سیاست فٹ بال کی طرح ایک ٹیم گیم ہے، صدر رجب طیب ایردوان

0 254

استنبول میں پریمیئر سمٹ 2 سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا: "میں سمجھتا ہوں کہ سیاست اور فٹ بال بنیادی طور پر کئی مشترک پہلو رکھتے ہیں۔ کسی بھی کھیل کی طرح سیاست بھی مقابلہ اور ریس ہے۔ اس مقابلے کا پہلا مرحلہ انتخابات کی صورت میں آتا ہے جبکہ دوسرا مرحلہ ایک کٹھن ذمہ داری کی صورت میں عوام کی خدمت ہے۔ بالکل جیسے کھیل میں بغیر کسی منصوبہ، حربہ اور حکمت عملی کے کپ جینے کے امکانات صفر ہو جاتے ہیں، اسی طرح سیاسی جماعتوں کو عوام کو دینے کے لیے کچھ نا ہو تو وہ ناکام ہو جاتی ہیں”۔

ترک یونین آف کلبز، یونین آف یورپین فٹبال ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام خالچ کانگریس سنٹر، استنبول میں منعقد ہونے والی پریمیئر سمٹ 2 سے صدر رجب طیب ایردوان نے خطاب کیا۔ 

فٹ بال مقابلے اور یکجہتی کی علامت ہے

صدر ایردوان نے کہا: "کھیل، بالخصوص فٹ بال کے ساتھ مختلف شناختیں، کردار اور کہانیاں وابستہ ہیں۔ فٹ بال صرف ایک قسم کا کھیل نہیں ہے۔ یہ اس سے بہت آگے ہے۔ فٹ بال مقابلہ اور قربانی کی طرح ہے۔ یہ انصاف، دوستی اور یکجہتی کا کھیل ہے۔ اس کھیل میں جیتنے کے لیے آپ کو صرف ایک قابل کھلاڑی کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ انتظامی اور ٹیکنکل مدد درکار ہوتی ہے جن کے درمیان ہم آہنگی موجود ہو۔ انتظامیہ، کھلاڑیوں، ریفری اور ٹیکنکل اسٹاف کے درمیان یکجہتی شائقین کو لطف اور جوش و جذبہ دیتی ہے۔ اس کھیل میں آپ تب تک میدان نہیں چھوڑ سکتے جب تک ریفری آخری سیٹی نہ بجا دے، اسی لیے اس کھیل مایوسی کی کوئی جگہ نہیں”۔

کھیلوں کی طرح، سیاست کی روح بھی مقابلے کی کسی ہے

صدر ایردوان نے کہا: "بحثیت آپ کا بھائی ہونے کے، جس نے بچپن سے فٹ بال سے محبت کی، اپنی جوانی میں کئی کلبوں میں فٹ بال کھیلا۔ میں کوئی پیشہ ور کھلاڑی نہیں، شوقیہ کھلاڑی ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ ایک آدمی اس سے کیا حاصل کر سکتا ہے۔ زندگی کے ہر لمحے پر اس کھیل سے نظم و ضبط، ٹیم ورک، خلوص اور کئی صلاحیتیں سیکھی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ سیاست اور فٹ بال بنیادی طور پر کئی مشترک پہلو رکھتے ہیں۔ کسی بھی کھیل کی طرح سیاست بھی مقابلہ اور ریس ہے۔ اس مقابلے کا پہلا مرحلہ انتخابات کی صورت میں آتا ہے جبکہ دوسرا مرحلہ ایک کٹھن ذمہ داری کی صورت میں عوام کی خدمت ہے۔ سیاست، فٹ بال کی طرح ایک ٹیم گیم ہے، اور اس میں ایک مضبوط ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ بالکل جیسے کھیل میں بغیر کسی منصوبہ، حربہ اور حکمت عملی کے کپ جینے کے امکانات صفر ہو جاتے ہیں، اسی طرح سیاسی جماعتوں کو عوام کو دینے کے لیے کچھ نا ہو تو وہ ناکام ہو جاتی ہیں، فٹ بال کی طرح، سیاست جذبے، محبت اور لگن کے بغیر نہیں کھیلی جا سکتی۔ آپ کو خود کو یکسو کرنا ہوتا ہے”۔

ہم نے شہروں میں کئی نئے اسٹیڈیم بنائے ہیں

صدر ایردوان نے کہا: ” 2002ء تک ریاست کی تاریخ میں 1575 کھیلوں کی سہولیات تعمیر کی گئیں۔ ہم نے 14 سالوں میں 1924 نئی سہولیات تعمیر کیں۔ ہم سے پہلے یہاں 12 اتھلیٹ ٹریک تھے، ہم نے یہ تعداد 52 تک پہنچا دی جبکہ 10 مزید ٹریکس پر اس وقت کام جاری ہے۔ ہم نے بناوٹی گھاس والےفٹ بال گراؤنڈز کی تعداد 578 سے 3238 کر دی۔ یہاں 46نیم اوّلمپک اور اوّلمپک پول تھے ہم نے ان 14 سالوں میں 78 نئے اوّلمپک پول بنائے۔ ہم نے کھیلوں کے ہالزکی تعداد 372 سے 825 کردی۔ ہم نے اپنے کئی شہروں میں دنیا کے بہترین اور منفرد اسٹیڈیم تعمیر کیے”۔

فٹ بال کی ترقی کے لیے فٹ بالرز پر سرمایہ کاری کرنا چاہیے

2003ء سے اب تک ترکی 659 بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلے اپنی زمین پر منعقد کروا چکا ہے، اور انفراسٹکچر کی تعمیر و ترقی میں آگے بڑھا ہے۔ صدر ایردوان نے مزیدکہا: "ہم نے اپنی پریاپتتا کو ثابت کیا ہے، استنبول، ارضروم، اناطالیہ، طرابزون، مرسین سمیت ہمارے کئی شہر جدید سہولیات کے ساتھ بین الاقوامی مقابلہ کے لیے تیار ہیں”۔

تبصرے
Loading...