ترک عرب تعلقات اچھی حالت میں نہیں ہیں، اماراتی وزیر خارجہ امور

0 2,138

ترکی اور امارات کے درمیان تعلقات اس وقت خراب ہوئے تھے جب انقرہ نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کی طرف سے قطر پر پابندیاں عائد کرنے پر قطر کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ قطر پر پابندیاں بظاہر اس بات پر لگائی گئیں تھیں کہ وہ "شدت پسند تنظیموں” بلخصوص حماس اور اخوان المسلمون کی مدد کرتا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے خارجہ امور کے وزیر مملکت ڈاکٹر انورگرگاش نے کہا ہے کہ ” یہ کوئی راز نہیں ہے کہ عرب ترک تعلقات اچھی حالت میں نہیں ہیں”۔

انہوں نے کہا کہ "ان کو واپس اچھے توازن پر لانے کے لیے انقرہ کو عرب سلامتی کا احترام کرنا ہو گا اور اپنے ہمسایوں کے ساتھ دانش اور خرد کے ساتھ چلنا ہو گا”۔

حال ہی میں ایران جو کہ ترکی کا ہمسایہ ملک ہے کے ساتھ ترکی نے روابط بڑھائے ہیں۔ شام کے معاملے پر ترکی، ایران اور روس کے درمیان مفاہمت کا فورم بھی چل رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات اسلام کو ریاستی دائرے میں لانے کا مخالف رہا ہے جبکہ دوسری طرف ترکی پر بر سر اقتدار آق پارٹی اور ترک صدر رجب طیب ایردوان اس کے برعکس رائے رکھتے ہیں جو انہیں عرب کے لیے خطرہ بننے والی اخوان المسلموں کے قریب کرتی ہے۔

اس سے قبل دسمبر میں امارتی وزیر نے ترک صدر پر تنقید کرتے ہوئے خلافت عثمانیہ کے ایک نامور گورنر مدینہ فخر الدین پاشاؒ پر الزام تراشی کی تھی۔

تبصرے
Loading...