وہ خمینی بننے آیا تھا مگر بیرونی حملہ آور بن گیا، ابراہیم کراگل

0 245

ابراہیم کریگل

پندرہ جولائی کا دن ترکی میں اپنے ساتھ دو بڑی تبدیلیاں لے کر آیا، پہلی یہ کہ فتح اللہ کی دہشت گرد تنظیم FETO اب اندرونی تھریٹ نہیں رہا بلکہ بیرونی تھریٹ میں تبدیل ہوگئی۔
اس کی کارکردگی کا میدان ترکی کے اندر بہت محدود ہوگیا اور اسکی اندرونی تھریٹ ہونے کی سطح نیچے گر گئی اور ممکنہ بغاوت کیلئے اس کا مورچہ بننے کی صلاحیت کم ہوگئی ۔
بے شک اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اندرونی طور پر کچھ نہیں کرسکتی یا وہ کچھ کریگی نہیں ، یہ ابھی بھی ایک تھریٹ ہے، تاہم اس کا بنیادی اور اہم محاذ یقینا باقی نہیں بچا بلکہ یہ ملک سے باہر منتقل ہوگیا اور اب حملے بیرونی محاذوں سے ہی جاری رکھے گی۔ یہ یقینا ایک خطرے کی گھنٹی ہے کہ اب یہ تصادم اورجارحیت ایک لمبی مدت تک جاری رہے گی۔ اس لئے اس نئے خطرے کو نہایت سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔

نئے محاذ کئی ممالک سے کھولے جاسکتے ہیں.اب یہ عناصر ہر ترکی مخالف تحریک کی ریڑھ کی ہڈی بن چکے ہیں، جہاں جہاں بھی یہ مخالفت پائی جاتی ہے یہ ان کے دست و بازو بنیں گے۔ بہت سارے ممالک اب اپنی جیب میں ترکی کو جھکانے یا اس سے کچھ منوانے اور بلیک میل کرنے کیلئے اس تنظیم کے کارڈ رکھا کریں گے، اسی وجہ سے وہ اس تنظیم سے راہ و رسم بڑھائیں گے۔ بھانت بھانت کی انٹیلی جینس ایجنسیاں ترکی میں اپنے مطلب اور مشن پورا کرنے کیلئے اسی تنظیم کا سہارا لیں گی۔ یہ تنظیم دنیا بھر میں مختلف ممالک سے ٹاسک پکڑنے لگی ہے، یہی چیز ترکی کے خلاف ان ملکوں کو تاش کے پتے مہیا کررہی ہے اور انہیں بہتر سودے بازی کی پوزیشن میں لارہی ہے۔ اب یہ تنظیم ان ملکوں کےلئے سیاست، معیشت اور انٹیلی جینس کے میدان میں ایک آسان حلیف بننے لگی ہے۔ اس نے ترکی کے خلاف جنگ دنیا بھر میں پھیلا دی ہے اور اب اس بات کی منصوبہ بندی کررہی ہے کہ دنیا بھر کی ترک دشمنی کو اپنے مقصد کیلئے استعمال میں لائے۔ جو تنظیم اپنے حالیہ ناکام بغاوت میں امریکا برطانیہ اور یورپین انٹیلی جینس ایجنسیوں کا کندھا استعمال کرکے نبرد آزما تھی اب خود ان ممالک کیلئے اپنا کندھا پیش کررہی ہے۔ اب یہ تنظیم ان ممالک کے ہتھیاروں سے ترکی کے خلاف بیرونی محاذ پر بڑی جنگ لڑنے لگی ہے۔ ترکی کے مخالف ممالک نے اپنا بنیادی محاذ اب ترکی سے باہر منتقل کردیا ہے۔

دوسری بڑی تبدیلی جو دیکھنے میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ 15 جولائی کی ناکام کوشش کے بعد جو قوتیں ترکی کے خلاف خود اس کے اندر سے اپنے آپریشن چلا رہی تھیں انہوں نے گیم کا طریقہ کار بدل لیا ہے۔ اب انہوں نے اپنا مرکزی محاذ ترکی کے داخل سے اس کے بیرون منتقل کردیا ہے، لیکن اپنا رابطہ ان تنظیموں سے برقرار رکھا ہوا ہے جو ترکی کے خلاف اس کے اندر سرگرم ہیں۔ انہوں نے ترکی کے اندر تباہی مچانے ہکیلئے اپنا بیس باہر بنا دیا ہے۔
اب ترکی کے اندر دھماکے کرنے کی بجائے، جیسا کہ غازی پارک کادھماکہ، 17 ور 25 دسمبر 2013 کے حملے، 15جولائی 2016 جیسے حملوں کیلئے انہوں نے منصوبہ بندی جرمنی اور یا ان ممالک میں بیٹھ کر کی جو ان کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی سبب ہے جو حالیہ تھریٹس کے پیچھے کارفرما ہے۔ ورنہ جرمنی اور بعض دیگر یورپین ممالک کی ترکی کے خلاف موجودہ عداوتوں کا اور کیا سبب ہے؟

جب تک وہ اس قابل نہ تھے کہ ترکی کے خلاف کھل کر میدان میں اتریں انہوں نے ترکی کے خلاف ایک گیم شروع کی اور اس کے اندر موجود تنظیموں اور ان کے نیٹ ورک کو استعمال کیا اور خفیہ کارروائیاں انجام دیں، مگر جب انہیں موقع مل گیا تو وہ کھل کرمیدان میں اتر آئے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اب خفیہ کارروائیوں کا وقت ختم ہوگیا اور کھلی دشمنی اور مداخلتوں کا دور شروع ہوگیا۔ اس کا یہ بھی مطلب لیا جاسکتا ہے کہ ایک نئی لڑائی ترکی کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔
FETO
کی طرح PKK بھی اب ایک بیرونی تھریٹ بن چکی ہے
ایک اور مسئلہ جو ان دو بڑی تبدیلیوں کے ساتھ ضم کیا جاسکتا ہے، وہ کردستان ورکرز پارٹی (PKK ) کی طرف سے ترکی کے اندر حملوں پر اکتفا سے گریز کی پالیسی ہے۔ اب اس تنظیم نے بھیFETO کی طرح نئی سٹریٹیجی ترتیب دے ڈالی ہے۔ اس تنظیم نے اپنے بہت سارےعناصر ترکی سے شام منتقل کردیئے ہیں۔ اب شام ان کیلئے زیادہ قابل ترجیح مقام بن چکا ہے ، کیونکہ وہاں پر انہیں کام کی زیادہ سہولت حاصل ہے اور وہاں سے وہ خاطر خواہ انداز میں ہر ممکنہ حد تک اپنا دائرہ عمل بڑھا سکتے ہیں۔ اس وقت وہ جنوبی شام میں اپنا ہدف حاصل کرچکے ہیں اور وہ اب پوری قوت سے ترکی پر حملہ کرنے کی تیاری کریں گے۔

وہ قوتیں جو FETO کوتحفظ دے رہی ہیں ، وہی قوتیں PKK کو بھی تحفظ دے رہی ہیں۔ یہی قوتیں شام کے اندر اسے ڈیموکریٹک یونین پارٹی (PYD) کے نام سے نئے سرے سے منظم کررہی ہیں۔ وہ ذہنیت جو FETO اور PKKکو اندرونی تھریٹ سے بیرونی تھریٹ بنانے میں لگی ہوئی تھی ، وہ ایک ہی ذہن ہے۔

FETO
اور PYD کی نئی ڈیوٹی
اور جو نیا رول تراشا گیا ہے وہ وہی رول ہے جو PKK کیلئے تراشا گیا ہے ۔دونوں کو نئی پوزشینوں پر کھڑا کردیا گیا ہے اور دونوں کو ایک طرح کی زمہ داریاں حوالہ کردی گئی ہیں ۔
FETO
اور
PYD
کی ملک کے اندر موجوں میں ارتعاش بیرونی حملوں کی موجوں کا اثر ہے
جو نیارول FETO کو سونپا گیا ہے یہ وہی ہے جو PKK کو حوالہ کیا گیا ہے۔ دونوں کو نئی پوزیشنوں پر لاکھڑا کیا گیا ہے اور دونوں کو نئی زمہ داریاں سونپی جا چکی ہیں۔

ٹائمنگ، ہتھکنڈے،طریقہ کار اور اور بیانیئے سب ایک جیسے ہیں، جو قوتیں انہیں گائیڈ کررہی ہیں اور انہیں تحفظ فراہم کررہی ہیں وہ بھی ایک ہیں۔ ایک نیا کھیل شروع ہوچکا ہے جس کا اثر پوری دنیا میں محسوس کیا جائے گا اور اس کھیل کے کھلاڑی FETO,PKK اور جرمنی ہیں، FETO , PYD اور PKK کے باقی ماندہ اندرونی خفیہ ایجنٹ اس کھیل میں لاجسٹک پاور کے طور پر استعمال کیئے جائیں گے، لاجسٹک سرکلز اور حقیقی قاتل لہرباہر سے آئے گی اور دونوں جانب سے آئے گی۔ مغرب سے بھی اور جنوب سے بھی یعنی یورپ اور شمالی شام سے
وہ پندرہ دنوں میں کیا کرسکتے ہیں ؟

PYD اورFETO
کی حالیہ ترک مخالف اقدامات
اور سولہ اپریل سے قبل وہ کیا کرسکتے ہیں؟
وہ "ہاں کیمپ” (آئینی اصلاحات کے حامیوں) کو جیتنے سے کیسے روک سکتے ہیں؟
اب جبکہ ریفرینڈم کا نتیجہ تقریبا عیاں ہوچکا ہے، وہ عناصر جنہوں نے 15جولائی کا سٹیج سجایا تھا اب اگلے پندرہ دن میں کیا پلاٹ تیار کرسکتے ہیں؟

زمینی حقیقت یہ ہے کہ وہ جتنی بھی کوشش کریں اس بات کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے کہ وہ ریفرینڈم جیت لیں گے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ جس قسم کے حالات بن رہے ہیں ان حالات میں ہمیں ہر امکان اپنے ذہن میں رکھنا ہوگا، اب اس بات کو ذہن سے نکالنا ہوگا کہ ہم یہ کہیں کہ "نہیں وہ شاید اس حد تک نہیں جائیں گے۔”

سوال یہ ہے کہ کیا وہ کوئی ایسی شاکنگ حرکت کرسکتے ہیں جس سے صورتحال اتھل پتھل ہوجائے؟ اس میں کوئی شک نہیں وہ ایسا چاہتے ہیں اور ایسا کریں گے بھی، ان کا موجودہ منصوبہ اس امکان کے گرد گھومتا ہے کہ وہ ریفرنڈم کا نتیجہ اپنے حق میں حاصل کرلیں، وہ یقینا اس بات کیلئے تیار ہیں کہ کوئی بڑا قدم اٹھائیں جس کا نتیجہ ترکی پندرہ جولائی کے اقدام سے بھی زیادہ برا بھگتے۔

یہی ان کی آخری امید ہے، مگر مجھے نہیں لگتا کہ ان کی کوئی بڑی کارروائی بھی ریفرنڈم کا نتیجہ بدل سکے گی جو انحراف کی خطرناک صورتحال سے ہمیں دوچار کردے گی، اب یہ چیز ممکن نہیں رہی، اگر وہ کوئی ایسی کوشش کریں گے بھی تب بھی ان کی کامیابی کا چانس زیرو کے قریب ہے۔

وہ خمینی بن کر آنا چاہتا تھا مگر وہ ایک حملہ آور فورس بن گیا۔

نئی پاور آرگنائزیشن جس کو میں نے اوپری سطور میں وضاحت سے بیان کیا سولہ اپریل کے بعد کی ہے، وہ اب ان محاذوں سے فائرکھولیں گے جو بیرون اور اندرون میں قائم ہیں۔ وہ اب کوشش کررہے ہیں کہ یورپ اور شمالی سوریا سے محاذوں کا ایک نیا دور شروع کریں۔
ان کا منصوبہ تو یہ تھا کہ پندرہ جولائی کی بغاوت کامیاب ہوجائے اور فتح اللہ گولن روح اللہ خمینی بن کر ملک میں واپس آئیں، مگر ایسا نہ ہوسکا اور ایسا ہو بھی نہیں سکتا تھا، آئیے دیکھتے ہیں اب وہ کس طرح واپس آنے کی کوشش کریں گے۔ کونسی تنظیمیں، کونسی ممالک کے ٹینک اور میزائل کے زور پر وہ واپس آئیں گے؟

گولن اور اس کی تنظیم ترکی کی تاریخ کی سب سے بڑی تر ک دشمن تنظیم بن کر ابھری ہے، وہ ترکی کو نقصان پہنچانے والی عالمی طاقتوں کے ایجنٹ بن چکے ہیں اور وہ اس پوزیشن میں نہیں کہ اس حقیقت اور اس تاثر کو ختم یا تبدیل کرسکیں۔ اس سے قطع نظر کہ وہ کیا کررہے ہیں، اس بھی قطع نظر کہ ان کےپارٹنر اور موالی و مددگار کون ہیں، یہ قوم اب ان پر کبھی اعتبار نہیں کرے گی ، وہ اب ایک بیرونی خطرہ اور حملہ آور قوت بن چکے ہیں بالکل اس طرح جس طرح PKKبن چکی ہے

تبصرے
Loading...