ العمل ہے – نسبتاً یہ اس جنگ سے بہتر ہے جو کہ پچھلے 6 سالوں میں لاکھوں افراد کی جانیں لے گئی۔ اب اسد رجیم اور شامی حزب اختلاف آستانہ میں 23 جنوری کو بات چیت کے لیئے تیار ہیں۔

یہ حالیہ مثبت پیش رفت شام اور عراق کے انتہائی پیچیدہ اور دقیق نوعیت کے مسائل کی عکاسی کرتی ہے جو دنیا بھر کے سیاسی توازن پر مختلف طریقوں سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ دہشت گردی ایک عالمگیر مظہر بن چکا ہے جس کی کوئی سرحد نہیں ہے۔ مشرق وسطیٰ سے یورپ اور امریکا تک ناکام ریاستوں، کمزور حکومتوں، غیر ریاستی عناصر، طاقت کے حصول کے لیے ہونے والی دشمنیوں اور خفیہ جنگوں سے خطرات لاحق ہیں۔ یہ چیلنجز ایک عالمگیر تعاون کے ساتھ ردعمل کے متقاضی ہیں ورنہ ہر چیز اور ہر کوئی اس جدید دہشتگردی کے اندوہناک شعلوں میں جل کر راکھ ہو جائے گا۔ یہ منظرنامہ وسیع تر تناظر میں پوچھتا ہے کہ ہم ان یوگچیتنا چیلنجز سے کیسے نبردآزما ہوں جو انتہائی تباہ کن راستے اختیار کر چکے ہیں۔

اس مرحلے پر ہم دو نمایاں تاریخ دانوں سے مدد لے سکتے ہیں جو گزشتہ صدیوں میں گزرے ہیں۔ آرنلڈ ٹوائن بی جنہوں  نے چیلنجز اور ردعمل کے تناظر میں تہذیبی تبدیلی کے عمل کو بیان کیا ہے، تہذیب جو کہ انسانی معاشرے کی سب سے بڑی اکائی ہے یہ اس وقت پھلتی پھولتی ہے جب وہ غیر یقینی چیلنجز کا جواب تخلیقی صلاحیتوں سے دیتے ہیں۔ ان کو زوال اور موت اس وقت واقع ہوتی ہے جس وقت وہ خود کو درپیش چیلنجز کا تخلیقی جواب نہیں ڈھونڈ پاتے۔ اپنی شاہکار کتاب "تاریخ کا مطالعہ” میں ٹوائن بی قدیم وقتوں اور جدید دور کی مثالوں کا جائزہ لیتے ہیں کہ دکھا سکیں کیسے تہذیبوں اور (ہم شامل کریں تو) ریاستوں کا عروج و زوال، ان کو درپیش چیلنجز کو دئیے جانے والے ردعمل پر انحصار کرتا ہے چاہے وہ ردعمل اندونی ہو یا بیرونی۔ جیسا کہ انہوں نے لکھا ہے، "انسان اپنی اعلی حیاتیاتی صلاحیتوں یا جغرافیائی ماحول کے نتیجے میں تہذیب کو حاصل نہیں کرتا بلکہ کٹھن لمحات میں درپیش چیلنجز کے ردعمل میں جو اسے عصر حاضر کی بے مثال کوشش کرنے پر ابھارتا ہے”۔

بنیادی طور پر یہ وہی بات ہے جو ابن خلدون نے ٹوائن بی سے چھ صدیوں قبل کہی جب اس عظیم تونیسی تاریخ دان اور مفکر نے جائزہ لیا کہ کیسے لوگوں کا ایک گروہ ممتاز ہو جاتا ہے جب وہ اپنے گروپ میں  یکجہتی اور ہم آہنگی پیدا کر لیں۔ جسے تخلیقی انداز انہوں نے "اصابیہ” کہا۔ ابن خلدون نے یہ بھی وضاحت کی کہ کیسے اور کیوں یہ قومیں اور ریاستیں اپنی مسابقتی برتری کھو بیٹھتی ہیں جب وہ  اپنے حریف گروہ کے چیلنجز جواب دینا چھوڑ دیں جو اتحاد اور یکجہتی میں ان سے زیادہ مضبوط ہو۔

بحرانوں میں گھری اور کمزور سطح پر پہنچی ہوئی اس دنیا کی سیاست میں ہمیں جائزہ لینا ہو گا کہ مشرق سے مغرب تک کے ممالک کیسے ردعمل دے رہے ہیں اور/یا درپیش چیلنجز کو جواب دینے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ باہمی انحصار کے اس عالمگیر دور میں، کوئی ناکامی ایک الگ تھلگ واقعہ نہیں سمجھی جا سکتی، یہ طاقتوں کے عالمگیر توازن پر اثر انداز ہوتی ہے اور عدم توازن پیدا کرتی ہے۔ مشترکہ چیلنجز کے ردعمل میں نئی اور تخلیقی صلاحیتوں کی بالیدگی کے لیے ایک دوسرے کی مدد کرنا، عالمی سطح پر نہ صرف تمدنی ذمہ داری ہے بلکہ ہم سب کے تحفظ اور خوشحالی کے لیے ایک حکیمانہ ضرورت ہے۔

ترجمہ: غلام اصغر ساجد، ایڈیٹرآرٹی ای اردو

تبصرے
Loading...