استنبول: باحجاب لڑکی کو تھپڑ مارنے پر سیکولر خاتون گرفتار

0 301

ترکی میں‌ باحجاب 16 سالہ لڑکی کو تھپڑ مارنے اور تذلیل کرنے والی سیکولرخاتون کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس واقعے نے مسلمان اکثریتی ملک ترکی کو ہلا کر رکھ دیا جو گزشتہ ادوار میں حجاب پر جبر کے حوالے سے بدنام تھا۔

فاطمہ دلارا جو ہائی اسکول کی طالبہ ہیں، پبلک بس میں سفر کر رہی تھیں جب ایک خاتون نے ان کی تذلیل کرتے ہوئے ان کا حجاب اتار دیا۔

 بس ڈرائیور نے دخل اندازی کرتے ہوئے بس پولیس اسٹیٹشن کے سامنے روک دی جہاں خاتون کو گرفتار کر لیا گیا۔ جیسے ہی اس واقعے کی موبائل سے بنی وڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پہنچی لوگوں میں غم اور غصہ کی لہر دور گئی اور جلد ہی "میرے حجاب کو ہاتھ مت لگاؤ” (#BaşörtümeDokunma) کا موضوع ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

فاطمہ نے بتایا کہ وہ ایک دوسری مسافر خاتون سے یونیورسٹی میں داخلے کی بات کر رہی تھیں جب دوسری سیٹ پر بیٹھی خاتون چلائی، "تم کبھی تعلیم نہیں حاصل کر سکتی جب تک حجاب پہنتی ہو، تم دہشت گرد ہو”۔ اس تذلیل کے ساتھ اس نے لڑکی کا حجاب ہاتھ سے کھینچ کر تھپڑ مار دیا۔ فاطمہ نے بتایا، "میری دوست نے مجھے بچایا اور پھر ڈرائیور نے بس روک دی”۔

لڑکی کی درخواست پر مقامی عدالت نے دھمکیوں، تذلیل، تھپڑ مارنے اور مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کی شقوں پر سیکولرخاتون کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔

 

وزیر خاندانی و سماجی امور فاطمہ کایا نے سکول طالبہ کو کال کی اور قانونی اور نفسیاتی مدد کی یقین دہانی کرائی۔

اس واقعے کے بعد عوام میں غم اور غصے کی لہر دوڑ گئی اور انہیں ماضی یاد آنے لگا جب وہ سیکولر اشرافیہ کے جبری قوانین کے تحت حجاب پہننے پر جبر و تشدد کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور یونیورسٹی میں داخلے کے لیے ضروری تھا کہ طالبہ حجاب نہ پہنتی ہو اور طالب علم داڑھی نہ رکھے ہوئے ہو۔

فاطمہ قایا نے کہا کہ وہ ملک کو دوبارہ اندھیروں میں واپس لے جانے کی اجازت نہیں دیں گے اور نہ ہی ایسے واقعات کی مدد سے سماجی تقسیم کی اجازت دی جائے گی کیونکہ ہم سب مسلمان ہیں۔

تبصرے
Loading...