صدر رجب طیب ایردوان کی روسی ہم منصب ولادیمر پوٹن سے ملاقات

0 333

ملاقات سے قبل میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا: "مجھے یقین ہے کہ ہم کئی موضوعات پر بات کریں گے جن میں معیشت، تجارت، ملٹری اور دفاعی انڈسٹری شامل ہے۔ یہ موضوعات آج کی ہونے والی اعلیٰ سطحی تعاون کونسل اجلاس کا حصہ ہوں گے۔ ہم اس اجلاس میں علاقائی مسائل پر بھی تفصیلی بات چیت کریں گے جو اس عمل میں دونوں ملکوں کے اثرات کو بڑھانے کا باعث بنے گی”۔

صدر رجب طیب ایردوان نے روسی صدر ولادیمر پوٹن سے کریملن، ماسکو میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وزیرخارجہ چاوش اوغلو، انڈر سیکرٹری انیٹیلیجنس حقان فیدان اور ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور صدارتی ترجمان ابراہیم قالن بھی موجود تھے

ملاقات سے قبل صدر ایردوان اور روسی صدر پوٹن نے میڈیا سے بات چیت کی۔

ہم علاقائی مسائل پر گفتگو کریں گے

صدر ایردوان نے کہا: "توانائی کے شعبے میں روس اور ترکی کے درمیان تعاون بہت اہم ہے اور یہ تیل اور قدرتی گیس کے حصول میں معاون ہو گا”۔ انہوں نے ترک اسٹیم گیس پائپ لائن اور اکیو نیوکلیئر پاور پلانٹ پروجیکٹ میں تیزی کی امید پیدا کرتے ہوئے کہا: "مجھے یقین ہے کہ ہم کئی موضوعات پر بات کریں گے جن میں معیشت، تجارت، ملٹری اور دفاعی انڈسٹری شامل ہے۔ یہ موضوعات آج کی ہونے والی اعلیٰ سطحی تعاون کونسل اجلاس کا حصہ ہوں گے۔ ہم اس اجلاس میں علاقائی مسائل پر بھی تفصیلی بات چیت کریں گے جو اس عمل میں دونوں ملکوں کے اثرات کو بڑھانے کا باعث بنے گی”۔

روسی صدرپوٹن "ہم روس-ترکی تعلقات کو موزوں سطح پر لانے کے لیے سخت کوششیں کر رہے ہیں”۔

پوٹن نے اس موقع پر کہا کہ "ہم خوش ہیں کہ دو طرفہ ریاستی تعلقات تیزی سے بحال ہو رہے ہیں”۔ انہوں نے 2014ء میں ایسے اجلاس کو یاد کرتے ہوئے کہا: "اس دوران بہت کچھ ہوا،ہم روس-ترکی تعلقات کو موزوں سطح پر لانے کے لیے سخت کوششیں کر رہے ہیں”۔

صدر پوٹن نے کہا: "حال ہی میں، ہم دنیا میں شام سمیت کئی بحرانوں کے حل کے لئے فعال طور پر کام کر رہے ہیں۔ روس اور ترکی کے فوجی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان بہت اچھا اور موثر تعلقات قائم کیا ہے۔ ہمارے تعلقات تیزی سے بحال ہو رہے ہیں اور ماسکو کے لیے یہ خوشی کی چیز ہے۔ہم فعال طور پر کام کر رہے ہیں کہ ہمارے تعلقات اس سطح پر پہنچ جائیں جہاں ہم دو ممالک موزوں سمجھتے ہیں۔کوئی شخص نہیں سوچ سکتا کہ روس اور ترک ملٹری اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے درمیان کس قدر قریبی تعلقات قائم ہو چکے ہیں”۔

گفتگو کے بعد دونوں صدور کے درمیان ون ٹو ون ملاقات ہوئی جس کے بعد اعلیٰ سطحی تعاون کونسل کا اجلاس ہوا۔ صدر ایردوان نے کریملن میں پوٹن کی طرف سے دئیے گئے ظہرانے میں بھی شرکت کی۔

تبصرے
Loading...