ترکی، خلیج اور علاقائی ملکیت – ابراہیم قالن

0 415

ابراہیم قالن

ابراہیم قالن، پی ایچ ڈی ڈاکٹر اور ترک صدر رجب طیب ایردوان کے چیف مشیر اور ترجمان ہیں، اس کے علاوہ وہ پرنس الولید سنٹر فار مسلم کرسچیئن انڈرسٹینڈنگ، جارج ٹاؤن یونیورسٹی، امریکا کے ایسویسی ایٹ فیلو بھی ہیں۔ انہیں ایک تربیت یافتہ اسلامی اسکالر گردانا جاتا ہے۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف اور کئی مضامین و نشر پاروں کے مقالہ نگار بھی ہیں۔ آپ ترکی کے متعلقہ موضوعات پر ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں۔

 

صدر رجب طیب ایردوان نے حال ہی میں خلیجی علاقے اور مشرق وسطیٰ کے سنگم پر موجود تین خلیجی ممالک بحرین، سعودی عرب اور قطر کا دورہ کیا۔ حالیہ عالمی بدامنی اور خطے میں طاقت کے حصول کے لیے جاری دشمنیوں نے، مشرق وسطیٰ اور اسلامی دنیا کے سیاسی ڈھانچے اورعام شہریوں پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔ دفاع اور معیشت کے کٹھن چیلینجز سے نبٹنے کے لیے طاقت کا توازن اور نئے تنازعات سے بچنا اشد ضروری ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب تمام اہم اسٹیک ہولڈرز باہمی اتحاد و یکجہتی کے نئے دور کا آغاز کرتے ہوئے علاقائی ملکیت پر اپنا استحقاق قائم کریں۔

عالمگریت کے تحلیل ہوتے اثرات سے جو اب گمراہ کن ہو چکے ہیں خلیجی علاقہ باقی دنیا کی طرح مدافعت نہیں رکھتا- جیسے عالمگیر باہمی انحصار نے یورپی ممالک اور امریکی ریاستوں کو قریب کرتے ہوئے اتحاد پیدا کیے ییں، اسی طرح دنیا کے کئی حصوں بلخصوص اسلامی دنیا میں پرانے اتحاد ٹوٹ گئے اور کئی تنازعات اور جنگوں کے بیج بوئے گئے۔ سرد جنگ کے خاتے کے بعد عالمی طاقتوں کا توازن کوئی نیا آرڈرقائم نہیں کر پایا۔ بوسنیا جنگ، روانڈا قتل عام، عراق کی کویت پر یلغار اور پہلی خلیجی جنگ، 9/11 کے بعد امریکا کا افغانستان اور عراق پر حملہ، روس کاکریمیا سے الحاق، لیبیا، یمن اور شام میں جنگی چھڑپیں، عسکری گروہوں اور غیر ریاستی عناصر کا بڑھنا، منجملہ دنیا سرد جنگ کے بعد ایک نازک ترین صورتحال سے گزر رہی ہے۔ قطع نظر اصل وجوہات اور ان کے چھپے سازشی عناصر کے، یہ تنازعات مشرق وسطیٰ کی اقوام کے مابین قریبی تعاون ناگزیر بناتے ہیں۔ مزید ایک طرف پرتشدد شدت پسندی جو القاعدہ اور داعش کی صورت پھیل رہی ہے اور دوسری طرف سنی اور شیعہ مسلمانوں میں بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ تنازعات ہم سے ایک طویل المعیاد وژن اور دانا سیاسی قیادت کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مسلمانوں کو پُرتشدد شدت پسندی اور فرقہ وارایت کی اجازت نہیں دینا ہو گی کیونکہ یہ چیزیں ان کے عقیدے اور مستقبل کو تباہ کر رہی ہیں۔ بین الاقوامی ادارہ برائے امن بحرین میں صدر ایردوان نے خطاب کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ کیلئے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور خبردار کیا کہ: "ہم اپنے مستقبل کو دوسروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے”۔

علاقائی ملکیتوں کو دفاعی اور معاشی تعاون کے شعبوں میں باہمی تبادلہ خیالات کو بڑھا کرمشرق وسطیٰ اور اسلامی دنیا کے بحرانوں اور چیلینجز سے نبٹنا ہو گا۔ اس کا مطلب قطعی طور پر یہ نہیں ہے کہ ہم باقی دنیا سے رخ موڑ لیں۔ "تیسری دنیا” کا قیام اور کسی سے رخ موڑ لینا اس نفیس اور کثیر رخی دنیا میں کام نہیں آنے والی  جس میں ہم رہ رہے ہیں۔ اس کے برعکس علاقائی مالکان کو دنیا کیلئے کشادہ دلی کی حوصلہ افزائی کرنا ہو گی۔ یہ باہمی جیت کی صورتحال اسی وقت پیدا کر سکتی ہے جب دوسروں کو ایسے علاقائی مسائل نہ ملیں جس سے وہ اپنے مفادات کے لیے سازشیں کرتے ہیں۔ ترکی اپنے پڑوسی اور اسلامی دنیا سے باہمی عطائے اختیار کی پالیسی پر گامزن ہے۔ یہ چاہتا ہے کہ علاقائی مسائل کے لیے علاقائی حل ہی پیدا کیے جائیں۔ اپنی ترجیحات کو درست کرنا ہی ایسا قدم ہے جو باہمی جیت کے رشتے تک پہنچا سکتا ہے جس سے ہمارے لوگوں کا تحفظ اور ترقی ہو گی پُر تشدد شدت پسندی اور فرقہ واریت کا خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب ہمیں یہ احساس ہو جائے کہ طاقت کا توازن تمام اکائیوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ جیسا کہ ہم نے حالیہ تنازعات میں دیکھا ہے کہ دوسرے ملکوں میں اپنے اثرات پیدا کرنے لیے پراکسی کے کھیل نے ہر ایک کو نقصان پہنچایا ہے۔ خود کو شکست دینے والے تنازعات میں کوئی بھی فتح کا علم بلند نہیں کر سکتا۔

گزشتہ عشرے میں ترکی نے خلیجی ممالک کے ساتھ وسیع البنیاد تعلقات قائم کیے ہیں۔ خلیجی تعاون ممالک (جی سی سی) کے ساتھ اس کا تجارتی حجم 16بلین ڈالر سے زیادہ ہے۔ دوطرفہ اقتصادی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے، یہ ناکافی ہے لیکن تجارت، توانائی، سیاحت، دفاعی صنعت، سائنس اور ٹیکنالوجی اور تعلیمی شعبوں میں تعاون کی ایک بنیاد بن سکتا ہے۔ جدہ میں 2008ء میں قائم ہونے والے ترکی-جی سی سی اعلی سطحی اسٹریٹجک ڈائلاگ میکانزم  نے نئی صلاحیتوں کے ادراک میں مدد دی ہے لیکن مزید نئے مواقع پیدا کرنے کے لئے اسے جاری رہنا چاہئے۔ ترکی نے جی سی سی ممالک کی سیکورٹی ترجیحات اور اقتصادی نقطہ نظر پر گہری توجہ دیتا ہے اور یمن، بحرین، لبنان، عراق، شام اور باقی جگہوں پر تنازعات کے حل کے لیے علاقائی اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔

ترکی اور جی سی سی کے درمیان آزاد تجارت کے معاہدے سے متعلق مذاکرات جاری ہیں اور اسی سال بحرینی مدت صدارت میں دستخط ہو سکتے ہیں۔ اس اپروچ کا جواب جی سی سی ممالک کی طرف سے ترکی کے پی کے کے اور فیتو کے متعلق سیکیورٹی خدشات کو سمجھنے کی صورت میں دیا گیا اور دونوں کو دہشت گرد تنظیموں  قرار دیا ہے۔ خاص طور پر سعودی عرب، قطر اور بحرین نے اپنےملکوں میں فیتو سے منسلک اداروں کی سرگرمیوں اور افراد کو روکنے کے لئے کئی اقدامات اٹھائے ہیں۔ داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں سے نظریاتی اور عسکری جنگ بھی تمام اکائیوں کا مشترکہ مقصد ہے۔ مسلم دنیا اور یورپی ممالک میں دہشتگردوں کی طرف سے اسلام کو تشدد اور دہشتگردی سے جوڑنے سے روکنے کے لیے مشترکہ کوششیں بھی اتنی ہی اہم ہیں۔ ترکی، سعودی عرب اور قطر شام میں تنازعہ کو حل  کرنے اور عراق میں امن و سلامتی کے قیام میں مدد کرنے کے لئے مل کر کام کر رہے ہیں۔ خطے کے ممالک کے درمیان قریبی تعاون سے ہم  سب کو مدد ملے گی کہ اپنے وسائل کو اپنے لوگوں کی  فلاح و بہبود اور امن کے لئے استعمال کر سکیں۔ عالمی چیلنجوں کے لیے ایک عالمی نقطہ نظر کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بیک وقت علاقائی شراکت اور اتحادوں سے اس کا سراہا جانا ضروری ہے۔ اپنی سرزمین پر لنگر گاہ کے بغیر کوئی بھی بدامنی اور عدم استحکام کی اس دنیا میں محفوظ سفر نہیں کر سکتا۔

ترجمہ: آر ٹی ای اردو

تبصرے
Loading...