ترکی 2023ء میں اپنی طرز حکومت کا انتخاب جمہوری مملکت بنا کے کر چکا ہے، صدر ایردوان

0 37,933

صدارتی کمپلیکس میں 36ویں مختارز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا، "(صدارتی)ترمیم کی منظوری سے جس کا پہلا قدم 2007ء میں اٹھایا گیا تھا، ہماری عوام نے اپنی رائے صدارتی نظام حکومت کے حق میں ڈال دی تھی۔ یہ آئینی ترامیم جو اپریل میں عوام کی منظوری کے لیے پیش کی جائیں گی۔ اس قدم کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیں گی جو دس سال قبل اٹھایا گیا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ میری قوم اس ترمیم کی حمایت کرے گی جو ریفارمز لانے کے لیے اہم ہے۔ اسی 69 فیصد ‘ہاں’ کی طرح جو انہوں پہلے پورے کیے گئے اہداف سے قبل دی تھی”۔

صدر رجب طیب ایردوان نے صدارتی کمپلیکس میں ادانا، بارتن، بردور، برصا، غازی انتیب، گریژن، ازمیر، کرابک، کاستمونو، مرسین، نیدہ، سیواس، یوزگاٹ اور زونگلداک سے 400 مختارز کے اعزاز میں ظہرانہ دیا۔

ظہرانے سے قبل  صدر ایردوان نے مہمانوں سے خطاب کیا۔

نظام حکومت کی تلاش کا مسئلہ گزشتہ 200 سال سے درپیش ہے

صدر ایردوان نے کہا، "ترکی 2023ء میں اپنی طرز حکومت کا انتخاب جمہوری مملکت بنا کے کر چکا ہے، اب ہمارے لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں رہا”۔ انہوں نے مزید کہا، "جو اس جمہوری مملکت کے خلاف اٹھیں گے، وہ میری قوم اور مجھے اپنے مدمقابل پائیں گے”۔ انہوں نے نظام حکومت کی تلاش کا مسئلہ گزشتہ 200 سال سے درپیش ہے بتاتے ہوئے کہا، "نظام حکومت کی تلاش صدیوں سے جاری ہے اور جو صورتحال بھی پیدا ہوئی وہ ہماری ملت کو مطمئن نہیں کر سکی۔ ہم اپنے جمہوری مملکت یا جمہوریت میں نہیں بلکہ نظام حکومت میں غلطیوں کو دیکھ رہے ہیں اور اس سے قبل بھی تلاش کرتے رہے ہیں، کیونکہ یہ غلط عمل نہیں ہے”۔

آئینی ترامیمی تجاویز ترکی کے نظام حکومت کی تلاش میں اہم اصلاحات ہیں

پارلیمنٹ کی طرف سے پاس ہو کر منظوری کے لیے پہنچنے والے آئینی ترمیمی تجاویز کو ترکی کی نظام حکومت کی تلاش میں ہونے والی اصلاحات قرار دے کر صدر ایردوان نے کہا، "ترکی،حکومت کا ایک نیا نظام اپنا رہا ہے جس میں ذمہ داریاں اور طاقت صدر کو منتقل کی جا رہی ہے اور سرحدیں زیادہ وضاحت کے ساتھ انتظامیہ، مقننہ اور عدالتی بازوؤں کو سونپی جا رہی ہیں۔ پارلیمنٹ نے آئینی ترامیم پر بحث کر کے اور منظوری دے کر اپنا کردار ادا کر دیا ہے۔ اس کے بعد میں بطور صدر اپنا ذمہ داری ادا کروں گا اور پھر یہ قوم کی میز پر پیش کیا جائے گا۔ اور فیصلہ قوم کے ہاتھ میں ہوگا”۔

انہوں نے کہا، "آئینی ترمیم کا مسئلہ ہمارے عوام کے لیے کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے، جب صدر کو چننے کا اختیار 2007ء میں پارلیمنٹ سے لے کر عوام کو دے دیا گیا تھا، تب صدیوں کی تلاش نئے مرحلے میں داخل ہوئی تھی”۔ مزید کہا، "ترمیم کی منظوری سے جس کا پہلا قدم 2007ء میں اٹھایا گیا تھا، ہماری عوام نے اپنی رائے صدارتی نظام حکومت کے حق میں ڈال دی تھی۔ یہ آئینی ترامیم جو اپریل میں عوام کی منظوری کے لیے پیش کی جائیں گی۔ اس قدم کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیں گی جو دس سال قبل اٹھایا گیا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ میری قوم اس ترمیم کی حمایت کرے گی جو ریفارمز لانے کے لیے اہم ہے۔ اسی 69 فیصد ‘ہاں’ کی طرح جو انہوں پہلے پورے کیے گئے اہداف سے قبل دی تھی”۔

صدارت اور وزارت عظمیٰ کے دفاتر ضم ہو جائیں گے

ترمیم کا پہلی شق "منصف مزاجی” کے اصول پر اٹھائی گئی ہے جو عدلیہ کو "غیر جانبدار” بناتی ہے۔ صدر ایردوان  نے یہاں سے آغاز کرتے ہوئے کہا، "اس ترمیم کے ساتھ عدلیہ نہ صرف غیر جانبداری بلکہ منصف مزاجی کے ساتھ کام کرے گی”۔ دوسری شق پارلیمنٹ کے ممبران کی تعداد 550 سے 600 تک بڑھانے کے بارے ہے۔ یہ ترمیم ترک قومی اسمبلی عظمیٰ میں عوامی نمائندگی کی بنیاد کو بڑھا دے گی۔ مخصوص آبادی فی ممبر قومی اسمبلی کرنے سے یہ دنیا میں موجود مثالوں پر پورا اترے گی”۔ 

صدر کو قانون پاس کرنے کے نہیں، انتظامی احکامات دینے کے اختیارت حاصل ہوں گے

"یہ ترامیم پانچ سالہ طویل، بلاتعطل اور ایک مستحکم حکومت دیں گی جو اتحادوں اور بحرانوں کے دور کو پیچھے چھوڑتے ہوئے انتظامی امور کو تیزی سے سر انجام دینے کا رجحان پیدا ہو گا جب صدر کے پاس تمام انتظامی اختیارات ہوں گے”- صدر ایردوان نے کہا، "براہ مہرانی غور کریں کہ صدر صرف کے پاس صرف حکم جاری کرنے کے اختیارات ہوں گے، قانون جاری کرنے کا اختیار نہیں ہو گا- ترامیم اس معاملے پر بڑی تفصیل اور وضاحت کے ساتھ بات کرتی ہیں- یہاں یہ نقطہ اہم ہے کہ ریاستی قوانین، احکامات کو منسوخ کرتے ہیں- احکامات، قانون سے بالاتر نہیں ہیں- قانون ہی بالاتر ہے- چونکہ قانون ساز ادارہ پارلیمنٹ ہے، اس لیے اہمیت اور بالاتری وہاں موجود رہے گی- یہاں صرف صدر کی طرف  اختیارات بڑھائے جا رہے ہیں کہ وہ بجٹ بنا سکے باقی تمام قانون سازی کے اختیارات پارلیمنٹ کے پاس رہیں گے”- 

صدر کو اجازت ہو گی کہ وہ پارٹی کا رکن رہ سکے

موجود نظام میں صدر مختلف شرائط پر قومی اسمبلی کے لیے نئے انتخابات کا اعلان کر سکتا   ہے جبکہ خود وہ خود عہدہ صدارت پر موجود رہتا ہے- اس ترمیم کے بعد جب بھی نئے الیکشن ہوں گے تو پارلیمنٹ یا صدارت دونوں کے ایک ساتھ ہوں گے”- انہوں نے کہا، "2007ء کی ترمیم میں عوام کو براہ راست ووٹنگ سے صدر چننے کا اختیار دیا گیا تھا، اس شرط پر کہ امیدوار اپنی پارٹیوں کے ساتھ تعلقات کو منقطع کر لیں گے، یہ غیر پریکٹکل اور غیر حقیقی بات تھی- میں نے اپنی پارٹی جس کا میں بانی تھا، توڑ دیا کیونکہ قانون یہی کہتا تھا- نئی ترمیم یہ غلطی مٹا دی گئی ہے- صدر جو خو ایک سیاسی ذمہ داری پر فائز ہے، اسے اجازت ہو گی کہ سیاسی پارٹی کا رکن رہ سکے- ہمارے موجودہ نظام میں صدر اپنے اقدامات پر ماسوائے بغاوت کے جوابدہ نہیں ہے- صدر کے پاس انتظامی اختیارات دینے کا مقصد ایک مضبوط کنٹرول میکانزم اور اتھارٹی قائم کرنا ہے-  پارلیمنٹ اس قابل ہو گی کہ صدر، نائب صدور اور وزراء کو پارلیمانی تحقیقات، انکوائریز، عمومی مباحث اور نکتہ اعتراض کے ذریعے روک سکے- مجرمانہ فعل پر پارلیمنٹ اکثریت کے ساتھ آگے آئے گی تو صدر کا سپریم کریمنل کورٹ میں ٹرائل کیا جا سکے گا- یہ وہ جمہوری رویہ ہے کہ صدر جمہور کے ذریعے ذمہ داریاں نبھائے گا اور پارلیمنٹ کے ذریعے اسے پر روک ٹوک بھی کی سکے گی”- 

80 ملین شہریوں کو مل کر نئے آئین کی تعمیر کرنا چاہیے

صدر ایردوان نے کہا، "ہم اس ملک کے تجربوں کی روشنی میں اور اپنے 14 سالہ تجربات خاص کر آخری 3-4 سال کے تجربوں کی روشنی میں ہر وہ بہتر کام کر رہے ہیں جو اس ملک کے لیے بہتر ہو۔ جیسا کہ 2007ء کا ریفرنڈم جس میں نقائص موجود تھے۔ درحقیقت اہم یہ ہے کہ 80 ملین شہری آگ بڑھیں اور نئے آئینی ڈرافٹ کی تعمیر کریں”۔ 

عوام تاریخی فیصد کے ساتھ آئینی ترامیم پر ‘ہاں’ کہے گی اور ان کا یہ فیصلہ نئے ترکی کی طرف لے جائے گا۔ اس عزم کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "یہ رجب طیب ایردوان کا ذاتی معاملہ نہیں ہے اور نہ آق پارٹی کا معاملہ ہے۔ یہ ملت پرست حرکت پارٹی (ایم ایچ پی) کا معاملہ بھی نہیں ہے۔ اس لمحے مجھے اور آق پارٹی کو ہم آہنگی اور کارکردگی کا بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ ہم آہنگی نظام میں موجود نہیں ہے، یہ ہم آہنگی میرے اور گورنمنٹ کے درمیان موجود ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اسے ذاتی منظرنامے سے اٹھا کر نظام کے اندر ڈال دیا جائے”۔

تبصرے
Loading...