صدارتی ریفرنڈم سے قبل نتائج – ڈاکٹر فرقان حمید

0 267

ڈاکٹر فرقان حمید

ڈاکٹر فرقان حمید پہلے پاکستانی ہیں جنہوں نے انقرہ یونیورسٹی سے ترک زبان میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ 1994ء میں وہ نہ صرف انقرہ یونیورسٹی میں ماہر زبان تعینات ہوئے بلکہ ٹی آر ٹی کی اردو سروس کے لیے ترجمان کی حیثیت سے خدمات سر انجام دینا شروع کر دیں۔ وہ کئی اخبارات اور خبر رساں اداروں کے ساتھ بھی منسلک رہے ہیں۔ انہیں کئی بار ترک صدور کے ساتھ ترک اردو ترجمانی کا اعزاز بھی ملا ہے۔ اس وقت وہ پاکستانی نیوز چینل جیو، اخبار جنگ اور ٹی آر ٹی کی اردو سروس کے سربراہ ہیں۔ وہ ہفتہ وار جنگ اخبار میں کالم لکھتے ہیں۔

ترکی میں16 اپریل  کے  صدارتی  ریفرنڈم کو اب جبکہ  صرف  چار دن باقی رہ  گئے ہیں مختلف سیاسی جماعتوں کی   پراپگنڈہ مہم میں بڑی تیزی  آگئی  ہے اور  سیاسی درجہ حرارت نقطہ عروج کو چھو رہا ہے۔ ملک میں صدارتی نظام   متعارف کروانے کے خواہاں  ایردوان کی زندگی  جہد مسلسل سے عبارت ہے۔ وہ صرف خواب نہیں بُنتے، ان کو عمل کے قالب میں ڈھالنے کا ہنر بھی جانتے ہیں۔ان کی زندگی داستانِ جہد و عزیمت ہے۔  ایردوان  نے یہ  مقام جہدِ مسلسل اور عملِ پیہم سےعوام کے دلوں میں اپنی جگہ بناتے ہوئے حاصل کیا ہے۔ دنیا میں  شاید ہی  کوئی رہنما  ایسا ہو گزرا ہو جس نے اقتدار میں رہتے ہوئے    مسلسل اپنی مقبولیت میں  اضافہ  کیا ہو۔  یقیناً یہ ان کی اس شاندار کارکردگی کا صلہ ہے، جو اقتدار سنبھالنے کے بعد سے وہ دکھاتے چلے آرہے ہیں۔ صدر ایردوان اس بات پر پختہ یقین  رکھتے ہیں کہ ملک کا موجودہ پارلیمانی نظام  ملک کی ترقی کے  لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔  سن 1923ء میں اپنے قیام سے لے اب تک  ترکی میں  65 حکومتیں تشکیل پا چکی ہیں اور یوں ہر حکومت کی  عمر  تقریباً 18 ما ہ بنتی ہے(ترکی میں کثیر الجماعتی  جمہوریت کا آغاز 1950ء ہی میں ہوا تھا یعنی  1923ء سے 1950ء تک ری پبلیکن  پیپلز پارٹی ہی ملک میں  واحد  جماعتی نظام کی وجہ سے برسر اقتدار رہی تھی  اور اگر اس دور کو  پارلیمانی نظام سے نکال  دیا جائے تو   ہر حکومت  کا دور اقتدار  اٹھارہ  ماہ سے بھی کم بنتا ہے جس سے پارلیمانی  نظام کے کس قدر  غیر مستحکم ہونے کی عکاسی بھی ہو جاتی ہے )  اگرترکی میں   ہر حکومت اپنی  معیاد  پوری کرتی  تو شاید ملک  میں سیاسی استحکام  قائم ہوسکتا تھا اور ترکی ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا تھا لیکن   عدنان میندریس  کی مضبوط حکومت  کے بعد  ملک میں  سیاسی افراتفری ، مارشل  لاء کے سوا  کچھ بھی حاصل نہ ہوسکا ۔ ستر کی دہائی ترکی کی سیاسی تاریخ  کے سیاہ ترین باب کی حیثیت رکھتی ہے جب ملک   دائیں اور بائیں بازو کی سیاست کے بھنور میں پھنس کر رہ گیا تھا اور پھر  1983ء سے 1987ء  تک  ترگت اوزال نے  ملک میں سیاسی استحکام قائم کرتے ہوئے ملک میں نج کاری کو فروغ دیا اور اسے کمیونسٹ  طرز  کی چھاپ  سے نکال کر ایک آزاد اورخود مختیار ملک کی حیثیت سے دنیا بھر  سے متعارف کروایا۔ ترگت اوزال کے بعد  آق پارٹی  کے 2002ء میں برسراقتدار   آنے تک ملک ایک بار پھر سیاسی عدم استحکام کا شکارہوکر مالی لحاظ سے دیوالیہ پن کے قریب پہنچ گیا۔  ملک میں  ایک سال سے بھی کم مدت کی حکومتوں  کے دور میں کوئی منصوبہ بندی کرنا اور ان پر عمل کروانا ممکن  ہی نہ رہا  اور یوں    ترکی سیاسی  عدم استحکام کے شکار ممالک میں سرِ فہرست رہا ۔ 2002ء سے جسٹس اینڈ ڈولپمینٹ  پارٹی (آق پارٹی)کے برسر اقتدار میں آنے کے بعد ہی سے ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوا ہے  اور دیکھتے ہی دیکھتے     اس ملک نے کئی ایک ممالک کو اپنے پیچھے چھوڑ دیا  اور دنیا   کے پہلے سولہ اقتصادی طاقتور  ممالک میں    اپنی جگہ بنالی اور اب  ایردوان ترکی کو دنیا  کے پہلے دس ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنا چاہتے ہیں  اور وہ  جانتے ہیں  کہ ایسا وہ صرف ملک میں  صدارتی نظام  کے اپنانے ہی کی صورت میں کرسکتے ہیں کیونکہ پارلیمانی نظام میں  بہت سا وقت   پارلیمانی جماعتوں کے بحث و مباحثے کی نظر  ہوجاتا ہےاور سیاسی جماعتیں جنہیں  دس سے بیس فیصد ووٹ  بھی بمشکل حاصل ہو پاتے ہیں  اپنی تمام  تر رعنایاں صرف  حکومت گرانے میں  صرف کر دیتی ہیں اور پھر فوج سے ساز باز  کرتے ہوئے  برسرر اقتدار آتی رہی ہیں  اور   اپنے اقتدار کو فوج ہی کو خوش کرنے میں گزارتی رہی ہیں جبکہ عوام   طویل عرصے تک  کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور کردیے گئے۔ نئے  نظام  کے تحت  اب کسی  بھی   سیاسی جماعت  کے  صرف پندرہ  سے بیس فیصد ووٹ  حاصل کرتے ہوئے اقتدار میں آنے کے تمام دروازے بند ہو جائیں گے اور اس وقت  حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت  ری پبلیکن پیپلز  پارٹی (CHP)   جس کو  کبھی 25 فیصد سے زائد ووٹ  نہیں ملے ہیں اسی غم میں مبتلا ہے کہ   کسی طرح وہ اس نظام کو ترکی میں  لاگو  ہونے سے بچائے رکھے  ۔ اسی وجہ سے  ری پبلیکن پیپلز پارٹی  نے صدارتی نظام کی مخالفت کا سلسلہ جاری  رکھا ہوا ہےکیونکہ  صدارتی نظام  کسی بھی امیدوار کو کامیاب ہونے کے لیے کل ووٹوں کا اکیاون فیصد  لینا  ضروری ہوتا ہے۔  

ملک میں صدارتی نظام کی مخالفت کرنے والے  ایردوان پر یہ الزام لگا رہے ہیں کہ  ملک کے تمام اختیارات صرف ایک ہی شخص کو حاصل ہو جائیں گے، صدر غیر جانبدار  نہیں رہے گا اور اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ اپنی پارٹی کے چئیرمین کا  عہدہ بھی اپنے ہاتھوں میں رکھ سکے گا اور یوں  ملکی  نظم و نسق  ایک ہی ہاتھ میں مرکوز ہو کر رہ جائے گا  اور یوں   صدر کو آمر  یا ڈکٹیٹر   بننے سے کوئی بھی نہیں روک سکے گا لیکن جب آپ ماضی پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ صدر مصطفیٰ کمال  اتاترک اورصدر    عصمت انونو  دونوں ہی  ملک میں  طویل عرصے تک اقتدار اپنے ہاتھوں میں رکھے  رہے  اور   دونوں ہی صدر ہونے کے ساتھ ساتھ   اپنی جماعت کے چئیرمین بھی رہے ہیں جبکہ اب اسی جماعت کے رہنما اب ایردوان پر صدر ہونے کےساتھ ساتھ  سیاسی جماعت  کا چئیرمین  ہونے کا الزام  لگا رہے ہیں حالانکہ اب  یہ سب  کچھ آئین میں ترمیم  کرتے ہوئے ہی   کیا جا رہا ہے جبکہ ماضی میں   ایسا کرنا  آئین کی خلاف ورزی تھا ۔

اس وقت ترکی میں صدارتی  ریفرنڈم   کے بارے میں مختلف سروئیز  کروائے جا رہے ہیں ۔ ان سروئیز  کے  مطابق   دونوں بلاکوں ( ریفرنڈم  کے حق اور ریفرنڈم  کے خلاف) میں سخت مقابلہ جاری ہے  اور اس وقت تک  صدارتی نظام کے حق میں   52 فیصد اور اس کے خلاف   48 فیصد ووٹ   پڑیں گے اور اس وقت تک  اپنی رائے کا اظہار نہ کرنے والے دس فیصد  عوام  آخری  مرحلےمیں  اس شرح کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے  ہیں لیکن یہاں پر یہ عرض کرتا چلوں  کہ اس وقت  آق پارٹی استنبول  اور ازمیر میں اپنی ریلیوں  میں   دو ملین   کے لگ بھگ عوام کو جمع کرنے میں کامیاب رہی ہے  جس سے   عوام کو واضح طور پر صدارتی نظام کے حق میں   فیصلہ جانے کی عکاسی  ہو جاتی ہے۔صدارتی نظام  کے خلاف ری پبلیکن پیپلز پارٹی  ابھی تک  کوئی قابلِ ذکر ریلی نکالنے  میں   کامیاب نہیں رہی ہے بلکہ  وہ چھوٹے  چھوٹے اور علاقائی  سطح پر  ہی ریلیاں نکالنے  پر اکتفا کررہی ہے ۔ شاید  اس کی سب سے بڑی وجہ  وہ ریلیوں میں آق پارٹی  جتنے لوگ جمع نہ کرنے کی وجہ سے   عوام پر اس کے منفی اثرات مرتب ہونے دینا نہیں  چاہتی ہے۔   اسی طرحCHP کی ہمنوا  پارٹی  پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی(HDP)    جسے کرد ووٹروں  کی حمایت حاصل ہےمشرقی اور جنوب مشرقی  صوبوں میں ابھی تک اپنے ووٹروں کا قابلِ ذکر اجتماع کرنے سے قاصر رہی ہے جس سے ان  جماعتوں کے   ریفرینڈم سے  قبل  ہی   ہتھیار ڈالنے  اور شکست تسلیم کرنے  کی عکاسی ہوتی ہے۔  

کالم کے  آخر میں  اس ریفرنڈم  کے نتائج کے بارے میں اپنا  ذاتی جائزہ پیش کرتا چلوں۔ اس ریفرنڈم  میں  آق پارٹی بڑی آسانی  سے کامیابی حاصل کرلے گی اور اسے   ہر صورت میں  کم از کم 54 فیصد کے قریب ضرور ووٹ ملیں گے۔اس وقت ریفرنڈم   میں دو بلاک ایک دوسرے سے برسر پیکار ہیں پہلے بلاک میں  آق پارٹی، نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی  اور  چند ایک  چھوٹی  پارٹیاں شامل ہیں  ۔ ان جماعتوں  کو  گزشتہ عام انتخابات میں جس تناسب سے ووٹ پڑے  اگر ان کو جمع کیا جائے تو کچھ یوں تناسب بنتا ہے۔    آق پارٹی کو گزشتہ  عام انتخابات میں پچاس فیصد کے لگ بھگ ووٹ پڑے جبکہ  نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی  کو 13 فیصد کے لگ بھگ ( یہ جماعت اس وقت دو دھڑوں  میں تقسیم ہے۔بڑا دھڑا جو آق پارٹی کے ساتھ ہے  آٹھ فیصد  ووٹروں کی حمایت حاصل ہے) کے آٹھ فیصد ووٹ اور دیگر چھوٹی  جماعتوں  کے ایک فیصد ووٹ جمع کرنے سے  58 فیصد ووٹ پڑتے ہیں   جبکہ ریفرنڈم کے خلاف ووٹوں کا جائزہ لیا جائے تو صورتِ حال کچھ یو ں بنتی ہے۔  ترکی میں حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی  جماعت ری پبلیکن پیپلز پارٹی  جو آج تک کبھی 25 فیصد سےزائد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے اگر اس کے تمام کے تمام ووٹرز ریفرنڈم کے خلاف ووٹ ڈالیں تو  یہ تعداد پچیس  فیصد بنتی ہے۔  اسی بلاک میں  کردوں  کی جماعت پیپلز ڈیمو کریٹک  پارٹی HDP جسے  گزشتہ  انتخابات میں دس فیصد ووٹ پڑے تھے میں سے سات  فیصد  کے لگ بھگ ووٹرز ریفرنڈم کی مخالفت   کررہے ہیں کےووٹوں  کو   جمع کیا جائےتو  پچیس  جمع سات یہ تعداد  بتیس  فیصد بنتی ہے  جبکہ  یہ بلاک  ابھی تک   پچاس فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرنے کا دعویٰ   کرتا چلا آرہا ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ  صدارتی ریفرنڈم کے خلاف قائم یہ  بلاک  کیسے  معجزہ دکھا پاتا ہے تاہم  حالات  آق پارٹی  کی واضح کامیابی کی عکاسی کررہے ہیں۔   

تبصرے
Loading...