ترک عوام کا فیصلہ – ڈاکٹر فرقان حمید

0 252

ڈاکٹر فرقان حمید

ترکی میں 15 جولائی  کی ناکام بغاوت کے بعد ملک کے سیاسی نظام کی تبدیلی کے بارے میں برسر اقتدار   جماعت جسٹس اینڈ ڈولپمینٹ پارٹی  (آق پارٹی)   کے رہنماوں نے عوام کو واضح پیغامات  دینے  شروع کردیے  تھےتاہم  ملک میں نظام کی تبدیلی کے بارے میں   ماضی میں ہمیشہ  ہی  کوشش کی گئی لیکن  کوئی بھی رہنما   اس سلسلے میں کوئی  ٹھوس قدم اٹھانے میں کامیاب  نہ ہوسکا۔ اگرچہ   صدر رجب طیب ایردوان کے  استنبول کے مئیر ہونے کے دور  ہی سے ملک میں سیاسی نظام کی تبدیلی کے بارے میں  بحث و مباحثہ   شروع ہوگیا تھا    لیکن ان کے وزیراعظم   بننے کے بعد اس سلسلے میں باقاعدہ  مختلف حلقوں سے  آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئی تھیں جس میں  ایردوان کی آواز سب سے بلند تھی اور پھر  15جولائی  کو دہشت گرد تنظیم فیتو  کی جانب سے  ملک کا نظم و نسق اپنے ہاتھوں میں لینے اور  برسراقتدار   جسٹس اینڈ ڈولپمینٹ پارٹی  سے  زبردستی اقتدار چھیننے  کی  کوشش کے نتیجے میں ملک میں  پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام متعارف کروانے کا    قومی سطح پر فیصلہ کیا گیا۔ اس سلسلے میں  سب سے پہلے  پارلیمنٹ میں  آئین   میں اٹھارہ شقوں  میں ترامیم کروانے کے لیے  ووٹنگ  کروائی گئی۔  پارلیمنٹ میں اس بارے میں  پیش کیے جانے والے بل کی  حزب اختلاف کی جماعت  نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی  نے  برسر اقتدار جماعت کی حمایت کی جبکہ   حزب اختلاف کی دیگر دو جماعتوں ری پبلیکن پیپلز پارٹی  (CHP) اور   پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (HDP)   کی مخالفت کی  اور اس طرح  ان دونوں جماعتوں کے تعاون کے بغیر  پارلیمنٹ سے  آئین کی اٹھارہ شقوں  کو  پارلیمنٹ  کے 550 ووٹوں میں  سے  339 ووٹوں سے  منظوری حاصل  ہوئی  اگر ان ترامیم کو 361 ووٹوں سے منظور کرلیا جاتا تو پھر  ملک میں ان ترامیم   کے بارے میں  ریفرنڈم کروانے کی ضرورت باقی نہ  رہتی  لیکن ایسا نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں  16 اپریل کو ریفرنڈم  کروایا گیا۔  اس  ریفرنڈم   کے بارے میں ملک دو  حصوں  یا دو بلاکوں میں  تقسیم ہو کر رہ گیا ۔ جسٹس اینڈ  ڈولپمینٹ پارٹی   کے ساتھ  نیشلسٹ موومنٹ پارٹی  نے صدارتی نظام کے حق میں مشترکہ طور پر  اپنی  مہم کا آغاز کیا جبکہ  صدارتی نظام کے خلاف  ری پبلیکن پیپلز پارٹی اور   پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی  نے مشترکہ طور پر اپنی مہم جاری رکھی۔ دونوں بلاکوں کی مہم کے دوران   عوامی جلسے  اور ریلیاں کرنے کے  لحاظ سے  جسٹس اینڈ ڈولپمینٹ پارٹی کو برتری  حاصل تھی  اور اس پارٹی نے ملک  کے مختلف شہروں میں بڑے پیمانے  پر جلسے منعقد کرتے ہوئے  اپنی حریفوں پر برتری حاصل کرلی تھی لیکن اس بار  ری پبلیکن پیپلز پارٹی اور ان کی حلیف جماعتوں کی جانب سے    بڑے  وثوق اور اعتماد کے ساتھ  اس بات کا برملا اظہار کیا جا رہا  تھا کہ اس بار صدر ایردوان  کے صدارتی نظام کو شکست دے کر ایردوان سے جان چھڑالی جائے گی۔ ری  پبلیکن پیپلز پارٹی نے    صدارتی نظام  میں ساٹھ فیصد سے  زائد ووٹ حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا   اور  اس بار انہوں نے  مختلف این جی اوز کے ساتھ مل کر اپنے سر دھڑ  کی بازی بھی لگادی تھی۔  اگرچہ  اس  بلاک نے ترکی کے مختلف شہروں میں جلسے کیے لیکن  آق پارٹی  جتنا  بڑا جلسہ منعقد کرنے میں ناکام رہی۔ اس بلاک کی سیاست  ایردوان کو  آمر یا ڈکٹیٹر ثابت کرنے اور ملک  کا تمام نظم و نسق  صرف ایک ہی انسان کے ہاتھوں ہونے کا پرچار کرنے میں گزر گئی۔ ری پبلیکن  پیپلز پارٹی  کا یہ بلاک   جو کہ صدارتی ریفرنڈم کے خلاف تھا  کو یورپی یونین کے ممالک کی جانب سے  حمایت بھی حاصل ہوگی اور یورپ میں   ایردوان  کے حق  میں مہم چلانے کی کئی ایک یورپی ممالک  نے پابندی عائدکردی تاہم اس کا  فائدہ       ری پبلیکن  پیپلز پارٹی  نہ اٹھا سکی بلکہ  یورپ میں مقیم ترک باشندوں نے اسے اپنی شناخت   اور بقا کے لیے ایک وار تصور کرتے ہوئے    ریفرنڈم کے حق میں ووٹ دے کر صدر ایردوان  کی کامیابی کی راہ  ہموار کرنے میں نمایاں  کردار ادا کیا۔ اگرچہ  راقم نے اپنے گزشتہ ہفتے کے کالم میں صدر  ایردوان  کے چون فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کیے جانے سے  آگاہ کیا تھا اور حالات بھی   اس صدر ایردوان کے بڑی آسانی سے کامیابی  حاصل کیے  جانے کے لیے ساز گار دکھائی    دے رہے تھے لیکن     اس موقع  پر ری پبلیکن پیپلز پارٹی    نے  صدر ایردوان کے  مشیر کی جانب سے   ملک میں صوبائی نظام متعارف کروانے  کے غیر متوقع بیان  نے حالات  کو ری پبلیکن پیپلز پارٹی کے حق میں کافی حدت تک ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ترکی   میںسوبائی نطام کو گناہ کبیرہ سمجھا جاتا ہے  اور کوئی بھی ترک ملک میں صوبائی نظام کے حق میں نہیں ہے  بلکہ وہ  اسے ملک کی  وحدانیت اور یکجہتی پر ایک وار  سمجھتا ہےاس نظام کی کھل کر مخالفت  کرتا ہے۔ صدر ایردوان کے مشیر کے بیان نے  ری پبلیکن  پیپلز پارٹی کو   ملک میں  صوبائی نظام  متعارف کروانے  واویلا مچاتے ہوئے حالات کو  اپنے لیے سازگار بنانے کی اخری کوشش کی جس میں  یہ پارٹی کافی حد تک کامیاب بھی رہی اور آخری دو دنوں میں  دو فیصد کے لگ بھگ ووٹ اپنے پلڑے میں ڈلوانے میں کامیاب رہی۔  صدر  کی حلیف جماعت نیشلسٹ موومنٹ پارٹی  کے چئیرمین  دولت باہچے لی   کی جانب سے صدر کے شمیر کے فوری طور پر  عہدے سے ہٹائے جانے کے مطالبے  نے جلتی پر تیل کا کام کیا  اور عوام کے دلوں میں شک و شبہات  پیدا کردیےاور اس کا  بھر پور فائدہ  بھی اٹھایا۔اس ریفرنڈم میں ر ی  پبلیکن پیپلز   پارٹی پہلی بار مختلف این جی اوز کو اپنے مقاصد  میں استعمال کرنے میں  کافی حد تک کامیاب رہی ہے۔ 

اس صدارتی  ریفرنڈم کے نتائج پر اگر ایک نگاہ ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کی صدر ایردوان کو اس سے قبل  صدارتی  انتخابات  کے وقت جتنے ووٹ ملے تھے  اس بار بھی ان کو  کم و بیش اتنے ہی ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔ یعنی دوسرے الفاظ میں  کہا جاسکتا ہے کہ  اس ریفرنڈم میں ان کی حلیف جماعت نیشلسٹ موومنٹ پارٹی  اپنی موجودگی  کا احساس دلوانےیا ان کو قائل  کرنے   میں ناکام رہی ہے۔ یہ جماعت دراصل دو گروپوں  میں تقسیم ہو کر رہ گئی تھی  اور توقع کی جا رہی تھی اس گروپ کا   بڑا حصہ  پارٹی کے چئیر مین دولت  باہچے لی کی قیادت میں  آٹھ فیصد تک ووٹ ڈالنے میں کامیاب رہے گا  لیکن  ریفرنڈم کے روز ایسا ہرگز نظر نہیں آیا بلکہ  اس پارٹی سے  چند ایک مقامات  کو چھوڑ کر  کوئی زیادہ ووٹ نہیں پڑے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو یہ صدر ایردوان اور  ان کے ساتھیوں جن  میں وزیراعظم بن علی یلدرم  پیش پیش ہیں   بہت بڑی کامیابی ہے کیونکہ ترکی میں آج تک   کبھی بھی پارلیمنٹ  یا پھر عوام  کی خواہشات کے مطابق تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے بلکہ یہ تبدیلی فوج  کے دباؤ  یا پھر مارشل لاء لگانے ہی کی بدولت   ہوتی رہی ہے۔   ترکی میں   سیاسی  رہنما کبھی بھی ملک میں سیاسی   نظام میں تبدیلی لانے  میں  کامیاب  نہیں ہوئے ہیں۔   برسر اقتدار جسٹس  اینڈ ڈولپمینٹ پارٹی نے صدارتی  نظام   متعارف کروانے کے سنجیدہ طور پر گزشتہ سال اپنی مہم کا آغاز کیا تھا  اور اس وقت پارٹی کے اندر   سے بھی صدارتی نظام کی مخالفت کی جارہی تھی  لیکن ایردوان نے  پارٹی کو اپنا ہمنوا بنانے  ور عوام کو  اس صدارتی نظام کو متعارف  کروانے کے لیے  اپنی کوششوں کو جاری رکھا  ۔ 

دہشت گرد تنظیم فیتو کی ناکام بغاوت سے  قبل   ملک میں صدارتی نظام کے حق میں فضا  سازگار نہ تھی  بلکہ صرف پچیس فیصد عوام ہی  اس نظام کی حمایت کرتے ہوئے دکھائی دے رہے تھےلیکن  ناکام بغاوت نے صدر ایردوان  کے لیے  صدارتی نظام متعارف کروانے کی راہ ہموار کردی  اور انہوں نے بڑی تیزی سے اپنی اس مہم کو  جاری رکھا  اور یہ بھی ایک حقیقت ہے اگر صدر ایردوان کو مزید  دو تین ماہ  مل جاتے تو وہ لازمی طور پر  پانچ سے  دس فیصد اپنے ووٹوں  میں اضافہ کرے میں کامیاب رہتے  کیونکہ  انہوں نے یہ کامیا بی  بہت ہی قلیل مدت میں حاصل کی  اور پہلے اپنی جماعت کو اپنا ہمنوا بنایا  اور اس کے بعد عوام  کی بڑی تعداد کو اپنا ہمنوا بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کامیابی پر سب سے پہلے وزیراعظم بن علی یلدرم  نے آق پارٹی کے مرکزی دفتر  میں  پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے  مبارکباد پیش کی اور شکریہ ادا کیا اور اس کے بعد  صدر ایردوان نے   پہلے پریس کانفرنس سے خطاب کیا ور بعد میں استنبول  میں صدارتی محل کے سامنے یکجا ہونے والے  اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے واضح کردیا کہ اب ترکی کی ترقی کی راہ  میں کسی کو بھی رکاوٹیں  کھڑی کرنے کی اجازت  نہیں دی جائے گی۔ کالم کے آخر میں یہ عرض کرتا چلوں کہ اس  نئے صدارتی نظام پر عمل درآمد  تین نومبر 2019 کو ہونے والے صدارتی  انتخابات کے بعد ہی عمل درآمد شروع کیا جائے گا اور اس دو سالہ عرصے کے دوران ملک کے پارلیمانی نظام پر عمل درآمد کا سلسلہ جاری رہے گا۔اس صدارتی  ریفرنڈم کی سب سے اہم بات  86 فیصد ووٹروں کا   ووٹ ڈالنا ہے جو کہ تمام یورپی ممالک سے بہت زیادہ ہے۔

تبصرے
Loading...