روس اسد رجیم کے ساتھ تعاون ختم کردے، رجب طیب ایردوان

0 379

صدر رجب طیب ایردوان نے روس سے کہا ہے کہ وہ ادلب میں ہونے والے کیمیائی حملوں کے بعد اسد رجیم کے ساتھ تعاون پر نظر ثانی کرے۔

انہوں نے یہ بات چینل 24 اور 360ٹی وی کے ساتھ ساتھ علیم ایف ایم کو مشترکہ انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ صدر ایردوان نے مورات چیچک، ارسوئے دادا اور حکمت گانچ کے سوالات کے جوابات دئیے۔

صدر ایردوان نے انٹرویو میں موجودہ پارلیمانی نظام حکومت اور آنے والے صدارتی نظام حکومت کی خوبیاں گنوائیں اور بتایا کہ نیا نظام حکومت کیسے سیاسی اور سماجی زندگی کو بدلنے کا باعث بنے گا۔

صدرایردوان نے شام کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کیمیائی حملے بارے کہا کہ ترک فارینزک رپورٹس، رڈار ریویوز اور ملڑی رپورٹس کے مطابق کیمیائی حملے میں اسد رجیم شامل تھی۔

صدر نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ یہ ردعمل امریکا تک محدود نہیں رہے گا۔ میں امید کرتا ہوں کہ روس بھی اس معاملے میں اپنا ردعمل دے یا کم از کم اسد رجیم کی حمایت ترک کر دے۔ اس میں تیزی لانا ہو گی اور اس بلا سے جھٹکارا حاصل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اسد نے شام کو دہشتگرد اسٹیٹ بنا دیا ہے، ایک ملین سے زائد افراد کو قتل کر دیا ہے اب اس کی صرف مزمت نہیں کی جانی چاہیے۔ مذمت ناکافی ہے۔

ایردوان

انہوں نے بتایا کے ڈبلیو ایچ او کے ساتھ کام کرتے ہوئے ترک حکومت نے کیمیائی حملوں کے علاج کے دوران اعصابی موت پیدا کرنے والے کیمیائی جز کی تشخیص کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شام کے مسئلے کا حل یہی ہے کہ ظلم کا خاتمہ کر کے حکومت کا اختیار صرف اور صرف وہاں کی عوام کو دیا جائے۔ انہوں نے کہا آستانہ مذاکرات ایک اچھی ڈویلپمنٹ تھی لیکن ہم جیسا چاہتے تھے یہ ویسے نہیں چل رہے۔

تبصرے
Loading...