"دہشت گرد تنظیم” تسلیم کرنے سے انکار پر”اخوان المسلمون” کا ایردوان سے اظہار تشکر

0 520

اخوان المسلمون نے ترک صدر رجب طیب ایردوان کی طرف سےدنیا کی بڑی اسلام پسند تحریک کو "دہشت گرد تنظیم” تسلیم نہ کرنے کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ "اخوان المسلمون کبهی کسی حق کی موافقت میں کهڑے ہونے والے اور نظریہ رکهنے والے کومایوس و رسوا نہیں کرے گی”۔

اخوان المسلمون کے نائب مرشد عام ابراہیم منیر نے کہا ہے کہ اخوان اور ان کے نظریے کے خلاف ذرائع ابلاغ میں ہر طرف سے مہمات جاری ہیں تاہم صدر رجب طیب ایردوان کا مؤقف منصفانہ اور اصولی ہے۔  ایردوان  کی ریاست دنیا کے تمام مظلوموں کی ذمہ داری اپنے سر لئے ہوئے ہے۔

ڈاکٹر محمد مرسی

یادرہے کہ صدر رجب طیب ایردوان نےایک عرب ٹی وی چینل سے انٹرویو کے دوران اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم تسلیم نہ کرتے ہوئے کہا تها کہ "ﻭﮦ ذاتی طور پر اخوان المسلمون ﮐﻮ ﺩﮨﺸﺖ ﮔﺮﺩ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ یہ ﮐﻮﺋﯽ مسلح گروہ ﻧﮩﯿﮟ، بلکہ ﺍﯾﮏ ﻓﮑﺮﯼ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﮨﮯ جو مختلف ممالک میں موجود ہے اور کسی مسلح کارروائی میں ملوث نہیں ایسے میں اسے دہشت گرد قرار دینا درست نہیں، اخوان ترکی میں بهی موجود ہے لیکن کسی ایسی سرگرمی میں ملوث نہیں”۔

اخوان المسلمون کے نائب مرشد عام نے کہا کہ رجب طیب ایردوان کا بحیثیت صدر مؤقف منصفانہ اور اصولی ہے جو نہ ان کے لئے اجنبی ہے اور نہ ترکی کے لئے اور نہ ہی ترک حکومت اور عوام کے لئے جو ہميشہ دوسری قوموں کے حقوق کی حمایت میں آگے رہی ہے، جنہوں نے کبهی مظلوم و مجبور قوموں کی مدد سے منہ نہیں موڑا، جو پوری دنیا میں انسانی حقوق کے حصول کے لئے ڈٹی ہوئی ہے۔

نائب مرشد عام ابراہیم منیر نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ "وہ کبهی ایردوان کو رسوا اورناامید نہیں کریں گے چاہے ان پر من گهڑت باتوں سے کتنا ہی  دباؤ ڈالا جائے. وہ ہر حال میں اپنی جماعت کا تحفظ کریں گے اور ہمیشہ پرامن رہیں گے. وہ ترکی قطر اور دیگر میزبان ریاستوں کے قوانین پر بهی سختی سے عمل پیرا رہیں گے”۔

ان کا مزید کہنا تها کہ "اخوان المسلمون اپنے پرامن نظریہ سے کبهی رو گردانی نہیں کرے گی جس نے اس اصول کی مخالفت کی وہ ہم میں سے نہیں۔ انہوں نے مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع کے قول کا حوالہ دیا کہ ‘ہمارا پرامن رہنا گولی سے زیادہ طاقتور ہے”۔

گزشتہ جمعہ رجب طیب ایردوان نے سعودی چینل ‘العربیہ’ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تها کہ "وہ اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم نہیں سمجهتے کیونکہ یہ کوئی مسلح گروه نہیں بلکہ نظریاتی جماعت ہے. ہم نے نہ ان کو ایسا پایا ہے اور نہ ایسی کوئی مسلح سرگرمی دیکهی اگر ایسا ہوتا تو اسے ہرگز برداشت نہ کیا جاتا اور ہمارا ردعمل وہی ہوتا جو دہشت گرد تنظیموں کے ساته ہوتا ہے”۔

واضح رہے صدر ایردوان کا یہ مؤقف 20 جنوری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اپنےعہدے کا حلف اٹهانے کے بعد سامنے آیاہے۔ ٹرمپ کے اقتدارسنبھالنے کے بعد سے اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قراردیئے جانے امکانات ظاہر کیے جارہے تھے۔۔

اخوان المسلمون کی بنیاد 1928ء میں حسن البناء نے رکهی. جس کو مصری انتظامیہ نے دسمبر 2013ء سے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہوا ہے۔
اس اقدام کا اعلان 2013ء میں فوجی بغاوت کے بعد مصری تاریخ کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی جن کا تعلق اخوان سے ہے کی منتخب جمہوری حکومت پر قبضے کے بعد کیا گیا. جس میں عبدالفتاح السیسی وزیر دفاع تهے۔

تبصرے
Loading...