ہمارے افریقی دوستوں میں فیتو کے خلاف حساسيت بڑھتی جا رہی ہے، رجب طیب ایردوان

0 229

صدر رجب طیب ایردوان نے تنزانيا کے لیے جانے سے قبل اتاترک ائیر پورٹ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے کہا کہ : ” ہمارے افریقی دوستوں میں فیتو کے خطرناک اور دھوکے باز عزائم کے خلاف حساسيت بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ وہ اس کو ہر گزرتے دن کے ساتھ بہتر طور پر سمجھتے جا رہے ہیں- یہ قاتلوں کی ایک تنظیم ہے جو کہ 15 جولائی کو رنگے ہاتھوں پکڑی گئی تھی اب مذاکرات ، خدمات ، تعلیم اور تجارت کی آڑ میں یہ نہیں چھپ سکتے”۔

صدر رجب طیب ایردوان نے تنزانيا روانگی سے قبل اتاترک ائیر پورٹ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور پھر اپنے دورہ مشرقی افریقہ کا آغاز تنزانيا سے کیا صدر ایردوان بعدازاں موزمبیق اور مڈغاسکر کا بھی دورہ کریں گے –

افریقہ میں ہمارے سفارت خانوں کی تعداد 39 ہوگئی ہے

افریقی سال جس کا قیام سن 2005 میں ترکی میں ہوا کی طرف اشارہ دیتے ہوئے صدر ایردوان کا کہنا تھا کہ : ” افریقہ میں ہمارے سفارت خانوں کی تعداد 39 ہوگئی ہے” جن میں سے 12 سفارت خانوں کا قیام حال میں عمل میں آیا ہے صدر کا مزید کہنا تھا کہ ترکی ہر افریقی ملک میں اپنے سفارت خانے کھولنا چاہتا ہے تاکہ افریقی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید بلندیوں تک پہنچا سکے۔

صدر ایردوان نے اس موقع پر جو کاروباری حضرات اور وزراء ان کے ہمراہ دورہ مشرقی افریقہ میں شامل تھے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ : ” ہم اپنے دورے کے آغاز بروز سوموار 23 جنوری دارلاسلام میں تنزانيا کے صدر سے ملاقات سے کریں گے بعدازاں ہمارے وفود صدر مگوفولی کے ساتھ سرکاری باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے اس کے بعد میرے ہم منصب اور میں ایک تاجروں کے گروپ کی جانب سے دیئے گئے عشائیے میں شرکت کریں گے جس کا انعقاد ترک اور تنزانين کارجو نے کیا ہے”۔

صدر ایردوان کا کہنا تھا کہ پھر ہم موزمبیق کے دارالحکومت ماپوٹو 23 جنوری کی شب پہنچیں گے وہاں ہماری ملاقات موزمبیق کے صدر فلپ نیوسی سے ہوگی ان کے ہمراہ شراکتی ملاقاتیں ہوں گی مختلف وفود سے بروز منگل 24 جنوری کو شرکت کریں گے۔

ہم ریاست کے سربراہان کو فیتو کی سرگرمیوں سے آگاہ کریں گے

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ کسی بھی ترک صدارتی سطح کا موزمبیق کے لئے اپنی نوعیت کا یہ پہلا دورہ ہوگا صدر ایردوان کا کہنا تھا کہ : ” یہ اپنی نوعیت کا صدارتی سطح کا ترکی سے موزمبیق کا یہ پہلا دورہ تو ہے ہی اس کے ساتھ ساتھ یہ دورہ اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس میں ان ممالک کے سربراہان کو خصوصی طور پر فیتو دہشت گرد تنظیم کی شدت پسند سرگرمیوں سے آگاہ کرنا بھی ہے چاہے وہ تنزانيا ، موزمبیق یا پھر کسی دوسرے ملک میں ہوں”۔

یہاں پر مذاکرات کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہم مڈغاسکر کے دارالحکومت اینٹاناناریوو منگل کی شام بروز 24 جنوری پہنچیں گے – صدر ایردوان کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کے ہم منصب مالگاسے (راجااونارامام پیانینا ) دونوں مختلف وفود سے بدھ بروز 25 جنوری کو ملاقاتیں کریں گے۔

ہم انتہائی جفاکشی سے فیتو دہشت گرد تنظیم کو دوست اور برادر ممالک کی جغرافیائی حدود سے ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

صدر ایردوان نے کہا کہ : ” معارف فاؤنڈیشن کے نمائندگان کے ہمراہ ہم مشترکہ طور پر اپنی توقعات اپنے ہم منصب تک پہنچائیں گے اور دہشت گرد تنظیم فیتو سے جنگ حتمی انجام تک پہنچائیں گے” صدرایردوان کا مزید کہنا تھا کہ : ” ہم انتہائی جفاکشی سے فیتو دہشت گرد تنظیم کو دوست اور برادر ممالک کی جغرافیائی حدود سے ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کم اپنے ہم منصب سے اس موضوع پر بات چیت بھی کریں گے کہ اس ضمن میں ایسا کیا کیا جا سکتا ہے- مجھے یہ بات کہنے میں فخر محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے افریقی دوست فیتو کے خطرناک اور مکار عزائم سے بخوبی واقف ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید آگاہ ہوتے جا رہے ہیں – یہ قاتلوں کا ٹولہ یہ تنظیم جو کہ 15جولائی کی شب رنگے ہاتھوں پکڑی گئی تھی اب مزید مذاکرات کے پیچھےمختلف روپ دھار کر ، خدمت کا جھانسا دے کر یا پھر تعلیم یا تجارت کا جھانسا دے کر اب مزید نہیں چھپ سکتی۔ معارف فاؤنڈیشن کی مدد سے اور ٹیکا کی مدد سے ترکی تعلیمی وظائف کے ذریعے ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ یہ دہشت گرد تنظیم ہمارے دوست ممالک اور ملت کے لئے مسائل نہ پیدا کرے۔

اپنے دیئے گئے بیان کے بعد صدر ایردوان نے صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے۔

پارلیمانی عمل کا مرحلہ کامیابی سے مکمل کیا جا چکا ہے

آئینی ترمیمی عمل سے مطلق صدر ایردوان کا کہنا تھا کہ :
” پارلیمانی عمل کا مرحلہ کامیابی سے مکمل کیا جا چکا ہے جس کے بعد اب استصواب رائے ہو گا – اب ہم اصل اختیار کننددگان کے پاس جائیں گے جو کہ اس ملک کی عوام ہیں – ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ ہماری عوام ریفرنڈم میں کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد اگر ہماری عوام نے  ریفرنڈم میں صدارتی نظام کو قبول کر لیا تو الیکشن کا عمل فوری نہیں ہو گا اس کے بعد بھی الیکشن کے عمل کے لیئے وقت درکار ہوگا – اس وقت جو حالات ہیں ان کو دیکھ کر یہی لگتا کے کہ 2019ء الیکشن کا سال ہوگا – ان الیکشنوں میں ہم ایک دفعہ پھر عوام کے پاس جائیں گے – ہم اس بات کا اندازہ لگائیں گے کہ عوام کیا چاہتے ہیں – پھر ہم نتائج کا انتظار کریں گے اور نتیجہ آنے کے بعد اقدامات کریں گے۔ اس میں جو منفرد عمل ہو گا وہ یہ ہوگا کہ ایک پارٹی ممبر صدر اس جدوجہد کا حصہ ہوگا – ہمارا یہ ماننا ہے کہ ترکی کو اس ضمن میں جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے ایسے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے جو کہ مستقبل میں کارکردگی کو بہتر کریں گے – باوجود اس کے کہ کچھ لوگ اس طرز حکمرانی پر تنقید کرتے ہیں جبکہ اس بات کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ تو نظام کی تبدیلی ہے”۔

ترکی مشرق وسطٰی میں سب سے طاقتور اور مصمم ارادہ رکھنے والا ملک ہے

صدر رجب طیب ایردوان کا کہنا تھا کہ انہوں نے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کا جائزہ لیا ہے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ : ” ہم بھی ان کے بیانات کا جائزہ لے رہے ہیں اور ہم مشرق وسطٰی کے بارے میں سوچ رہے ہیں ناکہ پلوں یا ریلوے کے بارے میں – میں یہ سوچ رہا ہوں کہ صدر ٹرمپ مشرق وسطٰی سے مطلق کیا پالیسی اختیار کریں گے۔ کیونکہ مشرق وسطٰی اس وقت انتہائی نازک حالات سے گزر رہا ہے ہم نے مشرق وسطٰی سے مطلق کچھ بیانات سنے تھے اگر وہ حقائق پر مبنی ہیں تو وہ واقعتاً پریشان کن ہیں – اس لیئے ہمیں بیٹھ کر ان پر سوچ بچار کرنی چاہیے – اس لیئے ہم اس بات کہ حق میں ہیں کہ مشرق وسطٰی کے علاقائی حدود سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے- ہم کسی بھی صورت میں ایک تقسیم شدہ مشرق وسطٰی کے حق میں نہیں ہیں اور یہ اچھی بات نہیں ہوگی – یہ مشرق وسطٰی کے لوگوں کے لئے ہتک آمیز ہو گا ہم بطور ترکی ایسے خیال کی حمایت نہیں کر سکتے۔ صدر ٹرمپ سے ملاقات کے وقت میں یہ نہیں جانتا کہ کب ٹرمپ سے ملاقات کا وقت ملے گا وزارت خارجہ سے جاری بات چیت میں ہم ان امور پر گہرائی سے تبادلہ خیال کریں گے – کیونکہ ترکی مشرق وسطٰی میں سب سے طاقتور اور مصمم ارادہ رکھنے والا ملک ہے – اگر وہ لوگ جن کا مشرق وسطٰی سے کوئی تعلق نہیں ہے مشرق وسطٰی سے مطلق تاریخی طور پر غلط فیصلہ کریں گے تو یہ دنیا کے لیئے اچھا نہیں ہوگا”۔

تبصرے
Loading...