سیکولرازم کو مذہب مخالف سمجھا جاتا ہے، ہم کہتے ہیں ایسا نہیں، صدر ایردوان

0 188

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہےکہ: "وہ اخوان المسلمون کو دہشت گرد جماعت نہیں تسلیم نہیں کرتے کیونکہ وہ کوئی عسکری تنظیم نہیں ہے، وہ ایک فکری تحریک ہے”۔

انہوں نے کہا: "میں ہرگز اخوان المسلمون کے ممبران پر پابندی عائد نہیں کروں گا جب تک وہ عسکری یا پُر تشدد سرگرمیوں کا سہارا نہیں لیتے "۔ انہوں نے مزید کہا، : "میں نے (اخوان المسلمون کی جانب سے) کوئی عسکری سرگرمی نہیں دیکھی، اگر میں نے تنظیم کی کوئی عسکری سرگرمی دیکھی تو میرا وہی ردعمل ہو گا جو میں باقی دہشتگرد تنظیموں پر دیتا ہوں”۔

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا” "ترکی میں کئی فکری تحریکیں اور تنظیمیں موجود ہیں جو آزادانہ اپنی سرگرمیاں بجا لا رہی ہیں”۔

العربیہ
فوٹو: العربیہ [عربی]۔
شامی قضیے پر سوالات کے جواب دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا: "اسد رجیم نے شام میں لاکھوں معصوم لوگوں کا قتل عام کیا ہے”۔ انہوں نے کہا” "ترکی اس وقت 2.8ملین شامی مہاجرین کو پناہ دیئے ہوئے ہے”۔ انہوں نے جرابلس اور الراعی کے درمیان "محفوظ علاقہ” اور "نو فلائی زون” قائم کرنے پر زور دیا۔

ناکام بغاوت پر سوال کے جواب میں صدر ایردوان نے کہا: "ہم نے خطرناک سطح پر ایک دہشتگرد گروہ کا سامنا کیا۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ ہم نے اس بغاوت کو ناکامی سے دوچار کیا۔ اس عمل میں ہمیں 248 جانوں کا نقصان اٹھانا پڑا”۔

صدر ایردوان نے کہا: "اللہ کے خصوصی فضل سے ہم اس قابل ہیں کہ پُرخلوص عوامی تائید رکھتے ہیں۔ فوجی بغاوت کو ناکامی سے دوچار کرنے میں کئی شہداء نے اپنی روحوں کا ملک کی خاطر قربانی کے لیے پیش کیا۔ یہ دہشتگرد تنظیم ہمارے اندر 40 سال تک پنپتی رہی اور اچانک ہم پر حملہ آور ہوئی۔ اس کا سربراہ امریکا بھاگ گیا اور وہاں سے اپنے گروپ کا چلانے لگا۔ یہ تنظیم دنیا کے 170 ممالک میں موجود ہے”۔

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ سیکولرازم مذہب کے خلاف ہے۔ لیکن یہ ایک ایسا نظام ہے جو تمام مذاہب اور عقائد پر عمل کرنے کی آزادی اور ضمانت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا: "افراد سیکولر نہیں ہو سکتے۔ لیکن ریاست کا سیکولر ہونا ضروری ہے۔ سیکولرازم کا مطلب تمام عقائد کو برداشت کرنا ہے، ریاست تمام مذہبی معاملات میں غیرجانبدار ہوتی ہے اور تمام مذاہب اور عقائد سے برابر فاصلہ رکھے ہوئے ہوتی ہے۔ کیا یہ غیر اسلامی ہے؟ کیا یہ اسلام سے متصادم ہے؟ کچھ لوگ ہیں جو اس کی نئی تشریح کر رہے ہیں اور نئے تصورات پیش کر رہے ہیں۔  ہمیشہ سیکولرازم کو مذہب مخالف سمجھا جاتا ہے، سیکولرازم، الحاد کے ہم پلہ بنا دیا گیا۔ ہم کہتے ہیں نہیں، سیکولرازم کا مطلب ہے کہ ریاست کسی ایک کو دوسرے پر برتری دئیے بغیر تمام گروہوں کو آزادی کی ضمانت دے۔ یہ وہ سیکولر ازم ہے جو ہم سمجھ پائے ہیں”۔

 

تبصرے
Loading...