ہر تہذیب خود اپنی ٹیکنالوجی تخلیق کرتی ہے اور ہر ٹیکنالوجی اپنی ثقافت اور اقدار پیدا کرتی ہے، صدر ایردوان

0 356

صدر رجب طیب ایردوان نے طوبیٰ ایوارڈز تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "ہمیں اپنے دماغ میں یہ بات رکھنا چاہیے کہ ہر تہذیب خود اپنی ٹیکنالوجی تخلیق کرتی ہے اور ہر ٹیکنالوجی اپنی ثقافت اور اقدار پیدا کرتی ہے۔ ہمارے آباء نے عبادت کے لیے عمدہ ترین مسجدیں تعمیر کیں اور اس تعمیر کے دوران اپنے وقت کی جدید ترین تکنیک و ٹیکنالوجیز کا استعمال کیا جس سے ہماری تہذیب کی عکاسی ہوتی ہے۔ اسی طرح مسافر خانے، کاروان سرائے، پُل اور تجارتی راستوں کی تعمیر ہماری تہذیب کا ورثہ ہے، اگر آپ اپنی ٹیکنالوجی اور اپنی سائنس تخلیق نہیں کرتے تو آپ اس کے ساتھ جڑی ثقافت اور اقدار مقرر نہیں کر سکتے”۔

ترک اکیڈمی آف سائنس (طوبیٰ) کے زیر اہتمام، صدارت جمہوریہ ترکی کی سرپرستی میں ہونے والی ایوارڈ سے صدر رجب طیب ایردوان نے خطاب کیا۔

تقریب میں نائب وزراء اعظم نورتن جانیکلی اور تورال ترکیش، چیف آف جنرل اسٹاف جنرل خلوصی آکار، آئینی عدالت کے صدر زوہتو ارسلان، کونسل آف اسٹیٹ کے صدر ضارن گونگور سمیت کئی وزراء اور یونیورسٹیوں کے سربراہان  نے شرکت کی۔

سائنسدانوں کو اعزازات دئیے گئے

استنبول شہر یونیورسٹی کے پروفیسر شریف مردن کو سوشل سائنسز اینڈ ہیومنٹیز میں طوبیٰ اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ہیلتھ اینڈ لائ سائنسز میں واشنگٹن یونیورسٹی کے پروفیسر میری کلیری کنگ جبکہ انجینئرنگ سائنسز میں کیلیورنیا یونیورسٹی، برکلے کے پرویسر عمر یغائی کو ایوارڈ دیا گیا۔ اس دوران صدر ایردوان نے کہا، "میں اپنے ملک اور اپنی ملت کی طرف سے ہمارے ان پروفیسران کو ان کی سائنس اور انسانیت کے لیے کئی گئی خدمات پر مبارکباد پیش کرتا ہوں”۔

صدر ایردوان نے اعزازات کی تقسیم کے بعد بتایا کہ نوجوان سائنسدان پروگرام کے تحت مختلف شعبوں کے 31 سائنسدانوں کو اعزاز دیا گیا ہے، بہترین مصنف اور کتب کے تراجم پر انجینئرنگ اور سوشل سائنسز کے دو سائنسدانوں کو اعزازات دئیے گئے ہیں جبکہ 4 سائنسدانوں کو ‘ریمارکیبل ورک ایوارڈ’ سے نوازا گیا ہے”۔

ہماری منزل ‘سیف سائنس’ کی تخلیق ہے جو دنیا کو ایک محفوظ مستقبل دے

صدر ایردوان نے کہا، "ہم نے سائنس کے روشن راستے کے ذریعے ایک نیا اور عظیم ترکی تعمیر کے لیے نمایاں پیش رفت کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے صدارت کی زیر سر پرستی مختلف پروجیکٹس اور طوبیٰ اکیڈمی ایوارڈز کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور ترک سائنٹفک اینڈ ٹیکنالوجیکل ریسرچ کونسل (طوبیتک) کا قیام عمل میں لایا ہے۔ تاحال ہم اپنی منزل سے بہت دور ہیں۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم تمام منازل کو طے کر لیں گے لیکن 14 سال میں جو کچھ ہم نے کیا اور جو نتائج پیدا ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم درست راستے پر چل رہے ہیں۔ سب سے پہلے ہمیں 2023ء کے مقاصد حاصل کرنے ہیں، پھر ہم 2053ء اور 2071ء کے مقاصد کا اندازہ لگائیں گے۔ اس کے بعد ہم اس قابل ہو سکیں گے کہ ‘سیف سائنس’ تخلیق کر سکیں جو نہ صرف ہمارے ملک بلکہ ہمارے دوستوں اور ساری انسانیت کے لیے ایک محفوظ، بہترین اور شفاف دنیا کی تعمیر میں حصہ ڈالے”۔

صدر ایردوان نے مزید کہا،”ملکوں اور معاشروں کے لیے دفاعی تفیہم تیزی سے بدل رہی ہے۔ ماضی میں دفاع کا مطلب اپنی سرحدوں اور مفادات کا تحفظ تھا، آج یہ اس کی وسعت معیشت، سماجی اور ثقافتی حملوں کے بچاؤ تک پہنچ چکی ہے”۔

اگر آپ اپنی ٹیکنالوجی اور سائنس تخلیق نہیں کرتے تو آپ ان کی ثفاقت اور اقدار کا تعین نہیں کر سکتے

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا،”فوج، عدلیہ اور پولیس فورس کی طرف سے اٹھائے جانے والے دفاعی اقدامات اس کی صرف ظاہری شکلیں ہیں، دفاعی عمل مکمل کرنے کے لئے، سائنس سے آرٹس، تعلیم سے کھیل، سرمایہ کاری سے میڈیا تک تمام میدانوں میں کٹھن جدوجہد شروع کرنا ہوگی”۔

"اس جدوجہد کی کامیابی کے لیے، ہمیں خود کو پیش کرنا ہوگا اور ان شعبوں کی قیادت سنبھالنا ہوگی”۔ انہوں نے مزید کہا، "ہمیں اپنے دماغ میں یہ بات رکھنا چاہیے کہ ہر تہذیب خود اپنی ٹیکنالوجی تخلیق کرتی ہے اور ہر ٹیکنالوجی اپنی ثقافت اور اقدار پیدا کرتی ہے۔ ہمارے آباء نے عبادت کے لیے عمدہ ترین مسجدیں تعمیر کیں اور اس تعمیر کے دوران اپنے وقت کی جدید ترین تکنیک و ٹیکنالوجیز کا استعمال کیا جس سے ہماری تہذیب کی عکاسی ہوتی ہے۔ اسی طرح مسافر خانے، کاروان سرائے، پُل اور تجارتی راستوں کی تعمیر ہماری تہذیب کا ورثہ ہے، اگر آپ اپنی ٹیکنالوجی اور اپنی سائنس تخلیق نہیں کرتے تو آپ اس کے ساتھ جڑی ثقافت اور اقدار مقرر نہیں کر سکتے”۔

ریسرچ اینڈڈویلپمنٹ اخراجات کی شرح، جی ڈی پی میں 1.06فیصد بڑھائی گئی ہے

صدر ایردوان نے کہا، "گزشتہ 14 سالوں میں ہم نے سائنس، سائنسدانوں اور سائنسی کاموں کو بہت اہمیت دی ہے اور اس سلسلے میں معقول پیش رفت بھی کی ہے”۔

ترکی کی تاریخ میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ اخراجات کا 2015ء میں پہلی بار 20ملین ڈالرز تک پہنچنے کا حوالہ دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا، "ہم نے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ اخراجات کی شرح گزشتہ 14 سالوں میں 0.5فیصد سے 1.06فیصد تک پہنچائی ہے، اور میں سمجھتا ہوں یہ ناکافی ہے، ہمیں اسے 3فیصد تک بڑھانا ہوگا اور بڑھائیں گے”۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آر اینڈ ڈی میں کام کرنے والے افراد کی تعداد 29ہزار سے 122ہزار ہو چکی ہے۔

ثقافتی انحطاط ہمارے ماضی کے عدم استحکام کا حصہ بن چکا ہے

"ملکوں اور قوموں میں سائنس کی اہمیت صرف اس لیے نہیں رہتی کہ یہ ٹھوس نتائج دیتی ہے بلکہ اس لیےبھی ہے کہ یہ دماغوں کو تبدیل، کایا پلٹتی اور روشن دماغی کی طرف لے جاتی ہے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ "جب ہم اپنی تاریخ میں عدم استحکام اور فساد دیکھتے ہیں تو اس تب وہاں جہالت، سائنسی پست قدمی اور ثقافتی انحطاط بھی موجود پاتے ہیں”۔

صدر ایردوان نے کہا، "حشاشین جنہوں نے سلجوق کے قلب پر حملہ آور ہوئے انہوں نے اس کھوکھلے پن کی بنیاد رکھی اور یہی بہت سے مسائل کی وجوہات بنے جو عثمانیوں کے لیے مصیبت بنے”۔

فیتو کے ممبران نے اپنی رائے کو ایک اندھی طاقت کے حوالے کر رکھا ہے

"عقیدے سے انحراف کرنے والی کئی ڈھانچوں کی طرح، فیتو (فتح اللہ گولن دہشتگرد تنظیم) ممبران بھی اپنا راستہ کھو چکے ہیں۔  وہ یہ بھول گئے ہیں کہ وہ کیا ہیں، کون ہیں اور وہ ‘من کرت’ (ذہنی غلام) بن چکے ہیں جو وہی کام کرتے ہیں جو ان کا آقا کہتا ہے”۔

صدر ایردوان کا کہنا تھا کہ "15 جولائی کو اس دہشتگرد تنظیم کی طرف سے کی جانے والی غداری کا موازنہ ہم ایک صدی پہلے ہونے والے قبضے سے ہی کر سکتے ہیں۔ فیتو کی ترک پارلیمنٹ پر بمباری اور عثمانی پارلیمنٹ کو ختم کرنا دونوں کے درمیان مماثلت ہے اور دونوں کاموں کے مقاصد ایک ہی تھے۔ ان میں کوئی فرق نہیں۔ یہ دونوں اقدامات قومی اداروں کو مفلوج کر کے ملک پر قبضے کی راہ ہموار کرتے تھے جو ادارے عوام کے احساسات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تنظیم جو کہ کل تک اچھے اور سمجھدار دماغوں کو ملک میں اکٹھا کرتی تھی اس نے برائی کا راستہ اختیار کر کے اپنے آپ کو اندھیروں میں دھکیل دیا”۔

تبصرے
Loading...