ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی، بی بی سی کی زرد صحافت کو اسکول کا سبق بھول گیا

0 241
 بی بی سی کی صحافی لورہ کیونسبرگ برطانوی وزیراعظم تھریسامے کے ہمراہ صحافیوں کی ٹیم میں ترک صدارتی کمپلیکس میں پہنچی تو کمپلیکس کی چمکتی تصویریں سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اس عنوان کے ساتھ لگائیں کہ "صدر ایردوان کے محل میں بہت زیادہ سونا ہے”۔ کمپلیکس میں رہنے والے تین شخصیات نے ان کی ٹویٹ پر فوری ردعمل دیتے ہوئے اس "غیر معیاری صحافت” قرار دیتے ہوئے انہیں اسکول کا سبق یاد دلایا کہ "ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی”۔
لورہ کیونسبرگ بی بی سی کی پولیٹکل ایڈیٹر ہیں اور تھریسامے کے صحافتی کانوائے میں شامل ہیں جو ترکی کا دورہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے یہ تصاویر اپنے موبائل کیمرہ سے محفوظ کرتے ہوئے اپنی ٹویٹس کا حصہ بنایا۔ انہوں نے لکھا کہ "ایردوان کے محل میں بہت زیادہ سونا ہے” اور ” دنیا کا ایک اور لیڈر جو سونے کی لفٹس پسند کرتا ہے”۔

صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے فوری ردعمل دیتے ہوئے ٹویٹ کی کہ صدارتی کمپلیکس میں سونے بارے بی بی سی کی لورہ کیونسبرگ کا یہ جھوٹ کا تسلسل ہے۔ ان میں سے کچھ بھی سونا نہیں ہے۔ یہ (ٹویٹس) ان کی گھٹیا صحافت کی عکاسی کرتی ہیں

 

صدر کے پرائیویٹ سیکرٹری حسن دوگان نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ "آپ کے خیال میں ہر چمکتی ہوئی زرد چیز جو تم دیکھو وہ سونا ہی ہوتی ہے :))”

 

صدارتی کمپلیکس کے اعلی عہدیدار مصطفیٰ وارانک نے لورہ کیونسبرگ کو صداری کمپلیکس کے چوکیدار کی تصویر دکھاتے ہوئے کہا "ہائے لورہ، یہ دیکھو ایردوان کے محل میں کھڑے چوکیدار کو دیکھو، یہ سب بھی سونے کا بنا ہوا ہے”۔

 

تبصرے
Loading...