ترکی میں فنِ خطاطی؛ تاریخ کا روشن ترین پہلو – خورشید عالم گوہر قلم

0 507

ترکی خوبصورت مناظر سے آراستہ ، خوبصورت خیالات رکھنے والے اور پاکستان سے بہت محبت کرنے والوں کا ملک ہے۔ ترکی کی تاریخ ہمیشہ سے علمی اور جمالیات سے بھر پور رہی ہے۔ ترکی کے شہری اسلام اور اسلامی روایات سے بہت زیادہ محبت کرنے والے ہیں۔ اسلامی دنیا میں ترکوں کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

موجود مسجد نبوی اور خانہ کعبہ کا اندازِ تعمیر ترکوں کا متعین کردہ ہے۔ مسجد نبوی میں میں موجود گنبد خضرا ترکوں نے ہی تعمیر کیا تھا۔ جس طرح فنِ تعمیر ، علم و حکمت میں ترکوں نے خدمات سر انجام دی ہیں اسی طرح فن خطاطی میں بھی ترکوں کے کمالات کا ایک زمانہ معترف ہے۔ یاقوت مستعصمی سے فیض یاب ہونے والے خطاط حمد اللہ اماسی خطاطی کی لازوال دولت لے کر ترکی گئے اور پھر ترک درویش اور خدا شناس خطاطوں نے دنیاوی خواہشات کو ترک کر کے خطاطی کو لازوال حسن بخشا۔ ان اعلیٰ فن پاروں کے اندازِ تحریر پر ایک زمانہ حیرت زدہ ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ حسن و جمال نے یکجا ہو کر الفاظ کا روپ دھار لیا ہے۔

یوں تو ترکی میں بے شمار خطاطوں اور خواتین خطاطوں نے فن کے بے مثال جوہر دکھائے مگر بہت زیادہ شہرت حاصل کرنے والوں میں استاد احمد کامل ، مصطفیٰ عزت ، مصطفیٰ راقم ، سامی آفندی ، استاد شوقی ، حسن رضا رجاوی ، حافظ عثمان ، عبد اللہ زیدی ، ماجد زیدی ، استاد عبد العزیز الرفاعی اور حامد الآمدی نے فن خطاطی کو دوام اور ایسا بانکپن بخشا ہے کہ آنے والے ادوار میں تمام خطاط ان کی تقلید کرتے رہیں گے۔ مسجد نبوی میں استاد عبد اللہ زیدی نے فن کے موتی ، عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نذر کیے ہیں۔ خطاطی دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ نورانیت و روحانیت مجسم ہو کر سامنے آگئے ہیں۔
یہ تمام خطاط متوکل اور صبر و رضا کے پیکر تھے۔ ان کے تحریر کردہ قرآن کریم کے نسخے عقیدت و احترام کے واضح مظہر ہیں۔ ترک خطاطوں نے مشرق و مغرب کے انداز جیومیٹری کے ملاپ سے جو حسن و جمال خطاطی کو عطا کیا ہے اس سے فورا ذہن میں یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ شاید خطاطی کا فن صرف اور صرف ترکوں کے حصہ میں آیا ہے۔ اہل مصر کے فنِ قرآت کی طرح ترک خطِ ثلث ،نسخ ، دیوانی ، کوفی اور سنبلی رسوم الخط میں اپنا کوئی ثانی

نہیں رکھتے۔
ہم اہل پاکستان کے لیے یہ امر باعث فخر ہے کہ ترکی کے ممتاز خطاط جناب استاد حامد آلامدی المعروف موس عزمی نے مفکر پاکستان حضرت علامہ اقبال کے کلام کی خطاطی کر کے اسے دوام عطا کیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ استاد حامد نے یہ خطاطی خطِ نستعلیق میں کی۔

استاد احمد کامل اور سامی آفندی نے مولانا روم کے مزار پر خطاطی کے جوہر دکھائے ہیں۔ استنبول میں توپ کاپی میوزیم میں جہاں دیگر حد درجہ احترام کے لائق تبرکات مقدسہ ہیں وہاں ترک خطاطوں کے عظیم فنی نمونے بھی ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔
ترکی میں خطاطی کے ساتھ ساتھ تذہیب یعنی نقاشی بھی اپنی مثال آپ ہے۔ ماہر نقاش اصلی سونے اور قدرتی رنگین پتھروں سے تیار کردہ اعلی قسم کے رنگوں کی مدد خطاطوں کے فن پاروں پر اس جذب و شوق سے نقاشی کرتے ہیں کہ بار بار ان فن پاروں کو دیکھنے کو جی چاہتا ہے۔ یہ

رنگ صدیوں تابندہ رہتے ہیں۔
ترکی میں ہر سال خطاطی کا ایک عالمی مقابلہ بھی کروایا جاتا ہے جس میں دنیا بھر سے نوجوان خطاط شرکت کرتے ہیں اور انہیں اوّل ، دوم اور سوم انعامات کے ساتھ ساتھ حوصلہ افزائی کے انعامات دئیے جاتے ہیں۔ یہ مقابلے فنِ خطاطی کےفروغ کا باعث ہیں۔
ترکی کی فن خطاطی کے میدان میں ادا کی گئی خدمات ہمیشہ سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔

تبصرے
Loading...