ترکی کو دس بڑی عالمی معیشتوں میں سے ایک بنانا ہدف، رجب طیب ایردوان

0 296

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے مرسین میں نئے ہسپتال کا افتتاح کے بعد عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا "ترکی میں فراہم کی جانے والی طبی سہولتیں یورپ اور امریکا سمیت دنیا کی کئی جگہوں سے نظام اور معیار کے لحاظ سے بہت بہتر ہیں”۔

صدر رجب طیب ایردوان نے مرسین میں طبی شہر کے افتتاح پر عوام کی کثیر تعداد سے خطاب کیا۔

افتتاحی تقریب میں وزیر برائے یورپی یونین معاملات، وزیر لیبر و سوشل سیکیورٹی، وزیر توانائی و قدرتی معدنیات، وزیر ڈویلپمنٹ، وزیر صحت، گورنر مرسین، مئیر مرسین اور ملکی و غیر ملکی مہمانوں نے شرکت کی۔

صحت کے تمام مسائل ایک ہی چھتری تلے حل ہوں گے

صدر ایردوان نے عظیم سیلمان کے اشعار "لوگ سوچتے ہیں دولت اور طاقت ہی اچھی قسمت کی نشانی ہیں ۔۔۔ لیکن بہترین قسمت تو یہ ہے کہ آپ کو بہترین صحت حاصل ہو” پڑھتے ہوئے کہا کہ "ہم ان طبی شہروں کے قیام کے ساتھ یہ قسمت اب اپنے شہریوں کو منتقل کر رہے ہیں، ہم 2023ء تک 32 بیڈ فی دس ہزار افراد کا ہدف حاصل کریں گے جو تمام جدیدطبی سہولتوں سے مزین ہوں گے، یہ ایک ریکارڈ ہدف ہے۔ اس پروجیکٹ کا ہدف یہ ہے کہ کہ ہمارے شہریوں کے تمام طبی مسائل کا حل بہترین اور معیاری طبی سہولتوں کے ساتھ ایک ہی چھتری کے نیچے ہو۔ یہ تمام ہسپتال تمام مریضوں کو فائیو اسٹار طبی سہولیات فراہم کریں گے نہ صرف طبی بلکہ ان کی عیادت کرنے والوں کو بھی سہولیات دی جائیں گی۔ ہیلی پیڈ سے پارکنگ مقامات، طبی سہولیات سے طبی آلات، توانائی کے نظام سے خودکار نظام تک یہ طبی شہر دنیا کے بہترین معیار پر تیار کیے گئے ہیں جو ترکی کو طب کےشعبے میں بڑا مقام عطاء کریں گے”۔

مرسین طبی شہر 232 ہزار مربع میٹر پر تعمیر کیا گیا ہسپتال ہے جس کے ساتھ 375ہزار مربع میٹر کا عمارتی رقبہ شامل ہے۔ صدر نے کہا کہ یہ سہولت قابل فخر ہے کیونکہ یہ ہسپتال 502 سنگل بیڈ رومز رکھتا ہے جو ہر ایک 33 مربع میٹر پر مشتمل ہے، ہر بیڈ روم میں غسل خانہ، پا خانہ، مریض کا بیڈ، عیادت کرنے والوں کے لیے صوفہ، ٹی وی، فریزر اور تمام متعلقہ طبی آلات نصب ہیں۔

[ngg_images source=”galleries” container_ids=”1″ display_type=”photocrati-nextgen_basic_imagebrowser” ajax_pagination=”0″ order_by=”sortorder” order_direction=”ASC” returns=”included” maximum_entity_count=”500″]

ہمارا مقصد ہے کہ ترکی کو دنیا کی دس بڑی معیشتوں میں شامل کریں

صدر ایردوان نے کہا کہ 2013ء تک ہمارا ہدف ہے کہ ترکی کو دنیا کی دس بڑی معیشتوں میں سے ایک بنائیں اور اس کا شمار دنیا کے خوشحال ممالک میں ہو”۔ اس دوران انہوں نے شرکاء سے پوچھا کہ "کیا آپ اس کے لیے یکسو ہیں؟”۔

جم غفیر نے صدارتی نظام کی "ہاں” میں جواب دیا۔ صدر نے کہا کہ آپ "ہاں” کہہ رہے ہیں، پارلیمنٹ بھی "ہاں” کہہ چکی ہے اور قوم بھی "ہاں” کہتی ہے۔

مرسین میں ایک ہی دن تعلیم اور صحت میں لگانے جانے والے قومی سرمائے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ مرسین طبی شہر خطے اور ملک کے لیے اچھے نتائج لائے گا۔ انہوں نے کہا "چونکہ میرے ساتھی اس بارے میں تفصیل سے بتا چکے ہیں اس لئے صرف اتنا ہی کہوں گا کہ ہم نے آج کے دن 1۔1 بلین لیرا کے پروجیکٹس کا افتتاح کیا ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں دی جانے والی طبی سہولت، طبی نظام اور معیار کے لحاظ سے دنیا کے باقی مقامات سے کہیں بہتر ہیں جن میں یورپ اور امریکا بھی شامل ہے”۔

تمام سازشیں شکست سے دوچار ہوئیں اور آئندہ بھی اسی انجام سے گزریں گی

پنسیلوانیا نے قندیل اور عمرالی سے شراکت کی، پہلے 7 اکتوبر 2014ء کو اور پھر 20 جولائی 2015ء کو، اور اس کے بعد انہوں نے قبریں کھودنے کا کام شروع کردیا، کیا انہوں نے ایسا نہیں کیا؟ انہوں نے اس ملک میں آگ اور خون کی ہولی کھیلی۔ تاہم میری قوم نے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے اور اپنے سیاسی اداروں کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ یوں تمام سازشیں شکست سے دوچار ہوئیں اور آئندہ بھی اسی انجام سے گزریں گی۔

صدر ایردوان نے فیتو کی ناکام بغاوت یاد دلاتے ہوئے کہا، "15جولائی کو اس باغی گینگ نے ایف16، ہیلی کاپٹروں، ٹینکوں، توپ خانوں اوردوسرے جدید ہتھیاروں سے بارود کی بارش برسائی۔ لیکن میری پیاری ملت نے کیسا جواب دیا؟۔ میرے ساتھیو! میرے ملک کو بدمعاشوں کے ہاتھ میں کبھی نہ جانے دینا، اپنے سینوں کو زرہ بکتر اور اپنے جسموں کو فصیل بنا کر ان مکروہ حملوں کو روک دینا۔ پھر تم دیکھو گے کہ وہ پُرلطیف دن آئیں گے جس کا اللہ نے تم سے وعدہ کیا گیا ہے کون جانتا ہے؟ کل لیکن بہت جلد۔ یہ مسائل ختم ہوں گے جیسے آپ نے ختم کر دکھائے ہیں”۔

صدر ایردوان نے رابعہ کا نشان بناتے ہوئے پوچھا کہ "تمہیں یہ نشان یاد ہے، کیا نہیں ہے؟، اس کا مطلب کیا ہے؟ ایک ملت، ایک جھنڈا، ایک وطن اور ایک ریاست، ہم ان چار علامتوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ علامتیں کھڑی رہیں گی، ہم اللہ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے اور ایک دوسرے کو گلے لگاتے رہیں گے”۔

صدر رجب طیب ایردوان نے اپریل 2017ء کے ریفرنڈم کو یاد دلاتے ہوئے پوچھا کہ تمام تم بیلٹ باکس میں”ہاں” کہنے کو تیار ہو،”۔ شہریوں نے "ہاں” میں جواب دیا۔

15 جولائی کی شب ترک عوام  نے دنیا بھر کو حوصلہ دیا

"ہمیں آرام نہیں، آگ بڑھتے رہنا ہے” صدر نے پوچھا کہ "کیا مرسین پہلے کی طرح بیلٹ باکس کا فیصلہ دے گا؟ ترک قوم نے 15 جولائی میں دنیا کے سامنے ایسے بولی اور اپنے مستقبل اور آزادی  کی جنگ کے لیے ایسے چلائی کہ مثال بن گئی۔ وہ جنگ جو بہت پہلے سے پس پردہ چل رہی تھی۔ وہ اسے ہضم نہیں کر سکتے۔ ہم نے جواب دینا ہے۔ ہم نے پارلیمنٹ ممبر بننے کے لیے عمر 30 سے 25 سال کی اور اب نوجوانوں کے لیے اسے مزید کم کر کے 25 سے 18 کر رہے ہیں۔ دنیا کے 56 ممالک میں عمر کی اہلیت 18 سال ہی ہے تو ہم ترکی میں 18 سال کیوں نہیں بنا سکتے؟ کیا ہمیں اپنی نوجوان نسل پر اعتماد نہیں ہے؟ ہمارے آباء میں محمد الفاتح جنہوں نے تاریخ کا رخ 21 سال کی عمر میں بدل دیا، ہمارے نوجوان انہی کی اوّلاد ہیں”۔

صدر رجب طیب ایردوان نے خطاب کے بعدباقی قائدین اور سرکاری عہدیداران کے ہمراہ منصوبے کا افتتاح کرتے ہوئے فیتہ کاٹا۔

تبصرے
Loading...