ترکی کی افریقہ میں دو طرفہ جیت کی پالیسی – ابراہیم قالن

0 390

ابراہیم قالن، پی ایچ ڈی ڈاکٹر اور ترک صدر رجب طیب ایردوان کے چیف مشیر اور ترجمان ہیں، اس کے علاوہ وہ پرنس الولید سنٹر فار مسلم کرسچیئن انڈرسٹینڈنگ، جارج ٹاؤن یونیورسٹی، امریکا کے ایسویسی ایٹ فیلو بھی ہیں۔ انہیں ایک تربیت یافتہ اسلامی اسکالر گردانا جاتا ہے۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف اور کئی مضامین و نشر پاروں کے مقالہ نگار بھی ہیں۔ آپ ترکی کے متعلقہ موضوعات پر ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں۔



22 سے 25 جنوری، صدر رجب طیب ایردوان نے تین افریقی ممالک تنزانیا، موزمبیق اور مڈغاسکر کا دورہ کیا۔یہ دورہ ترکی کی 2005ء میں شروع کی جانےوالی "اوپنگ ٹو افریقہ” پالیسی کا تسلسل تھا جس کا مقصد براعظم افریقہ کے تمام ممالک کے ساتھ ترکی کے تعلقات کو بڑھانا اور گہرا کرنا ہے۔

گزشتہ ایک عشرے میں ایردوان، بحثیت وزیراعظم اور صدر وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے کل 23 افریقی ممالک کے 30 سے زائد دورے کیے، یہ کسی غیر افریقی رہنما کے افریقہ میں ریکارڈ دورے ہیں۔ یہ ترکی کے اسٹریٹجک اندازوں میں افریقہ کی اہمیت کا اظہار ہے جس کی وجہ سے وہ افریقی قوموں کے ساتھ دو طرفہ تعلقات بڑھا رہا ہے۔ ترکی نے افریقہ میں اپنی سفارتی موجودگی کو بڑھایا ہے 2004ء میں افریقہ میں سفارت خانوں کی تعداد 12 تھی جبکہ 2016ء میں 39 سفارت خانے ہو چکے ہیں۔ 2012ء اور 2013ء میں مختلف امدادی پروگرامات میں ترکی نے اکیلے افریقہ میں 800 ملین ڈالر عطیہ کیئے۔

ترک رابطہ و تعاون ایجنسی (ٹیکا) کے افریقہ میں 16 دفاتر ہیں جو پانی کے کنویں کھودنے سے لے کر کسانوں کی ٹریننگ کے لیے کلینکس کا آغاز اور تاریخی مقامات کی بحالی تک سینکڑوں منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ درجنوں ترک این جی اوز اور امدادی تنظیمیں بھی غریبوں کی مدد کے لیے سرگرم ہیں۔ 2008ء میں افریقن یونین نے ترکی کو اسٹریٹجک پارٹنر کا درجہ دے دیا۔ اسی سال استنبول میں پہلی ترک افریقہ سمٹ کا انعقاد کیا گیا جبکہ اگلی سمٹ 2014ء میں جمہوریہ گنی کے صدر مقام مالابو میں ہوئی۔

تیسری سمٹ کا انعقاد 2019ء میں ترکی کے اندر متوقع ہے، ایک عشرہ قبل افریقہ کے ساتھ ترکی کی کل تجارت 3بلین ڈالرز سے کم تھی جبکہ آج اس تجارت کا حجم بڑھ کر 25بلین ڈالرز ہو چکا ہے۔ ترک ائیرلائنز کے افریقہ کے 30 ممالک میں 40 پڑاؤ ہیں جو کسی بھی انٹرنیشنل ائیرلائنز میں سب سے زیادہ ہیں، افریقہ کے 30 سے زائد ممالک نے ترکی میں سفارتی مشن کھولے ہوئے ہیں، 5000 سے زائد افریقی طالب علم ترکی میں فل اسکالرشپس پر تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ یہ اعداد وشمار ترکی اور افریقہ کے مابین بڑھتے ہوئے گہرے تعلقات کے مضبوط اور مستحکم رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔

افریقہ قدرتی معدنیات سے بھرپور، جوان اور متحرک آبادی اور ترقی کے لیے وسیع صلاحیتوں سے بھرپور خطہ ہے لیکن اس بے انتہاء دولت کے درمیان غربت میں سسک رہا ہے- سیاسی استحکام، دہشتگردی کے خلاف جنگ، غربت کا خاتمہ اور پائیدار ترقی بہت سی افریقی قوموں کی کلیدی ترجیحات ہیں- براعظم میں یورپی استعماریت کی شرمناک تاریخ کے موجودگی میں کوئی بھی وراثت میں ان کی طرف سے دی گئی سیاست، خفیہ جنگیں، جدید غلامی اور معاشی استحصال کے مقابلے میں چوکس نہیں رہ سکتا- اس حقیقت کے باوجود کہ سیاسی عدم استحکام اور معاشی بگاڑ  خطے میں ہر جگہ ہر شخص پر اثر کر رہا ہے، کئی ممالک اور ملٹی نیشنل کارپوریشنز ابھی بھی افریقی دولت کا استحصال کرنے میں مصروف ہیں۔

ترکی افریقہ میں "دوطرفہ جیت کی پالیسی” پر گامزن ہے۔ ماتحتی، سرپرستی اور استحصال کے نئے تعلقات کے بجائے وہ سیاسی برابری اور باہمی معاشی ترقی پر تعلقات کو استوار کرتا ہے یہ افریقی اقوام کے اپنی دانشمندانہ پالیسی "افریقی مسائل کےافریقی حل” میں مدد کا خواہاں ہے۔ اس وقت ترکی خطے کے افریقی طالب علموں اور سول ملازمین کی مختلف شعبوں میں تربیت کر رہا ہے اس کے علاوہ وہ افریقی اقوام کی ایسے مدد کر رہا ہے کہ کمزور ہونے کے بجائے قوت حاصل کریں- بالکل جیسے ترکی 2011ء سے صومالیہ میں کر چکا ہے جہاں  فراموش کر دی جانے والی اس افریقی قوم کے لیے عالمی مہم چلائی تاکہ وہاں موجود قحط، خشک سالی، چہار اطراف پھیلی غربت اور دہشتگردی جیسے مسائل کو حل کیا جا سکے- پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کی مدد سے ترکی نے 1بلین ڈالرز کی امداد اور سرمایہ کاری کی- چہ جائیکہ صومالیہ کی دفاعی اور معاشی ترقی کے لیے ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے لیکن 6 سال قبل سے بہت بہتر ہو چکا ہے- افریقی اقوام نے ترکی کی "دو طرفہ جیت کی پالیسی” کا مثبت طریقے سے جواب دیا ہے- حالیہ ادوار میں اعلیٰ سطحی دورے کی تعداد بڑھ گئی ہے- ترک کمپنیاں کئی بڑے پروجیکٹس کو سنبھال رہی ہیں جیسے تنزانیا کا 2000 کلومیٹر ریل روڈ پروجیکٹ، موزمبیق میں  سستی اور معیاری سماجی ہاوسنگ پروجیکٹس، مڈغاسکر میں پاور پلانٹس کی تعمیر اور افریقی ممالک میں سیمنٹ سے لے کر کپڑوں اور الیکٹرانکس اشیاء کی تیاری شامل ہے ان پروجیکٹس سے دراصل ہزاروں افریقی شہریوں کو ان کے اپنے ملکوں میں روزگار مل رہا ہے-

صدر ایردوان خود اس نئے دور کے راستے پر قیادت کر رہے ہیں- وہ نہ صرف افریقی ممالک کا دورہ اور ان کی قیادت کا ترکی میں استقبال کرتے ہیں بلکہ باہمی تعلقات کی مضبوطی کے لیے سرمایہ کاروں، یونیورسٹیوں، این جی اوز، ریسرچ سنٹرز، سیاحتی ایجنسیوں اور عام شہریوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں- انہوں نے باہمی اعتماد، بھروسے اور سب کے مفاد کی تعمیر کرتے ہیں اسی لیے تمام مسائل  کھلے اور مخلصانہ طریقے سے نبٹائے جاتے ہیں

یہ اسی باہمی اعتماد کا حصہ ہے کہ ترکی نے افریقی ممالک سے کہا ہے کہ وہ گولن دہشتگرد گروہ فیتو کے افراد اور اداروں کی تخریبی سرگرمیوں کو اپنے ملکوں میں بند کر دیں- گزشتہ دو عشروں میں فیتو نے ترکی کے اثر و نفوذ اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے درجنوں افریقی ممالک میں اپنا نیٹ ورک قائم کیا-  15 جولائی کی ناکام بغاوت میں ان کے اصل چہرے آشکار ہو چکے ہیں ایسے میں کئی افریقی ممالک اس مصیبت کے خلاف مثبت اقدامات اٹھا رہے ہیں-ہمارے افریقی بھائیوں اور بہنوں کو اب جان لینا چاہیے کہ یہ مسلکی گروہ صرف ترکی ہی نہیں بلکہ ان کی قومی سیکیورٹی کا معاملہ بھی ہے کیونکہ یہ سیاسی قوت کو مجتمع کرنے کے لیے سب کچھ کریں گے اور انہیں قوم کے خلاف استعمال کریں گے جنہوں نے ان کے لیے اپنے دروازے اور دل کھول رکھے ہوں-
ترکی کی افریقہ میں دو طرفہ جیت کی پالیسی باہمی تعاون کی ایسی پالیسی ہے جو برابری، شفافیت اور استحکام پر قائم ہے- افریقہ کی پائیدار ترقی کے لیے موجود بھرپور صلاحیت اسی وقت کارآمد ہو سکتی ہے جب جدید غلامی، استحصال اور انحصاری کی نئی اقسام کا خاتمہ نہیں ہو جاتا اور افریقیوں کو خود پنپنے کا موقع فراہم نہیں کیا جاتا جس میں وہ اپنے حوصلوں اور روایات کے ساتھ 21ویں صدی میں ترقی کر سکیں- اس خوبصورت مقصد کے لیے ترکی کی دو طرفہ جیت کی اپروچ کو شائستہ اور اہم اعانت کے طور دیکھا جانا چاہیے-

تبصرے
Loading...