کرد ریفرنڈم کا نتیجہ ناکامی ہی کی صورت میں نکلے گا؛ صدر ایردوان کا انتباہ

0 174

صدر رجب طیب ایردوان نے کردستان کی مقامی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ متنازعہ آزادی ریفرنڈم کا  انجام ناکامی ہی ہے اور اس کے نتیجے میں بھڑکنے والے نسلی فسادات خطے کے حق میں بہتر ثابت نہیں ہوں گے۔

صدارتی محل میں پولیس اکیڈمی کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ کردستان کی مقامی انتظامیہ آزادی کے نام پر اپنے آپ کو بھیانک انجام کی جانب دھکیل رہی ہے حالانکہ تیل کی تجارت کی وجہ سے اسے پہلے ہی بہت سے مفادات حاصل ہو رہے ہیں۔

صدر ایردوان نے الزام عائد کیا کہ علاقے میں موجود ترک نسل کے لوگ نازیبا رویئے کا شکار ہیں اور انھیں ان کے حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم شمالی عراق میں حالیہ تبدیلیوں کے خلاف موقف صرف اس وجہ سے رکھتے ہیں کہ ہم وہاں رہائش پذیر عرب، ترک، کرد اور دیگر تمام نسل کے لوگوں کی حقیقی بہتری چاہتے ہیں۔

یاد رہے کہ دنیا کے اکثر ممالک کی جانب سے مسترد کیئے جانے والے اس ریفرنڈم کے ذریعے کرد مقامی حکومت کے زیر انتظام علاقوں اور موصل اور کرکوک جیسے متنازعہ شہروں میں رہائش پذیر عراقیوں سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ آیا وہ بغداد سے آزادی چاہتے ہیں یا نہیں۔

انقرہ نے حال ہی میں کرکوک کی صورتحال اور کردستان میں موجود ترکوں کے مستقبل کے حوالے سے گہری تشویش ظاہر کی تھی۔

صدر ایردوان نے دھمکی دی کہ جس طرح حال ہی میں شام کے علاقوں جرابلس، الباب اور الراعی کو داعش کے تسلط سے آزاد کروایا گیا ہے، اگر ضرورت پڑی تو عراقی کردستان پر بھی فوج کشی سے گریز نہیں کیا جائے گا۔اس سے قبل ترک وزیر خارجہ میوت چاوش اوگلو بھی کہہ چکے ہیں کہ عراق میں مقیم  ترکوں کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچنے کی صورت میں فوجی آپریشن کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی آپریشن کا انحصار خطے میں ہونے والی تبدیلیوں کی نوعیت پر ہے۔ اگر ہمارے ترک بھائی بہنوں کے خلاف کسی قسم کی کوئی بھی کارروائی کی گئی تو ہم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

ادھر وزیراعظم بن علی یلدرم نے جمعرات کی سہ پہر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ کردستان کی مقامی حکومت پر مختلف پابندیاں عائد کرنے کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیم اور ترکی  اس حوالے سے عراق اور ایران کی حکومتوں کے ساتھ ضروری تعاون کر رہا ہے۔

 

 

تبصرے
Loading...