ہم اپنی مملکت جمہوریہ کے سر پر طاقتور جمہوریت کا تاج سجا رہے ہیں: صدر ایردوان

0 252

مانیسا میں خطاب کرتے ہوئےترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا: "ہم اپنے ملک اور قوم کے مستقبل کے لئے حکومت کی صدارتی نظام چاہتے ہیں۔ہم اس مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر ہم سمجھتے ہیں کہ  ترکی کیلئے اس کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے اور اس کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے موجودہ نظام حکومت ناکافی تھا تو آئینی ترمیم کے لیے کوئی قدم کیوں نہیں اٹھائیں گے”۔

صدر رجب طیب ایردوان نے مانیسا میں نئی تعمیر ہونے والی سہولیات کی بڑے پیمانے پر افتتاحی تقریب میں خطاب کیا۔ تقریب میں وزیر معیشت، وزیر توانائی و قدرتی معدنیات، وزیر خاندانی و سماجی امور، وزیر نوجواں و کھیل، وزیر جنگلات و پانی امور اور ممبران اسمبلی سمیت شہریوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

ہم ایک طاقتور انتظامی شاخ قائم کر رہے ہیں

ترکی 16 اپریل کو ایک اہم فیصلہ کرے گا اور ریفرنڈم کے ذریعے نظام حکومت کو بدل دے گا۔ صدر ایردوان نے اس جانب اشارہ دلاتے ہوئے مزید کہا: "ہمارا موجودہ رجیم  کے ساتھ کسی قسم کا مسئلہ نہیں ہے۔ مملکت نے 1923ء میں رجیم کے معاملے کو ختم کر دیا تھا۔ ہمارا مسئلہ نظام حکومت سے ہے۔ ہم وزارت عظمیٰ اور ایوان صدارت کو یکجا کر رہے ہیں. ہم ایک طاقتور ایگزیکٹو عضو قائم کر رہے ہیں. تاہم، انہیں اب بھی سمجھ نہیں آتی۔  ان پانچ بھیڑیں دیں تو وہ انہیں ہار بیٹھیں گے۔

16 اپریل کو قوم کی ‘ہاں’ کے  فیصلے کا مطلب ہو گا کہ گزشتہ 14 سال سے پیش کی جانے والی خدمات جاری رہیں اور اس طرح ترکی  مزید ترقی کرتا رہے، صدر ایردوان نے کہا کہ حکومت کا نیا نظام مضبوط پارلیمنٹ اورعدلیہ دے گا۔ انہوں نے کہا: "ری پبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) کا دعوی کیا ہے؟ ‘یہ پارلیمنٹ کو ختم کرنے جا رہے ہیں’ انہیں سچ بتاؤ کہ اس کے برعکس ہم پارلیمنٹ کو مضبوط بنانے جا رہے ہیں۔ ہم اس کے آڈٹ مینڈیٹ کو مضبوط کر رہے ہیں۔ ہم اپنی مملکت جمہوریہ کے سر پر طاقتور جمہوریت کا تاج سجا رہے ہیں۔  ہم اس ملک اور قوم کے ساتھ محبت کرتے ہیں. ہم آپ کے ساتھ محبت کرتے ہیں”۔

ہم ایسا کوئی کام نہیں کریں گے جو اس قوم کے لیے نقصان دہ ہو

صدر ایردوان نے کہا: "ہم ایسا کوئی کام نہیں کریں گے جو اس قوم کے لیے نقصان دہ ہو بلکہ ایسے کام کے خلاف اپنی روح اور جسم کے ساتھ کھڑے ہوں گے”۔ انہوں نے مزید کہا: "تم میرے اس نقطہ نظر کے گواہ اس دن سے ہو جب میں پہلی بار استنبول میٹرو پولیٹین بلدیہ کا 1994ء میں میئر منتخب ہوا تھا۔ یہ کیا نقطہ نظر تھا؟ انہوں نے مجھے صرف اس وجہ سے جیل کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا کہ میں نے ایک نظم پڑھ کر سنائی تھی۔ یاد کرو، مجھے 3نومبر 2002ء کو قومی اسمبلی کا ممبر بننے سے روکا گیا۔ تم میرے اس موقف سے بھی واقف ہو جس کا اظہار میں نے اپنی پارٹی کے برسراقتدار آنے پر کیا تھا۔ تم اس موقف کے بھی گواہ ہو جس کا اظہار میں نے وطن میں رہنے والوں اور بیرون ملک رہنے والوں کو مملکت کی نمائندگی کرنے کے لیے کیا تھا۔ کیوں؟ کیونکہ یہ قوم دلیری سے کھڑی ہوتی ہے، اکڑ کر نہیں۔ ہمیں اس طریقے سے کام کرنا چاہیے جو اس ملک و قوم کے وقار کے لیے موزوں ہو۔ آپ کے ساتھ مل کر ہم نے 15 جولائی کی شب ایسا موقف پیش کیا جو تاریخ میں ثبت ہو گیا۔ اور ایک بار پھر ہم اپنے ملک اور قوم کے مستقبل کے لئے حکومت کی صدارتی نظام چاہتے ہیں۔ہم اس مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر ہم سمجھتے ہیں کہ ترکی کیلئے اس کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے اور اس کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے موجودہ نظام حکومت ناکافی تھا تو آئینی ترمیم کے لیے کوئی قدم کیوں نہیں اٹھائیں گے”۔

جب صدر اور وزیراعظم کے درمیان ان بن ہوتی ہے تو ہمیشہ قوم نقصان اٹھاتی ہے

جو طاقت اور اختیارات کو مختلف اکائیوں نے تقسیم کرتے ہیں وہ ملک کو اس کے نقصان بارے بے فکر رہتے ہیں، صدر ایردوان نے کہا: "ماضی میں کمزور انتظامیہ نے سیاسی اوراقتصادی بحرانوں کوجنم دیا۔ اس لیے ترکی میں سماجی تغیر پیدا ہوا جس میں سماج ہمیشہ نقصان اٹھاتا رہا ہے”۔ صدر نے مزید کہا: "اور ان کی سوچ صرف اس سے فائدہ اٹھانے، ان بحرانوں سے ذاتی فائدہ حاصل کرنے کے لئے تھی۔ جب صدر اور وزیراعظم کے درمیان ان بن ہوتی ہے اور صدارت کا معاملہ ڈیڈ لاک کا شکار ہوتا ہے تو ہمیشہ قوم نقصان اٹھاتی ہے”۔

تبصرے
Loading...