یورپ، ترکی اور ایردوان کے خلاف کھل کر سامنے کیوں آ رہا ہے؟

0 952

یورپ میں بہت روشنی علم و ہنر ہے
حق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظلمات

یہ علم ، یہ حکمت ، یہ تدبر ، یہ حکومت
پیتے ہیں لہو ، دیتے ہیں تعلیم مساوات

حالیہ ریفرنڈم کے خلاف یورپی ممالک کا ردعمل نیا نہیں ہے، اس سے قبل سابقہ انتخابات میں یورپی میڈیا کھل کر صدر رجب طیب ایردوان کی مخالفت کر رہا تھا اور ترک ملت سے اپیل کر رہا تھا کہ وہ صدر ایردوان کی مخالفت میں ووٹ ڈالے۔ لیکن ریفرنڈم کی مخالفت میں صرف میڈیا ہی نہیں یورپی حکومتیں بھی کھل کر سامنے آ چکی ہیں۔ 

کنٹیم انٹرنیشنل پبلشنگ گروپ کے مطابق یورپ میں 10,000,000 ترک شہری رہتے ہیں جنہیں ترکی میں ووٹ کا حق حاصل ہے۔ حالیہ صدارتی ریفرنڈم میں بھی وہ اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ عالمی قوانین کے تحت ہر دو پارٹیوں کو اپنی انتخابی مہم میں ان ترک باشندوں تک رسائی اور بات کرنے کا حق حاصل ہے۔  یورپی ممالک کس اصول اور قانون کی رو سے صدر ایردوان اور ان کے پارٹی ممبران کو ان ترکوں سے براہ راست مخاطب ہونے سے روک سکتے ہیں۔

یورپی ممالک کا صدر ایردوان سے مخاصمانہ اور غیر قانونی رویہ نیا نہیں ہے، اس سے قبل مہاجرین بارے معاہدے پر جس طرح وعدہ خلافی کرتے ہوئے ترکی کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی وہ اس غیر مہذب اور غیر جمہوری رویہ کوواضع کر چکی ہے ترکی نے معاہدے کے مطابق شامی مہاجرین کو یورپ میں داخلے سے روکا لیکن بدلے میں ترکی سے جو وعدے کیے گئے انہیں پورا نہ کیا گیا۔ 16 جولائی 2016ء کی ناکام بغاوت کے بعد بھی یورپی رویہ کھل کر سامنے آیا۔ یونان نے ہیلی کاپٹر پر بھاگنے والے باغیوں کو ترکی کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا جبکہ جرمنی میں ناکام بغاوت کے بعد صدر ایردوان کے حق میں جمع ہونے والے ہزاروں ترک شہریوں کو صدر ایردوان کے لائیو خطاب سے محروم کر دیا گیا۔

صدر رجب طیب ایردوان ترک ملت کی براہ راست ووٹنگ سے منتخب ہونے والے سیاستدان ہیں، ترکی میں ہونے والے تمام انتخابات کی مانیٹرنگ براہ راست اور بلواسطہ کئی طریقوں سے کی جاتی ہے۔ وہ کسی بھی غیر آئینی اور چور دروازے سے اقتدار میں نہیں آتے۔ انہیں ترک ملت کی بھرپور تائید حاصل ہے جو ناکام بغاوت کی شب پوری دنیا دیکھ چکی ہے۔ 

ان کے عالمی حریف میڈیا، انتخابات اور پھر بغاوت کے ذریعے گرانے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ صدارتی ریفرنڈم ایک بار پھر ان کے لیے آخری موقع لایا ہے کہ وہ صدر ایردوان کے اقتدار کا خاتمہ ممکن بنا سکیں۔ وہ ترکی میں براہ راست اثرانداز ہونے سے قاصر ہیں۔ اس وقت آزاد سروے اور تخمینے 55 سے 65 فیصد حمایت کا اظہار کر رہے ہیں۔ یورپ اپنے ہاں رہنے والے ترکوں سے صدر ایردوان سے دور رکھ کر صدارتی ریفرنڈم کے نتائج پر اثرانداز ہونا چاہتا ہے۔

ترک قوم عثمانیوں کی اوّلاد ہے، وہ ایک بار پھر سبق دینے کو تیار ہیں وہ سبق جو نئے ترکی کے مخالفین کو کئی بار دے چکے ہیں۔ صدارتی نظام کے بعد ترک سیاست میں نقب لگانے کے تمام خواب ٹوٹ جائیں گے اور کسی بھی پارٹی کے لیے اقتدار میں آنے کے لیے لازمی ہو گا کہ وہ اپنی کسی شخصیت کے حق میں 50فیصد سے زائد حمایت پیدا کرے۔ اتنی تعداد حاصل کرنے لیے انہیں عوام کا دل جینا پڑے گا جو اوچھے ہتھکنڈوں سے نہیں جیتا جا سکتا۔ بلکہ بے مثال خدمت اور بہترین خیال کی بنیاد سے فتح کیا جا سکے گا۔

تبصرے
Loading...