فریالہ…زمین پر خدا کی بخشی ہوئی جنت

0 285

ترکی کے جنوب میں واقع موعلہ صوبے کا شہر فتحیہ کو زمین پر خدا کی بخشی ہوئی جنت سمجھا جاتا ہے
اگر چہ مرکزی شہر اور معروف علاقہ (اولدینیز) اہم سیاحتی مقامات ہیں لیکن فریالہ نامی گائوں جو کہ پہاڑ کی چوٹی پر واقع ہے ، کا دشوارگذار سفر سیاحوں کیلئے ایک دلچسپ تجربہ ہوتا ہے۔


جب آپ مشہور فیروزی رنگ کا بحیرہ مردار اپنے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں تو آپ کا سفر ختم نہیں ہوجاتا بلکہ حیرت اس سے آگے آپ کا انتظار کرتی ہے جب آپ فتحیہ کی خوبصورتی دیکھ کر انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں ۔جنوبی ترکی کا فتحیہ نامی یہ شہر سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے والا ایک نہایت خوبصورت ساحلی شہر ہے جہاں ملکی اور غیرملکی سیاح بڑی تعداد میں کھنچے چلے آتے ہیں ۔بحیرہ مردار عموما سیاحوں کیلئے پہلا پڑائو ہوتا ہے ، تاہم جنہیں مزید دیکھنے کا شوق ہوتا ہے وہ ایک قدم اور آگے بڑھ کر یہ تاریخی وادی دیکھنے ضرور جاتے ہیں ۔ ساحل سمندر پر کئی دن گذارنے کے بعد فریالہ جسے مقامی طور پر (اوزنویورت) بھی کہتے ہیں، اپنی خاموشی اور خوبصورتی کی وجہ سے چند دن گذارنے کیلئے بہترین مقام ہے۔
فریالہ تک پہنچنے کے کئی طریقے ہیں ، یہ بحیرہ مردار سے آٹھ کلومیٹر اور فتحیہ کے مرکز سے بائیس کلومیٹر دور واقع ہے ، جو لوگ وادی تک ڈرائیو کرکے پہنچنا چاہتے ہیں ان کیلئے تاریخی( لائیسینر )روڈ موجود ہے جو آپ کو مشہور کابک بے تک پہنچاتی ہے ، فریالہ کابک کے اوپر واقع ہے جہاں تک پہنچنے کیلئے تقریبا آدھے سے ایک گھنٹہ تک لگ جاتا ہے ۔ بل کھاتی ہوئی ایک تنگ مگر پختہ سڑک گائوں کو بحیرہ مردار سے جوڑتی ہے۔جو نیلے تالاب کے قریب فتحیہ جانے والی شاہراہ سے مل جاتی ہے ۔
اگر چہ فاصلہ اتنا زیادہ نہیں مگر روڈ باریک اور اس کے ایک سائیڈ پر گہری کھائیاں ہیں ۔ڈرائیونگ کرتے ہوئے کافی محتاط رہنا پڑتا ہے ۔
جب آپ آخری سٹاپ پر پہنچ جاتے ہیں تو آپ کے پاس دو راستے ہوتے ہیں یا تو جمپ لگ کر نیلے سمندر میں پہنچ جائیں یا اوپر چڑھ کر فریالہ چلے جائیں ۔اگر آپ کے پاس اپنی سواری نہیں تو کوئی بات نہیں منی بس بھی مناسب سا کرایہ لے کر آپ کو فریالہ پہنچا دے گی جو ہر چند منٹ بعد وہاں سے گذرتی ہیں ۔آپ لوگوں کے ہجوم میں شامل ہوکر پیدل بھی سفر کرسکتے ہیں جو مناسب موسم میں بحیرہ مردار سے فریالہ تک کثرت سے دیکھنے کو ملتے ہیں ۔


ٹاپ سیزن میں جون سے ستمبر تک بحیرہ مردار سے بٹر فلائی ویلی تک بادبانی کشتیاں بھی چلتی ہیں ۔جب آپ کشتی کا ٹکٹ لیں تو
تو اسے سنبھال کر رکھیں کیونکہ اسی ٹکٹ پر آپ واپسی کا سفر بھی کرسکیں گے ۔
فطرت کو بھرپور طریقے سے انجوائے کرنے کیلئے آپ کے پاس ہائیکنگ کا آپشن بھی موجود ہے ۔اگر چہ یہ ایک مشکل تجربہ ہوگا، کئی جگہ پر آپ کو رسیوں پر چلنا پڑے گا۔
کچھ سیاح تو پورا سولہ کلومیٹر کا سفر اسی طرح کرتے ہیں ۔مقامی لوگ اور ٹریول ایجنسیاں عموما سیاحوں کو ہدایت کرتے ہیں کہ دو دن ہائیکنگ کیلئے اور ددو دن پہاڑوں میں کیمپنگ کیلئے مختص رکھیں تاکہ قدرت کی اس خوبصورتی کو صحیح خراج ادا کیا جاسکے ۔
سچی بات یہ ہے فریالہ گائوں اور بٹرفلائی وادی کے درمیان سفر انتہائی خطرناک ہے، ہائیکروں کو وہی راستہ اختیار کرنا چاہیئے جس کی مارکنگ کی گئی ہے ، شارٹ کٹس اختیار کرنے سے گریز کریں ۔راستے میں جگہ جگہ آبشاریں گرتی ہیں اس لئے بہت زیادہ حتیاط کی ضرورت پڑتی ہے ۔ضرورت سے زیادہ سامان ہر گز نہ اٹھائیں جتنا آپ کے پاس وزن کم ہوگا اتنا ہی آپ کیلئے اچھا ہوگا۔معلوم نہیں اس گائوں کا نام فریالہ کب پڑا تھا مگر اب زیادہ تر لوگ اسے نئے نام (اوزورمت) سے پکارتے ہیں
فریالہ کو ٹائم میگزین نے ترکی کے چھ پوشیدہ جنتوں میں سے شمار کیا تھا ، اور جب آپ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے تو خود پکار اٹھیں گے کہ اسے ایسا کیوں کہا گیا تھا ۔خوبصورتی کو خراج ادا کرنا ہے ، تو چڑھتے جائیے یہاں تک کہ ٹاپ پر فریالہ گائوں پہنچ جائیں ۔
آپ خواہ اپنی کار یا منی بس سے بھی فریالہ جائیں تب بھی پائوں میں مضبوط جوتے ضرور پہنے رکھیں ، کمزور چپل آپ کو پریشانی سے دوچار کرسکتے ہیں ۔کیونکہ آگے مشکل سفر آپ کا انتظار کرتا ہے ۔
جب آپ اپنی منزل پر پہنچ جائیں تو وادی اور فیروزی سمندر کا نظارہ یقینا آپ کو مسحور کردے گا۔فریالہ میں رہائش کی کافی سہولیات موجود ہیں ۔آپ چھوٹے لگژری بوتیک ہوٹلوں میں بھی رک سکتے ہیں ،اور آپ گائوں کے کیمپنگ ایریا میں بھی رات گذار سکتے ہیں ، اس کے علاوہ آپ کو مقامی لوگ بھی مل جائیں گے جو آپ کو اپنے گھروں میں کمرہ مناسب کرایہ پر دے دیں گے ۔رہائشی کرایہ میں عموما صبح کا ناشتہ شامل ہوتا ہے مگر بہتر ہے کہ اپنے میزبان سے پوچھ لیں ۔

تبصرے
Loading...