کیا 2017ء میں پاکستان، روس اور امریکا کے ساتھ ساتھ ترکی میں دوبارہ فوجی بغاوت ہو سکتی ہے؟

0 2,835

ایک پُر مزاح مگر حقیقت بھری روایت ہے

"واشنگٹن میں کیوں کبھی فوجی بغاوت نہیں ہوتی؟”

جواب "کیونکہ واشنگٹن ڈی سی میں کوئی امریکی سفارت خانہ نہیں ہے”۔

یہ جواب امریکی سفارت خانوں سے پردہ اٹھاتا ہے کہ جہاں یہ موجود ہوتے ہیں وہاں جمہوری حکومتوں کا دھڑن تختہ ہونے کے خطرات موجود ہوتے ہیں۔ یہ دو سال قبل یوکرائن میں دیکھا گیا اور سال بھر قبل ترک ملت نے اسے بھگتا ہے۔

ترک ملت نے جس طریقے اور جرات کے ساتھ  نظام کو الٹے کی سازش کو ناکام بنایا وہ دنیا بھر کے جمہوری شعور رکھنے والے عوام کے لیے ایک مثال بن چکی ہے۔ اگرچہ آمرانہ مزاج رکھنے والے حلقوں اور عالمی طاقتوں کے سامنے فوجی بغاوت کا ایسے ناکام ہونا دن اور رات میں دیکھا جانے والا ایک تکلیف دہ خواب تھا۔

یہ فوجی بغاوت، امریکی ریاست پنسیلوانیا میں مقیم سیکولر اور بدعتی عقیدہ رکھنے والے فتح اللہ گولن نے اپنے آقاؤں کی مدد سے تیار کی اور ترکی کے اداروں میں موجود اپنے پیروکاروں کے ذریعے اسے لانچ کیا گیا۔ ترک ملت کی محبوب حکومت اور قائد رجب طیب ایردوان کو اس طرح سازش کے ذریعے ہٹانے کی کوشش قوم نے اتحاد اور یکجہتی سے ناکام بنا دی۔
اس کامیابی میں صرف ترک ملت کا جرات مندانہ کردار ہی کام نہیں کر رہا تھا بلکہ دنیا بھر کے باشعور مسلمانوں اور مظلوموں کی دعائیں بھی شامل تھیں جن کی محبتیں اور امیدیں ترکی اور رجب طیب ایردوان کے ساتھ وابستہ ہیں۔

اگرچہ ترک قوم اور صدر ایردوان کامیابی کے بعد سو نہیں رہی لیکن اس منہ توڑ ناکامی کے باوجود واشگٹن پوسٹ نے 2017ء میں پاکستان، روس، امریکا کے ساتھ ساتھ ترکی میں دوبارہ فوجی بغاوت کی پشین گوئی کی ہے۔

ہمیں بھولنا نہیں چاہیے کہ واشنگٹن پوسٹ، سی آئی اے اور امریکی عمیق ریاست کا ابلاغی بازو ہے اس لیے پشین گوئیوں کے چارٹ کو ایسے ملک سمجھا جا سکتا ہے جہاں انہیں الجھن درپیش ہے۔ ایک ناکام فوجی بغاوت کے بعد دوسری ناکام فوجی بغاوت کے امکانات پر بات کرنا دراصل خود کو پُرامید رکھنے کی ناکام کوشش ہے۔

ترکی کو پانچویں نمبر پر رکھا گیا ہے جہاں دوبارہ فوجی بغاوت کی پیش گوئی کی گئی ہے لیکن اس کی کامیابی کے امکانات، اس کی ناکامی سے کم ہی ہیں۔ فتح اللہ گولن اور اس کے پیروکاروں کے خلاف بھرپور کارروائی نے ترکی میں جمہوریت کے مستقبل کو روشن کر دیا ہے۔ اس سے بڑھ کر صدارتی نظام ان تمام ناکام امکانات کو بھی ختم کر دے گا۔

اسے دیکھتےہوئے ہمیں سمجھ آتی ہے کہ کیوں یورپ اور خاص کر امریکا فیتو کے خلاف کارروائی سے روکتے چلے آ رہے ہیں اور اداروں کی صفائی مہم کو انسانی حقوق کا معاملہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ حقیقت میں اس ملک اور اس میں رہنے والی ترک ملت کے حقوق، فیتو اور سازشی عناصر سے کہیں زیادہ ہیں جو 15 جولائی کے بعد ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ صرف یہی نہیں ہمیں صدارتی نظام کی ہونے والی مخالفت کو بھی اسی نظر سے برابر دیکھ سکتے ہیں۔ صدارتی نظام، ایک مضبوط اور طاقتور ترکی کی ضمانت دیتا ہے، دنیا کے کئی ممالک صدارتی نظام رکھتے ہیں، ترکی میں صدارتی نظام کی وہی مخالفت کر سکتا ہے جو ترکی کو کمزور اور انتشار زدہ ملک بنانے کا خواہاں ہو جہاں پھر فوجی بغاوت کے خواب دیکھے جا سکیں۔

پاکستان کو اس فہرست میں 14ویں نمبر پر رکھا گیا ہے جہاں سیاسی بحرانوں کے باوجود فوجی اداروں نے پیشہ وارانہ کردار کو ترجیح دی ہے اور اب جمہوریت کے تسلسل نے بہتر مستقبل کو یقینی بنا دیا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ: 30 ممالک جہاں 2017ء میں فوجی بغاوت ہونے کے امکانات موجود ہیں

واشنگٹن پوسٹ کی اس فہرست میں خود امریکا کو 103 نمبر پر رکھا گیا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد اس پوزیشن کی اہمیت بڑھ جاتی ہے جو امریکی عمیق ریاست کے ماتحت چلنے کا مزاج نہیں رکھ پا رہے۔ امریکی میڈیا نے ابھی سے اس پر بحث و مباحثے کا آغاز کر دیا ہے، وہ تاریخ جو امریکا نے دوسرے ملکوں میں دوہرائی ہے آج خود اس سے گزرنے کا وقت اس پر آنے کے امکانات بڑھ چکے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے نجومیوں کو اب ترکی کے بجائے امریکا کو پانچویں نمبر پر رکھ لینا چاہیے۔ اسلامی ممالک کو سیاسی عدم استحکام سے گزارنے کے خواب دیکھنے سے کہیں بہتر ہے کہ اپنی زمین پر موجود تبدیلی کے حقائق بارے غور و فکر شروع کرے۔

تبصرے
Loading...