شامی بچوں کے جسموں پر جنگ کا مکروہ کھیل – سعادت عروچ

0 274

سعادت عروچ

شام کے میدان جنگ سے مزید دل دہلانے والی تصویر یں موصول ہورہی ہے ۔
مرنے والے چھوٹے چھوٹے بچوں کی تصویریں جو منگل کی صبح شام کے ادلب قصبہ میں جان کی بازی ہار گئے ۔رپورٹس کے مطابق شامی فوج نے کیمیائی ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کیا ہے اور سومعصوم شہری جن میں اکثریت بچوں کی تھی اپنا آخری سانس لے چکے ہیں ،جب پہلے ان کے گلوں میں سانسیں بند ہونے لگیں اور شدید سردرد شروع ہوا جو ان کی زندگیوں کے خاتمے کا سگنل بنا۔مجھے حلبجہ کا قتل عام یاد ہے اور ترکی کے جنوبی حصے میں پی کے کے کی دہشت گردانہ کارروائی بھی یاد ہے ۔ بچے جو اپنا دفاع نہیں کرسکتے ایک بار پھر بڑوں کے کھیل میں نشانہ بنے ہیں ۔مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ انٹرنیشنل کمیونٹی جس طرح اس سے قبل اسد رجیم کے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر خاموش تھی ، اب بھی چپ سادھے ہوئے ہے۔وہ ایک بار پھر اسد رجیم کی اس وحشیانہ اقدام پر کوئی سخت رد عمل دینے میں ناکام رہی ہے ۔میں اس سانحے پر کوئی پیچیدہ ڈپلومیٹیک یا سیاسی آرگومینٹ نہیں دینا چاہتی بلکہ کچھ سادہ سے حقائق پر بات کرنا چاہتی ہوں ۔
ہمارے پڑوسی ملک شام میں ایک "لیڈر ” رہتا ہے جس کا نام بشار اسد ہے ۔اور وہ پچھلے تین سال میں ملکی خانہ جنگی میں 162 بار اپنے باشندوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرچکا ہے ۔مزید برآں ابھی ابھی اس کے جیٹ طیارے ایک ہاسپٹل پر بمباری کرچکے ہیں، جہاں کیمیکل بموں سے زخمی ہونے والے مریضوں کو لے جایا گیا تھا ۔وہ اپنے پیچھے کوئی نشانی نہیں چھوڑنا چاہتا ، اور ہر ثبوت مٹادینا چاہتا ہے ۔پچھلے دس دنوں میں اس نے حما، دمشق اور ادلب پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملے کیے ہیں ، ادلب پر آخری حملے میں سو سے زیادہ عام شہریوں کا قتل عام کیا ہے ۔
آیئے کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے والے اس قاتل کی ہٹ لسٹ پر دوبارہ نظر ڈالتے ہیں
21اگست 2013 شمالی گووٹا کے علاقے میں کیمیائی حملے میں 1400 لوگ مارے اور 1000 زخمی کردیئے
6ستمبر 2016 علیپو کے سکیری ضلع میں 100 لوگ زخمی کردیئے ۔
24نومبر 2016 کو علیپو کے جدزماتلی اور امرہ ضلع میں 13 لوگ زخمی کردیئے
9 دسمبر 2016 کو علیپو کے مشرقی علاقے میں 46 شہری ماردیئے اور 230 زخمی کردیئے
12 دسمبر 2016 دارالحکومت دمشق میں سینکڑوں لوگ کیمیائی ہتھیاروں سے گھائل کردیئے
2017 کے اوائل سے لے کر ادلب کے حالیہ حملے تک شامی رجیم نے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال جاری رکھا ہواہے اور اپنے ہی عوام کے خلاف زہریلے ہتھیار بے دردی سے استعمال کررہا ہے ۔
صرف یہی نہیں کہ مغربی دنیا کھلی
آنکھوں سے یہ ظلم دیکھ رہی ہے اور خاموش ہے بلکہ اپنے لوگوں کو یقین بھی دلارہی ہے کہ اسد کا تختہ الٹنے نہیں دیا جائے گا۔”معاصر” دنیا بچوں کی نعشوں اور معصوم شہریوں کی لاشوں کے اوپر جنگی گیم کھیلنا جاری رکھے ہوئے ہے اور عالمی طاقتوں کی انصاف پسندی کے اوپر مسلسل طمانچے مارے جارہے ہیں ۔مگر طیب ایردوان کے باب میں ایسا نہیں ہے ۔ وہ مظلوم لوگوں کے حق میں عالمی طاقتوں کی اس بے حسی کے خلاف بار بار آواز اٹھا چکے ہیں ۔ان کا یہ بیان کہ "دنیا پانچ سے بڑی ہے "اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اقوام متحدہ کے پانچ مستقل ممبر وں کو چھوڑ کر باقی دنیا کیوں بے عملی پر قناعت کیئے ہوئے ہے ۔
اسدی رجیم کے اس طرح کے حملوں اور مغربی دنیا کی خاموشی کے بعد ہمارے پاس مرے ہوئے بچوں کی تصویریں ہی رہ جاتی ہیں

تبصرے
Loading...