جرمنی بہتر تعلقات قائم رکهنے کے لئے دوسروں سے برتاؤ کا طریقہ سیکهے: ترک دفتر خارجہ

0 202

ترکی نے برلن حکومت کے معاندانہ رویے پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جرمنی بہتر تعلقات قائم رکهنا چاہتا ہے تو اسے یہ بهی سیکهنا چاہئے کہ دوسروں سے برتاؤ کیسے کیا جاتا ہے-
دونوں ملکوں کے مابین اس نئے سفارتی تناؤ کی وجہ سے ترک وزیر انصاف اور وزیر اقتصادیات کے جرمنی میں خطاب پر پابندی بنی ہے- جبکہ انجیلا مرکل نے اپنے حالیہ دورے کے موقع پر یقین دہانی کرائی تهی کہ ریفرنڈم کے حوالے سے جلسے جلوسوں کے انعقاد پر کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوگا-
جرمن حکومت کے اس اقدام پر صدر ایردوان نے بهی شدید رد عمل کیا اظہار ہے- انہوں نے جرمنی میں مجوزہ سرگرمیوں کو مقامی حکام کی جانب سے منسوخ کیے جانے پر جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ "ہمارے وزراء کو بولنے کا موقع نہیں دیا گیا لیکن کیا وہ اس سے ریفرنڈم پر آنے والے نتائج کو بدل سکتے ہیں؟! میں نے خود وڈیو کانفرنس کے ذریعے جلسے میں شرکت کرنا تهی لیکن 2 گهنٹے کے اندر وہاں کی عدالت فیصلہ سناتی ہے اور میرے خطاب کو روک دیا جاتا ہے- لیکن کالعدم تنظیم PKK کے سرغنہ جمیل قندیل کو اپنے حامیوں سے رابطہ کرنے اور خطاب کا موقع دیا جاتا ہے- جو کہ سراسر دہشت گردی میں معاونت اور سہولت کاری ہے-”
ترک وزیر خارجہ مولود جاویش اوغلو نے بهی خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ
"جرمن حکومت کو اس کے نتائج کے بارے میں بهی سوچنا چاہئے- ترکی کوئی دوسرے درجہ کا ملک نہیں ہے اور نہ کسی کے ماتحت ہے-”

قبل ازیں جرمنی نے صدارتی نظام کے ریفرنڈم سے متعلق رائے عامہ ہموار کرنے کے حوالے سے سرگرمیوں پر ترک شہریوں کو تنگ کرنا شروع کیا، سرگرمیاں محدود اور ریلیوں پر پابندیاں لگا دیں- جبکہ وزراء کو اجتماعات کی اجازت نہ دینا جمہوری اصولوں اور آزادی اظہار کے منافی ہے- یورپیوں کو روکنے کے لئے اس طرح کے اقدامات جمہوری اقدار سے مطابقت نہیں رکهتے اور ترکی میں ہونے والے ریفرنڈم پر اثر انداز ہونے کی کوشش اور ترکی کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کا واضح ثبوت بهی ہے-

یاد رہے کہ ترکی میں مستقبل قریب میں صدرارتی نظام رائج کرنے کے موضوع پر ایک عوامی ریفرینڈم کرایا جائے گا- جس کی منظوری کے لئے عوامی تائید حاصل کرنے کی خاطر ترک وزیر انصاف بکیر بوز داغ جرمنی میں ترک نژاد باشندوں کے 2 سیاسی اجتماعات سے خطاب کرنا چاہتے تهے، جبکہ جرمنی میں جمعرات کے روز ان پر پابندی لگا دی گئی تهی. ان میں سے ایک سیاسی ریلی جمعرات کی شام منعقد کی جانی تهی-
جرمنی میں 30 لاکھ ترک رہائش پزیر ہیں- جن میں سے 155 لاکھ ترک شہریت کے حامل ہیں اور ووٹ کا حق رکهتے ہیں-

تبصرے
Loading...