ترک دشمنی کے بخار میں جلنے والا مغربی میڈیا – عبید اللہ عابد

0 542

ترک قوم نے فیصلہ سنا دیا ہے کہ وہ صدر طیب ایردوان کے منصوبہ کو پسند کیا اور پارلیمانی نظام کے بجائے صدارتی نظام سیاست کے تحت زندگی بسر کریں گے۔ ریفرنڈم میں”ہاں” کہنے والے خوشیوں سے نہال ہورہے ہیں جبکہ "ناں” کا ووٹ ڈالنے والے شکست پر مایوس ضرور ہوئے ہیں تاہم انھوں نے نتائج کو تسلیم کرلیاہے۔
مغرب جس جمہوری نظام کا علمبردار ہے، اس کے مطابق ہر قوم کو اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے، کسی دوسرے کو اس کی زندگی میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔ جب ترک قوم ریفرنڈم میں حصہ لینے کی تیاری کررہی تھی، مغرب کے چند مخصوص طبقات شدید تکلیف سے گزر رہے تھے۔ تاہم اب جبکہ ترک قوم نے صدارتی نظام کے حق میں اپنا فیصلہ سنادیاہے تو مغربی طبقات کی تکلیف دوچند ہوگئی ہے۔
مثلاً جرمنی جہاں بسنے والے قریبا70 فیصد ترکوں نے طیب ایردوان کو دے کر جرمن حکومت کو منہ توڑ جواب دیا، وہاں کا میڈیا ترکی سے نفرت کے بخار میں جل رہاہے، ایک جرمن اخبار نے سرخی لگائی کہ "آج کا دن ترکی کے لئے غم زدہ دن تھا۔” امریکی اخبار ‘واشنگٹن پوسٹ’ نے لکھا کہ ترکی مطلق العنانیت کے مزید قریب ہوگیا۔’نیویارک پوسٹ’ نے لکھا کہ ترکی میں جمہوریت کاخاتمہ ہوچکا۔’دی نیویارکر’ نے لکھا کہ ترک ووٹ نے ایردوان کو ڈکٹیٹربنادیا۔’ فنانشل ٹائمز’ نے سرخی جمائی” رجب طیب ایردوان نے ریفرنڈم جیت لیا لیکن وہ آدھے ترکی سے محروم ہوگئے ہیں۔” مغرب نواز طبقات خوب چیخ پکار میں مصروف ہیں کہ اس قدر تھوڑے مارجن سے کامیابی بھی کوئی کامیابی ہوتی ہے بھلا! وہ اس انتخاب کو مشکوک قرار دے رہے ہیں جس میں صدر ایردوان 48.7 % ووٹ کے مقابلے میں 51.3 % ووٹ لے کر جیتے۔
تاہم مغرب اور اس کے حامیوں کو امریکی صدر جارج بش کی جیت یاد نہیں جو 47.7 % ووٹ لے کر جیتے، ان کے مقابل الگور 48.4 % ووٹ حاصل کرنے کے باوجود ہار گئے، موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 46.1 % ووٹ لے کر جیتے لیکن ان کی مخالف امیدوار ہیلری کلنٹن 48.2 % ووٹ حاصل کرنے کے باوجود ہارگئیں۔آپ کو کہیں بھی ان دانشوروں کا ایک جملہ نہیں ملے گا کہ امریکا میں عوام کے ووٹوں پر چودھریوں کے ووٹوں کو ترجیح کیوں دی جاتی ہے، انسانی تاریخ میں بے شمار ایسے انتخابات اور مقابلے ہوئے جہاں چند ووٹوں سے کوئی امیدوار جیتا، اُس وقت یہ "دانشور” نہیں بولے کہ ایسے امیدوار جیت تو گئے لیکن وہ اپنی آدھی قوم سے محروم ہوگئے۔ مغربی دانشوروں کو اپنے اُن انتخابی نظاموں کو دیکھتے ہوئے شرم سے ڈوب مرنا چاہئے جو خالصتاً "مخالف ووٹوں کو تقسیم کرو اور جیت جاﺅ” کے اصول پر قائم ہیں۔ دوسری طرف ترکی میں ایسا نظام رائج ہے کہ اگر ایک پارٹی کی مخالفت میں مجموعی طور پر اکثریتی ووٹ ہو، تو وہ فاتح قرار نہیں پاتی۔
ایک دوست نے خوب کہا کہ مغرب نوازسیکولرز اور لبرلز کی عجب غلامانہ سوچ ہے کہ ان کے نزدیک امریکا اور مغرب جو کرتا ہے ٹھیک کرتا ہے تاہم مسلمان معاشروں کا شعور اجتماعی جو کرتا ہے غلط کرتا ہے۔
ترک صدر رجب طیب ایردوان نے بھی اپنے ایسے مخالفین کو خوب جواب دیا ہے کہ ”میچ کو ایک۔صفر یا پھر 5۔0 کے اسکور سے جیتنا اہمیت نہیں رکھتا ، اہم چیز میچ میں کامیابی ہے۔ جمہوریت اپنی طاقت عوام سے حاصل کرتی ہے، اس کا دوسرا نام قومی ارادہ ہے۔ نیا حکومتی نظام ترکی کی جمہوری تاریخ میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے“۔
ترک قوم سے مغربی حکمرانوں اور میڈیا کی نفرت دیکھ کر عظیم مسلمان سکالر امام ابن تیمیہ کا وہ مشہور زمانہ قول یاد آرہاہے کہ
"اگر حق پہچاننے میں مشکل ہو تو باطل کے تیروں پر نظر رکھو جہاں یہ تیر برسیں حق وہاں ہے”

تبصرے
Loading...