کونیا شہر کے درویش پاکستان میں "تعلیم سب کے لیے” سرگرم

0 251

​کونیا کے درويش پاکستان میں تعلیم سب کے لئے سرگرم. 

ترک سفارتخانے اور اخوت فاؤنڈیشن نے مشترکہ طور پر پاکستان میں ہر بچے تک تعلیم کی رسائی ممکن بنانے کے لئے تقریب کا اہتمام کیا.

ترک درویش کونیا سے پاکستان میں ہر بچے کی تعلیم تک رسائی کے مشن پر پاکستان پہنچے ہیں.  

ترک سفارتخانے اور اخوت فاؤنڈیشن (غیر سرکاری تنظیم) کی طرف سے مشترکہ تقریب کا انعقاد کیا گیا جو کہ "غربت کے خاتمے اور تعلیم سب کے لئے” کے مشن پر سرگرم عمل ہے.

اتوار کی شب مولانا رومى کے شہر کونیا کے درویشوں نے کراچی کے باسیوں کو اپنے فن سے مبہوت کردیا اور لوگوں میں دل وجان سے اس عظیم مقصد کے لئے کردار ادا کرنے کی طرف ترغیب دلانے کی کوشش کی.

یہ صوفیاء فنڈ اکهٹا کرنے کے لئے پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد، لاہور اور ملتان میں بهی اپنے فن کا مظاہره کریں گے.

پاکستان میں اخوت فاؤنڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر امجد ثاقب کا کہنا ہے کہ "ان کا دورہ نا صرف پاکستان اور ترکی کے مابین گہرے تعلق کو مزید مضبوط  اور تقویت دے گا بلکہ ہمارے اس مشن پاکستان میں تعلیم تک ہر بچے کی رسائی کو ممکن بنانے میں ان کا بہت بڑا تعاون شامل ہے” 

کراچی میں منعقد تقریب کے شریک میزبان ترک قونصل جرنل مراد مصطفی انرت نے بهی اخوت فاؤنڈیشن کے مفت تعلیم سب کے لئے کو فروغ دینے کے وژن پر روشنی ڈالی. انہوں نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ "ترکی میں اگرچہ آپ متمول گهرانہ سے نہیں ہیں تب بهی آپ تعلیم کے ذریعے ترقی کرسکتے ہیں لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں ایسا نہیں ہے کیونکہ معیاری اور اعلی تعلیم ہر کسی کی پہنچ میں نہیں جس کی وجہ تعلیم کا مفت نہ ہونا ہے اور غربت میں یہ امكان بالکل ختم ہوجاتا ہے. یہی وجہ ہے کہ ہم نے اس مشن میں تعاون کا فیصلہ کیا ہے” 

– پاکستان میں مولانا رومی کی مقبولیت

پاکستانیوں کی بڑی تعداد مولانا سے واقفیت رکهتی ہے جو کہ دنیا میں رومی کے نام سے جانے جاتے ہیں اور بڑے صوفی شعراء میں ان کو شمار کیا جاتا ہے. 

در حقیقت، بہت سے لوگ ان کی شاعری اور مختصر کہانیاں بچپن میں اسکولوں کے تعلیمی نصاب میں پڑهتے ہیں 

تاہم ان میں سے اکثر ان جهومتے ہوئے درویشوں کی نقل و حرکت کو نہیں جانتے جو کہ عام طور پر پاکستان میں "رقص درویش با رنگ کونیا” کے نام سے جانا جاتا ہے. لیکن ترکی کے درویشوں کی پاکستان آمد کا سلسلہ کئی دہائی قبل شروع ہوا تها اور ان کا شاندار فن کے مظاہرے لوگوں کے دلوں پر نقش چهوڑ گئے.

ترکی کے یہ درویش اب ہر سال پاکستان آتے ہیں اور ان کے فن کو دیکهنے لوگوں کی بڑی تعداد شرکت کرتی ہے جن میں فنون اور موسیقی کے دلدادہ بهی شامل ہیں. 

– عبادت بذریعہ رقص

کونیا کے درویش سما (sema) نامى رقص اور موسیقی کے ساته کرتے ہیں جس کا آغاز 13 ویں صدی کے صوفیوں سے ہوا، لمبی ٹوپیوں اور طویل  ٹخنوں تک لباس میں ملبوس یہ جهومتے درویش اور رقص کرتے اپنے کلام میں اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا اظہار کرتے ہیں ان کے رقص کا خاصہ عاجزی ہے اور ان کے ہاتهوں کی نقل و حرکت بهی خاص معنی رکهتی ہے یہ محض تفریح  نہیں بلکہ عبادت کا ایک طریقہ ہے . 

– ثقافتی مماثلت اور اثرات 

ناقدین فن اور مؤرخين پاکستان میں اس فن کی ثقافتی مماثلت اور انفرادیت کی وضاحت دو عوامل سے کرتے ہیں.

وسعت اللہ خان جو کہ کراچی کے مشہور تجزیہ نگار نے بتایا کہ "رقص درویش” [درویش کا رقص] کی پاکستان اور ترکی میں ثقافتی مماثلت کی کی مقبولیت کی ایک واضح مثال لوگوں سے لوگوں تک کے رابطے کا ذریعہ تصوف اور روحانیت سے متاثر ہونا ہے. پاکستان اور ترکی کی ثقافت میں مماثلت کے بارے میں خان کا کہنا تها کہ روایات میں درویش رقص کونیا سے، اور قوالی..  برصغیر میں صوفیانہ کلام کا منفرد انداز.. دهمال.. برصغیر میں پائے جانے والے رقص کی منفرد اور خاص شکل ان سب کا براه راست تعلق روحانیت کی ایک ہی  جڑ سے ہے. یہ مشترکات صوفی رقص کو پاکستانیوں کے لئے مقبول اور قابل قبول بنا دیتی ہیں.

جامعہ کراچی کے شعبہ تاریخ کے پروفیسر ڈاکٹر معیز خان نے کہا کہ  "ترک ثقافت کے خطے پر گہرے اثرات رہے ہیں تصوف کے علاوه زبان پر بهی ترکی کے اثرات موجود ہیں خاص طور پر پاکستان کی قومی زبان اردو میں بڑی تعداد میں ترکی زبان کے الفاظ موجود ہیں جیسا کہ "اردو” ترکی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی "لشکر” کے ہیں.

پاکستان میں رقص درویش کی مقبولیت کے عوامل کے پیچهے ان مشترکات کا حوالہ دیا جا سکتا ہے.

تبصرے
Loading...