ترکی میں صدارتی نظام کی آمد آمد – ڈاکٹر فرقان حمید

0 511

​ڈاکٹر فرقان حمید پہلے پاکستانی ہیں جنہوں نے انقرہ یونیورسٹی سے ترک زبان میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ 1994ء میں وہ نہ صرف انقرہ یونیورسٹی میں ماہر زبان تعینات ہوئے بلکہ ٹی آر ٹی کی اردو سروس کے لیے ترجمان کی حیثیت سے خدمات سر انجام دینا شروع کر دیں۔ وہ کئی اخبارات اور خبر رساں اداروں کے ساتھ بھی منسلک رہے ہیں۔ انہیں کئی بار ترک صدور کے ساتھ ترک اردو ترجمانی کا اعزاز بھی ملا ہے۔ اس وقت وہ پاکستانی نیوز چینل جیو، اخبار جنگ اور ٹی آر ٹی کی اردو سروس کے سربراہ ہیں۔ وہ ہفتہ وار جنگ اخبار میں کالم لکھتے ہیں۔


وزیراعظم  رجب طیب ایردوان جو ملک کی تاریخ میں مسلسل   تین  بار اور طویل ترین مدت  تک  مسندِ وزارتِ اعظمیٰ پر جمان رہنے کا ریکارڈ قائم کرچکے ہیں  اب ملک میں صدارتی  نظام کو متعارف کروانےکی  جانب  گامزن ہیں۔  ایردوان کی قیادت میں  قائم ہونے والی جسٹس اینڈ ڈولپمینٹ پارٹی(آق پارٹی) نے اپنے قیام کے ایک سال بعد ہی اقتدار حاصل کرلیا  تھا جو کہ ترکی کی تاریخ میں اپنی طرز کا انوکھا واقعہ تھا اور پھر یہ پارٹی اقتدار میں  آنے کے بعد  مزید سرعت سے ترقی کرنے لگی  اور اس کے ووٹوں میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا گیا ۔ حالانکہ اس وقت  کہا  جارہا تھا  کہ  یہ جماعت  کٹر قسم  کی مذہبی جماعت ہے اور اس کا مقصد ملک میں سیکولر نظام کو ٹھیس پہنچاتے ہوئے شریعت نافذ کرنا ہے۔سیکولر حلقوں  نے ایردوان کے استنبول بلدیہ کے مئیر ہونے کے دور میں   ہر طرف یہ افوائیں پھیلانا شروع کردیا تھا کہ ایردوان استنبول میں بسوں کے نظام  میں تبدیلی کرتے ہوئے بسوں کو زنانہ اور مردانہ  دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے  سیکولر نظام  کے تابوت  میں آخری کیل ٹھونک رہے ہیں لیکن   دنیا نے دیکھا کہ  ایردوان کے خلاف جس شرعی نظام کو متعارف کروانے  کا پراپگینڈا کیا جا رہا تھا  اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ تھا ۔ وزیراعظم ایردوان نے اپنے پہلے دور اقتدار کے دوارن  کوئی ایسا قدم ہرگز نہ اٹھایا  جس سے ان کے مخالفین کو   ان پر انگلی اٹھانے  کا کوئی موقع ملے بلکہ انہوں نے اپنے پہلے ہی دور اقتدار میں ایسا لبرل نظام اختیار کیا کہ  وہ حلقے بھی جو ان کا نام سننے  کو بھی گوارہ نہیں کرتے تھے  ملک میں متعارف کروائی جانے والی اصلاحات  کی وجہ سے وزیراعظم ایردوان  کے گرویدہ ہوگئے ۔   

وزیراعظم ایردوان  نہایت زیرک اور ذہین انسان ہیں انہوں نے اپنے پہلے دور میں فوج   کی برتری کو بڑی  خندہ پیشانی سے قبول کیے رکھا لیکن اس دوران  انہوں نے  عوام کے معیار زندگی کو بہتر کیا  اور ملک  میں  نج کاری کی طرف خصوصی توجہ دیتے ہوئے ملک کی کایا ہی پلٹ کر رکھ دی  اور ایک غریب ملک کے لیبل کو  ہٹا کر  صنعتی  ممالک کی فہرست میں اپنا نام لکھوا لیا۔ انہوں نے اس دوران  پولیس  اور ان کے سسٹم کو   بھی تبدیل کرکے  رکھ دیا اور پولیس کو نہ صرف   فوج کے معیار پر لاکھڑا  کیا  بلکہ  کئی ایک شعبوں میں پولیس کو فوج پر برتری حاصل ہوگئی۔ خاص طور  پر خفیہ سروس کے معاملے میں حکومت اب فوج کی محتاج نہ رہی تھی بلکہ تمام خفیہ اطلاعات  کا تبادلہ  پولیس اور خفیہ سروس  کے توسط سے انجام پایا جانے لگا۔عسکری اور عدلیہ کے شعبے میں  متعاف کروائی جانے والے اصلاحات نےان حلقوں کی ہمدردیاں  بھی ایردوان کو حاصل ہو گئیں جوعدلیہ اور فوج کی ناانصافیوں کی  وجہ سے اپنے آپ کو  مظلوم سمجھ رہے تھے۔    

ترک صدر رجب طیب ایردوان سن دو ہزار تین سے دو ہزار چودہ تک وزیراعظم رہے ہیں اور دو ہزار چودہ میں صدر بننے کے بعد سے انہوں نے  ملک میں صدارتی نظام متعارف کروانے کے لیے اپنی کوششوں کا آغاز کردیا تھا اور آخر کار  قومی اسمبلی میں   گزشتہ دنوں  دو مختلف مرحلوں میں آئین میں کی جانے والی ترامیم کے ذریعے پارلیمنٹ میں صدارتی نظام  کو متعارف کروانے کے لیے آئین کی اٹھارہ  شقوں کے بارے میں جو رائے شماری کروائی تھی اس میں  صدارتی نظام کو متعارف کروانے  کی راہ کو ہموار  کروانے میں کامیابی حاصل  کی ہے۔   پارلیمنٹ  میں   پہلے اور دوسرے   مرحلے میں آئین   کی اٹھارہ شقوں کے بارے میں کروائی جانے والی  شقوں  کو   337 سے لے کر 347 ووٹوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہوئی  ۔  یہ کامیابی  دراصل  ایردوان کو بہت بڑی کامیابی  ہونے  کے ساتھ ساتھ  حزب اختلاف کی جماعت   ری پبلیکن پیپلز پارٹی کے لیے  بہت بڑی ہزیمت کی بھی حیثیت رکھتی ہے لیکن چونکہ ری پبلیکن پیپلز پارٹی    جو ناکامیوں  کو گلے لگانے  کے فن سے پوری طرح آگاہ  ہے اور جس کے لیے ناکامیاں اب کوئی معنیٰ نہیں رکھتی ہیں   ہمیشہ  کی طرح   بڑی ڈھٹائی سے پارلیمنٹ میں منظور ہونے والی  ان  ترامیم  کے خلاف  آئینی عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا لیکن  تقریباً  تمام ہی  ماہرین ِ قانون اس بات پر  متفق ہیں کہ  آئینی عدالت ان ترامیم  کے خلاف  کوئی فیصلہ نہیں سنا سکتی ہے   کیونکہ ان تمام ترامیم   میں کوئی  ایسی    خلاف ورزی موجود نہیں  ہے جو آئین کے متصادم  ہو لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ری پبلیکن پیپلز پارٹی خود بھی  آئینی عدالت سے اس   کیس  کے مسترد کیے جانے سے پوری  طرح  آگاہ ہونے کے باوجود صرف اپنے آپ کو دھوکہ دینے اورعوام کو ورغلانے  کی خاطر  یہ  راستہ  اختیار  کیے ہوئے ہے۔  

حزبِ اختلاف کی جانب  سے اس قسم کا رویہ اپنائے جانے  کے ساتھ ساتھ  ملک بھر میں  پارلیمنٹ میں آئین میں ترامیم کی منظوری کے بعد    صدارتی  نظام سے متعلق ریفرنڈم  ماہ اپریل میں کروانے کا فیصلہ کیا  گیا ہے اگرچہ ابھی  تک اس سلسلے میں کسی حتمی تاریخ  کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے تاہم  ملک میں  9 یا  16 اپریل کو ریفرنڈم کروانے کی توقع کی جا رہی ہے۔ 

اس وقت  تک ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے ریفرنڈم سے  اپنی اپنی حکمتِ عملی وضح کرلی ہے۔ اس وقت   برسر اقتدار    جسٹس اینڈ ڈولپمینٹ  پارٹی کے ساتھ حزب اختلاف  کی  نیشنلسٹ  موومنٹ پارٹی (MHP)  نے  ملک  بھر میں ایک ساتھ اور الگ الگ   صدارتی نطام کے حق میں  اپنی مہم کا  آغاز کردیا ہے اور اس کے علاوہ  گزشتہ عام انتخابات میں ایک فیصد کے لگ بھگ ووٹ حاصل کرنے والی  دائیں بازو کی جماعتوں کے ووٹ  بھی  ریفرنڈم میں  صدارتی نظام کے حق میں پڑنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ اس وقت تک مختلف  اداروں  کی جانب سے کروائے جانے والے سروئیز کے نتایج  سے پتہ چلتا ہے کہ   ماہ اپریل کے  صدارتی نظام سے متعلق ریفرنڈم میں صدارتی نظام     کے حق میں بڑے پیمانے  پر ووٹ  پڑیں گے اور اس طرح  ملک میں آخر کار صدارتی نظام متعارف  کروانے   کی  آخری   دیوار کو بھی عبور کرلیا جائے گا اور صدارتی نظام  متعارف کروا دیا جا ئے گا۔

 ملک کی حزب  اختلاف  کی جماعت  ری پبلیکن پیپلز پارٹی (CHP) اور حزب اختلاف کی ایک دیگر جماعت  پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی (HDP) نے  صدارتی  نظام کے خلاف   اپنی مہم  کو  مشترکہ طور  پر جاری رکھنے کی فیصلہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ    ملک کی تمام ہی سیاسی جماعتیں  اور عوام کا ا یک بڑا حصہ پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی پر دہشت گرد تنظیم  پی کے کے ، کی پشت پناہی کرنے اور دہشت گرد تنظیم  ہی کے سیاسی ونگ کا حصہ ہونے کا ووایلا مچاتا چلا آرہا ہے  کے  تیور حزبِ اختلاف کی جماعت  ری پبلیکن پیپلز پارٹی   کے لیے بھی اچھے نہیں ہیں  کیونکہ  ان کو اس بات  کا احساس ہے کہ  یہ جماعت  مصطفےٰ کمال اتاترک  کی  تشکیل کردہ  سیاسی جماعت ہے  لیکن  یہ جماعت  اس وقت   دہشت گردی  کی کارروائیوں میں  ملوث  پیپلز ڈیمو کریٹک   ساتھ مل کر مشترکہ طور پر صدارتی نظام کے خلاف مہم  شروع  کر چکی ہے جو ان کے لیے کسی بھی  صورت قابلِ قبول نہیں ہے اور وہ اس پراپنے غم وغصے کا اظہار کررہے ہیں۔ ری پبلیکن پیپلز پارٹی  جو گزشتہ کئی دہائیوں سے  مسلسل شکست  کھاتی چلی آرہی ہےصرف  چند ایک مزید ووٹ  حاصل کرنے  کی امید کے ساتھ  اپنی گرتی ہوئی سا  کھ  کو  بہتر کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے جس سے وہ مزید کیچڑ  میں  دھنسی  چلی جا رہی ہے حالانکہ  اس جماعت  کو اس بات   کا پورا پورا حساس ہے کہ اس پارٹی کے بانی رہنما  مصطفےٰ کمال اتاترک اورعصمت انونو  خود بھی  ملک  میں صدارتی نظام متعارف کروانے کے حق میں رہے ہیں  اور  ملک میں ان کے ادوار میں پارلیمانی  نظام موجود ہونے کے باوجود واحد جماعتی نظام  پر عمل درآمد ہوتا رہا  اورکسی دیگر جماعت کو 1950ء  تک انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہ دی گئی۔   

عوامی ریفرنڈم میں ان اصلاحات کی منظوری کے لیے سادہ اکثریت یا کم سے کم 51 فیصد ووٹرز کی حمایت درکار ہوگی۔

ریفرنڈم  کے بعد  جدید جمہوریہ  ترکی میں پہلی بار صدارتی نظام قائم ہوجائے گا جب کہ نئے آئین میں صدر کے اختیارات میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ تاہم صدارتی نظام کی سب سے اہم خوبی   مقننہ، انتظامیہ اورعدلیہ کو ایک دوسرے  سے نہ صرف الگ  تھلگ کرنا ہے بلکہ  مکمل طور پر  ایک دوسرے سے دباو سے بھی دور کرنا ہے۔صدر ایردوان اور صدارتی نظام کے ناقدین    نئے صدارتی نظام میں صدر کو پہلے سے زیادہ اختیارات حاصل ہونے اور صدر کے شتر بے مہا کی مانند ایکٹ کرنے کا الزام عائدکرتے ہیں ۔ پارلیمانی   نظام  جہاں صدر کسی بھی صورت پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ نہیں تھے نئے نظام  کے تحت  پارلیمنٹ صدر  کی کارکردگیوں پر نظر رکھنے صدر کے  کسی غیر قانونی  یا قومی مفادات کے منافی سرگرمی میں ملوث پائے جانے  کی صورت میں پارلیمنٹ  کے ارکان کی  واضح اکثریت سے منظور کردہ قرار داد  کی وجہ سے  تفتیش  کا سامنا  کرنے  پر مجبور نہیں ہو جائیں گے؟ فیصلہ عوام نے کرنا ہے ۔    

تبصرے
Loading...