صدر ایردوان کے قتل کی کوشش کرنے والے فوجیوں کے خلاف عدالتی فیصلوں کا آغاز۔

0 207

ترکی کی ایک مقامی عدالت نے چالیس کے قریب ان فوجیوں کے ایک سالہ ٹرائل کے بعد ان کی سزاءوں پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا ہے جنھوں نے گزشتہ سال ناکام بغاوت کے دوران صدر رجب طیب ایردوان اور ان کے اہل خانہ کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس سلسلے میں گزشتہ روز ان فوجیوں کے پہلے گروپ کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ جنوب مغربی ترکی کے شہر موغلا کی مقامی عدالت کی جج نے یہ فیصلہ پڑھ کر سنایا۔

یاد رہے کہ موغلا اس پرتعیش سیرگاہ کے نزدیک واقع ہے جہاں صدر ایردوان فوجی بغاوت کی رات ایک ہوٹل میں مقیم تھے۔ چند فوجیوں نے رات گئے ان کے ہوٹل پر حملہ کر دیا تھا جس سے وہ اپنے خاندان سمیت بمشکل بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

یاد رہے کہ یہ ٹرائل بغاوت میں شریک افراد کے خلاف ملکی سطح پر جاری بڑے حکومتی کریک ڈاون کا حصہ ہے اور اب تک اس سلسلے میں سنائی جانے والی یہ سب سے بڑی سزا ہے۔

پندرہ جولائی کی رات ہونے والی اس بغاوت میں باغیوں نے آرمی ٹینکوں، جنگی جہازوں اورہیلی کاپٹروں کی مدد سے پارلیمنٹ اور اہم علاقوں پر قبضہ کرتے ہوئے حکومت الٹنے کی ناکام کوشش کی تھی جس کے نتیجے میں 250 سے زائد لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

تبصرے
Loading...