کیا یورپ، ترکی کو "غیر” سمجھتا ہے؟ – ابراہیم قالن

0 319

ابراہیم قالن، پی ایچ ڈی ڈاکٹر اور ترک صدر رجب طیب ایردوان کے چیف مشیر اور ترجمان ہیں، اس کے علاوہ وہ پرنس الولید سنٹر فار مسلم کرسچیئن انڈرسٹینڈنگ، جارج ٹاؤن یونیورسٹی، امریکا کے ایسویسی ایٹ فیلو بھی ہیں۔ انہیں ایک تربیت یافتہ اسلامی اسکالر گردانا جاتا ہے۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف اور کئی مضامین و نشر پاروں کے مقالہ نگار بھی ہیں۔ آپ ترکی کے متعلقہ موضوعات پر ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں۔

ابراہیم قالن

25 مارچ کو برن شہر میں شدت پسندانہ خیالات کے حامل لوگوں کی ریلی کی اجازت دے کر سویٹزرلینڈ بھی ترکی مخالف تحریک میں شامل ہو گیا ہے۔ اس ریلی میں کالعدم "پی کے کے” کے حامیوں نے نہ صرف 16 اپریل کے آئینی ریفرینڈم کی مخالفت کی بلکہ ریلی میں اٹھائے گئے کچھ بینرز شدت پسندی کو بھی  ہوا دے رہے تھے۔ ایک پوسٹر میں صدر طیب ایردوان کی طرف بندوق کا رخ کر کے "ایردوان کو قتل کردو” کے الفاظ لکھے ہوئے تھے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک صدر کو قتل کرنے کی دھمکی یورپ کے لیے ایک نارمل بات ہے؟ یا ترک مخالفت اور ایردوان مخالفت جنون کے نئے مدارج پر پہنچ چکی ہے؟

پہلے پہل تو سوئس انتظامیہ نے اس ریلی کو "پر امن احتجاج” کہہ کر اس کا دفاع کیا لیکن ترکی کی طرف سے سخت ردعمل آنے کے بعد سوئس سفارتکار کو بلا کر کہا گیا کہ اس معاملے میں تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔

ترکی اس کیس کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔ لیکن اس سے بھی بڑا حل طلب مسلہ یہ ہے کہ یورپ کے جہوریت پسندوں نے دہشتگرد گروپوں کو یہ کام کرنے ہی کیوں دیا؟ فریڈم آف سپیچ (اظہار رائےکی آزادی ) کے نام پر کالعدم تنظیموں کا دفاع کون لوگ کر رہے ہیں؟ کیا ایک منتخب صدر کو کھلے عام قتل کی دھمکی یورپین اقدار کے منافی نہیں؟

کچھ یورپی سیاستدان خبط میں اس حد تک مبتلا ہیں کہ وہ کھلے عام 16 اپریل کے ریفرینڈم کی مخالف تحریک کی حمایت کر رہے ہیں۔ ان لوگوں نے ایک ایسے ملک کے اہم آئینی ریفرینڈم کے خلاف محاذ کھول لیا ہے جو ناصرف ناٹو کا حصہ ہے بلکہ یورپی یونین میں شمولیت کا سب سے مضبوط امیدوار بھی ہے۔ وہ اپنی رائے ایک ایسے فیصلے پر تھوپنا چاہتے ہیں جس کا فیصلہ ترکش عوام نے کرنا ہے جبکہ یہی لوگ ترکی پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ ترکی نے اپنی اندرونی سیاست یورپ میں پھیلا دی ہے۔ ترکی سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ انہی سیاستدانوں کے سیاسی دفاتر اس مخالف تحریک کو چلانے کے لئے استعمال کرتے ہیں اور کچھ ریاستی میڈیا والے یک طرفہ پروگرام چلا کر ریفرینڈم مخالف تحریک کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ کیا یہ سب ترکی کی مخالفت میں ہو رہا ہے یا اس کے پیچھے کچھ دوسرے عوامل ہیں؟

اگر ان یورپین کو ترکی سے ہمدردی ہوتی تو وہ 15 جولائی کی بغاوت کے بعد بالکل واضح رائے رکھتے بلکہ اقدامات بھی کرتے۔ وہ گولن اور پی کے کے جن کے حمایتی ابھی بھی یورپ سے اپنی سرگرمیاں اپریٹ کرتے ہیں ،ان کی دہشتگردی کے خلاف ترکی کی حمایت کرتے۔ زبانی جمع خرچ کی بجائے اپنے عملی اقدامات اور اخلاقی مدد سے ترکی کی دہشتگردی کے خلاف جنگ کی حمایت کرتے۔ پی کے کے کی شام میں موجود ذیلی تنظیموں پی وائے ڈی اور وائے پی جی کو ٹریننگ، خفیہ معلومات اور ہتھیاروں سے مدد دینے کی بجائے ترکی کی شام میں داعش کے خلاف جاری کارروائیوں کی حمایت کرتے۔ ان اقدامات کے ساتھ ساتھ ترکی کی یورپی یونین کے ساتھ الحاق کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھایا جاتا بلکہ نئے مواقع تلاش کیے جاتے جس سے یورپ کے ترکی کے ساتھ روابط مزید مضبوط اور گہرے ہوتے جن کی شروعات 2005 میں کی گئی تھیں۔ (یاد دہانی کے طور پر بتاتا چلوں کہ 36 سے زائد شقوں یا یاداشت پر بات ہوئی تھی لیکن پچھلے 12 سالوں میں صرف ایک شق پر عمل درآمد ہوا ہے۔ کیا یورپ اس رفتار کے ساتھ ترکی کے ساتھ تعلقات بنانے کا خواہاں ہے؟ ) خیر یہ تو بڑی دور کی بات ہے یورپی یونین نے تو اپنے وعدے کے مطابق شامی پناہ گزینوں کے لیے مختص امداد بھی ترکی کو نہیں دی اور ترکی کو ابھی تک SCHENGEN ویزہ سسٹم میں شامل نہیں کیا۔

اس تناظر میں اہم سوال یہ ہے کہ ہارتے ہوئے ترکی سے یورپ کو کیا فائدہ حاصل ہو گا؟ شاید کچھ دائیں بازو کے نسلی طور پر متعصب لوگوں کو وقتی طور پر کوئی فائدہ نظر آ رہا ہو لیکن کیا وہ طویل مدتی طور پر ایک ایسی پالیسی کے نتائج سے واقف نہین ہیں جبکہ ترکی ناٹو کا مضبوط اتحادی ہے بلکہ یورپ کے معاشرتی تمدن میں لاکھوں ترکش لوگوں کا اثر نفوذ کر چکا ہے۔ کیا انہوں نے کبھی سوچا ہے کہ اس طرز کی سیاست سے ہم مسلم دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں۔

افسوس کی بات تو یہ ہے کہ وہ صدر ایردوان اور ترکی کو اپنے اندرونی مسائل کا پرتو سمجھتے ہیں اور اپنے اپ کو تسلی دیتے ہیں۔ وہ "ترکی کے مسائل” کی ترکیب استعمال کر کے وہ آئینہ دیکھنے سے اجتناب کرتے ہیں جس سے ان کا مکروہ چہرہ نمایاں ہوتا ہے۔ انہوں نےے ترکی کا جو برا تصور بنایا ہوا ہے اس کے پیچھے چھپ کر اپنے اصل مسائل جیسے کہ اجنبیوں سے بڑھتی ہوئی نفرت، بےروزگاری، عدم مساوات، گھریلو جھگڑے، انفرادیت، نسلی تعصب پرستی، جنسی انحطاط، طبقاتی اور ثقافتی جدوجہد اور یورپ کی ٹوٹ پھوٹ سے صرف نظر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ترکی کو ایک "برائی” کے طور پر پیش کر کے یورپ کے چند مفاد پرست اور متعصب سیاستدان شاید وقتی طور پر فائدہ اٹھا لیں لیکن یہ یورپ کے مستقبل کے لیے کوئی پائیدار حل نہیں ہے۔ ایردوان کو برائی کا مجسمہ بنا کر پیش کرنے سے یورپ ان مسائل سے نظریں تو چراا سکتا ہے جن کا اس کو سامنا ہے لیکن یہ کوئی قابل عمل اپرووچ نہیں ہے۔ یہ اس غیر یقینی صورتحال کو مزید گمبھیر کرتی ہے جس نے پہلےے ہی ترکی اور یورپ کے تعلقات میں زہر گھول رکھا ہے اور دوسری طرف اسلام اور مغربی معاشروں کے تعلقات کو خراب کرنے کا باعث ہے

یورپ کے مین سٹریم سیاستدان جن کو یورپ کے مستقبل اور اس دنیا میں اس کی اہمیت کا احساس ہے وہ اس ٹکراؤ کے راستے سے گریز کریں۔ اعتماد، باہمی مفاد، مساوات اور عزت کی بنیاد پر قائم ہونے والا رشتہ ترکی اور یورپ کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس تعلق کو پروان چڑھا نے اور ان سے فوائد لینے کے لیے ہمارے پاس سیاسی اور معاشرتی وسائل موجود ہیں لیکن یورپین کو یہ دعوی نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ترکی میں جمہوریت کے حامی ہیں اور دوسری طرف وہ یورپی سرزمین کو ترکی مخالف گروہوں کو استعمال کرنے کی اجازت دیں۔

مترجم: احمد سیالوی

تبصرے
Loading...