ترکی امیدِ عالم اسلام – سعد محمد

0 427

تحریر: سعد محمد

ترکی سلطنت عثمانیہ کا آخری مرکز اور خلافت عثمانیہ کامظہر ہونے کے ناطے مسلمانوں میں خاص اہمیت کا حامل ہے اور صدیوں تک مسلمانان عالم کی نگاہوں کے اس مرکز کو آج بھی اپنے شاندار ماضی کے باعث ایک اہم اسلامی ملک کی حیثیت حاصل ہے، تقریباًچھ صدیوں تک دنیا کے براعظموں پر اسلام کا پرچم لہرائے رکھنے کا اعزاز ترکوں کو حاصل ہوا ،استنبول جسے برسوں خلافت عثمانیہ کے پایہ تخت ہونے کا اعزاز حاصل رہا ہے ،یہ عظیم ریاست تین بر اعظموں پر پھیلی ہوئی تھی، جنوب مشرقی یورپ، مشرق وسطی ،شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ اس کے زیرنگیں تھا۔

سلطنت عثمانیہ نے صدیوں یورپ اور مغرب سے اٹھنے والی بہت سی خطرناک شورشوں اور آندھیوں کا نہ صرف ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ علمی اور فکری دونوں میدانواں میں بھی بہت ساری ناقابل فراموش خدمات انجام دی ہیں، لیکن پھر اس پر ایک وقت ایسا آیا کہ خود اُسے جان کے لالے پڑے ،بالاخر عالمی اور علاقائی ساز شوں سے تاریخ کی چوتھی بڑی خلافت کا خاتمہ ہوا،

اسی کو شاعر مشرق علامہ اقبال نے اپنے درد بھرے لہجے میں کہا:

چاک کردی’’ترک ناداں‘‘نے خلافت کی قبا
سادگی اپنوں کی دیکھ اوروں کی عیاری بھی دیکھ

وہ خلافت جس نے تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے ایک سیاسی اور فکری پلیٹ فارم فراہم کیا ہوا تھا اس کا خاتمہ بلاشبہ بیسویں صدی کا سب سے بڑا المیہ اور حادثہ تھا ، یہ ترکی جو کبھی عظمت کا استعارہ اور مسلمانان عالم کے سیاہ و سفید کا مالک اور خیر و شر کا نگران ہوتا تھا، صرف قومی ریاست میں تبدیل ہوکر سمٹ گیا،خلافت عثمانیہ کے خاتمے پر ترکی اسلامی روایات کے حوالے سے بھی اپنی حیثیت کھو بیٹھا تھا،اتاترک نے عنان اقتدار سنبھالتے ہی اپنی قوم کو ترقی کی منازل تک پہنچانے کے لیے سیکولر ازم کا سہارا لینے کا فیصلہ کیا، اس طرح ترکی اسلامی اقدار سے دور ہوتا چلا گیا اور ماضی کی شان دار اسلامی تاریخ کو مسخ کرکے رکھ دیا۔

لیکن اس تمام تر صورتحال کے باوجود ترک عوام اپنے دلوں میں اسلام سے عقیدت و محبت کے دیے جلائے رکھے ہوئے تھے،اسلامی رہنماؤں اور علماء نے اپنے شاندار ماضی اور عظمتوں کے احساس کو آنے والی نسلوں تک پہنچانے کا بیڑا اٹھا یا ہوا تھا،یہ اسی جدوجہد کا ثمرہ تھا جس سے طیب ایردوان اور عبداللہ گل جیسے لوگوں نے جنم لیا ، جو ا اپنے گراں قدرکارناموں کی بدولت نہ صرف ترکی بلکہ عالمی دنیا میں مقبول ترین عوامی لیڈر کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں،آج جن کی دور اندیشی اورکامیابیوں سے امریکا اور مغربی طاقتیں خوفزدہ ہیں،جنہیں خدشات لاحق ہونے لگے کہ کہیں ترکی اسلامی دنیا کے اتحاد کا دوبارہ نقیب نہ بن جائے۔

رجب طیب ایردوان دوران طالب علمی ہی طلبہ سیاست سے وابستہ ہو گئے تھے،آغاز میں ہی کامیابی نے ان کے قدم چومے اور رفاہ پارٹی کے ٹکٹ پر میئرمنتخب ہوئے،انہوں نے انتھک محنت اور دور اندیش پالیسیوں کی بدولت استنبول کو ترقیاتی شہروں کی صف میں لاکر کھڑا کردیا ،اس دوران اس عہد ساز شخصیت کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا، بحیثیت مئیر انہوں نے استنبول میں چار ارب ڈالر کے ترقیاتی کام بھی کروائے۔ایردوان نے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ( آق)پارٹی کی بنیاد رکھی ، 2002ء میں جب ان کی پارٹی کو اقتدارملا تواس وقت ترکی میں بیروزگاری اور مہنگائی عروج پر تھی،ملک اربوں ڈالر کا مقروض بن چکا تھا، قرضے اتارنے کے بعد ایردوان نے اعلان کیا کہ اب ہم نہیں بلکہ آئی ایف ایم ترکی سے قرضے لے گا۔

آج ترکی سولھویں بڑی معیشت بن چکا ہے اور سیاسی مبصرین کے مطابق ترقی کی یہی رفتار رہی تو ترکی بہت جلد پہلی دس معیشتوں میں شامل ہوجائے گا،افراط زر کی شرح 67%سے کم ہو کر آٹھ فیصد تک رہ گئی ہے،قومی ذخائر 25بلین ڈالرسے 135 بلین ڈالر تک جا پہنچے ہیں، ایردوان کی محنت اور جہد مسلسل سے قومی اور شخصی آمدنی میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا،ایک ڈالر تین لیرے کے برابر ہوچکاہے۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ موجودہ قیادت نے ترکی میں صنعتی اور اقتصادی انقلاب برپا کر دیا۔

طیب ایردوان کی شکل میں قدرت نے ایک مضبوط اور توانا آواز سلطنت عثمانیہ کے امین ترکی کو فراہم کردی ہے ، جو امریکا ،اسرائیل اور دیگر مغربی طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کاہنر خوب جانتے ہیں بلکہ ان ممالک کی تمام سازشوں کا تن تنہا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔طیب ایردوان نے کمال اتاترک کے سیکولر نظریات والی فوج اور عدلیہ سے تصادم کے بغیر انتہائی کامیابی سے ترکی کو اسلام پسند ریاست بنا یا اور اس جنگ میں سیکولر افواج کو طیب ایردوان کے آہنی عزم و استقلال کو متزلزل کرنے میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے،

ترکی اب ایک معتدل مسلم ریاست کے طور پر تمام عالم اسلام کی قیادت کرنے کے لیے دوبارہ پر تول رہا ہے۔حالیہ ریفرنڈم میں کامیابی نے ثابت کردیا ہے کہ طیب ایردوان ہی اصل مر دآہن ہے،وہ واضح کرچکے ہیں کہ آنے والے برسوں میں ترکی ایک طاقتور اور ترقی یافتہ ملک کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئیگا، قدرت نے انہیں یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ امت مسلمہ کی آواز بن کر ایک بار پھر سلطنت عثمانیہ کی بنیاد رکھیں جس کے پلیٹ فارم پر تمام اسلامی ممالک نہ صرف اپنے مسائل حل کرسکیں بلکہ تمام سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ بھی کریں۔

تبصرے
Loading...