یورپ ترکی کے متوقع نئے نظام کا دشمن کیوں ہے؟-احمد بن نبیل بنونہ

0 724

جدید ترکی کی ترقی دنیا سے کوئی مختلف اورجداگانہ نہیں ہے ۔اپنے گردوپیش سے متاثر ہونا اس کی طبیعت کا بھی حصہ ہے تاہم حیران کن امریہ ہے کہ ترکی میں تعمیر و ترقی کے آغاز کے ساتھ ہی یورپی تہذیب اس کی دشمنی پرکمربستہ ہوگئی ہے ۔ترکی کو جدیدترقی کی راہ پرگامزن ہونے سے روکنے کے لئے یورپی بدخواہوں نے دہشت گردی کو ایک موثر ہتھیارکے طورپراستعمال کیا ۔چونکہ یورپی ترقی کی عمارت مادی بنیادوں پرایستادہ ہے اوریہ ان دینی اورروحانی اقدار سے عاری اورمحروم ہے جو ایک کامل ترقی کے لئے ضروری سمجھی جاتی ہیں ۔رومن تہذیب اور مادیت کی کھوکھلی بنیادوں پر قائم ہونے کے باعث یورپی ترقی طاقت اور تسلط پرمنحصر ہے، جس کے لئے ضروری ہے کہ احترام کا لائق صرف طاقتور کوسمجھاجائے ،تعلقات صرف مفادات کی بنیاد پر استوارہوں،تعاون اوراظہاریکجہتی صرف زور آور کے ساتھ کیاجائے تاکہ عالمی سطح پر اپنی مادی اور معنوی بالادستی قائم کرنے کا خواب پوراہو۔
یورپ کی ترقی کا لب لباب انسان کی جسمانی آسودگی ،عیش اور زیادہ سے زیادہ دولت کاذخیرہ جمع کرنا ہے، قطع نظر اس سے کہ ذرائع آمدن کیاہیں۔یورپ کاسرمایہ دارانہ نظام اجتماعی مصالح سے صرف نظرکرکے فرد کے فائدے کوترجیح دیتاہے ۔یورپی ترقی اورتہذیب کا یہی مزاج دیگر ادیان کے ساتھ تعامل ، غیرتہذیبوں کے ساتھ سلوک اور رہن سہن میں بھی جھلکتا ہے ۔ دوسروں کو قبول نہ کرنا ،ان کی برتری اورسبقت کو نظرانداز کردینا اورانہیں ان کاجائز مقام نہ دینا یورپ کی مفاد پرستانہ ترقی اورتہذیب کا راز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپی تہذیب اورترقی کا نصب العین دنیا بھرکی دیگر تہذیبوں پراپنی برتری اوربالادستی قائم کرنابن چکاہے، جس کے لئے دوسروں پر اپنی ثقافت مسلط کرنے کے لئے فکری یلغار اورگلوبلائزیشن جیسے ہتھکنڈوں کابے دریغ استعمال کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا۔اپنی تہذیب کو رواج دینے کے لئے یورپ بیک وقت عیسائیت اور لبرل ازم دونوں کاسہارالے رہاہے ۔ ان تمام تر حربوں سے یہی ظاہرہوتاہے کہ یورپ تہذیبوں کی ترقی کے بجائے ان کے باہمی تصادم پر یقین رکھتا ہے۔

ذرائع ابلاغ کے توسط سے اسلامی تہذیب اورمسلمانوں کے بارے میں یورپ کا متعصبانہ ،نسل پرستانہ اورمعاندانہ رویہ بڑے واضح اندازسے ظاہر ہوچکاہے ۔ رواں ماہ صدارتی نظام کے بارے میں ترکی میں ریفرنڈم ہونے والا ہے، جس میں اپنی رائے دینا ہر ترک باشندے کا حق ہے، مگر یورپی رہنما اپنے ہاں مقیم ترک تارکین وطن کو اس ریفرنڈم کے لیے جاری مہم میں شرکت کرنے سے نہ صرف روک رہے ہیں بلکہ ان پر مجرمانہ حملوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ ترک وزراءاور سرکاری ذمہ داروں کو اپنے ہم وطنوں سے ملاقات کرنے سے بھی روک رہے ہیں۔ یہاں تک کہ معزز ترک وزراءکی پروازوں کو ہالینڈاوردیگر یورپی ممالک میں لینڈ کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ یہ سب یورپ کی ترکی کے اسلام پسندانہ نظام اور روحانی ترقی سے دشمنی کاکھلاثبوت ہے ۔ہالینڈ کے متعصب حکام نے ترک خاتون وزیربرائے خاندانی امورفاطمہ بتول کو ترک کمیونٹی سے ملنے نہیں دیا، جرمنی نے ترک دستور کے حامیوں کے اجتماعات پرپابندی عائد کرکے ان کو آزادی اظہار کے بنیادی حق سے محروم کردیا ۔یورپی ممالک کے دوہرے معیار کااندازہ اس سے لگایاجاسکتاہے کہ دوسری جانب ترکی کی اسلام پسند حکومت کے مخالفین بالخصوص فتح اللہ گولن اور دہشت گرد کرد جماعت کے حامیوں کو میٹنگوں کے انعقاد اور جلسے جلوس کی پوری آزادی حاصل ہے۔ جو بین الاقوامی اصولوں اور معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔

ترکی کے خلاف یورپی قوتوں کی مذکورہ تمام ریشہ دوانیوں کامقصد ترکی کو ماضی کی طرح ایک کمزور ملک بنائے رکھنا ہے تاکہ وہ یورپ کو روس کی بڑھتی ہوئی طاقت سے محفوظ رکھنے اور ایشیا کی جانب سے یورپ جانے والے تارکین وطن کی ہجرت کے سلسلے کو روکنے کے لئے ایک چوکیدار کے طور پر کام آئے ۔یورپ ہرگزنہیں چاہتا کہ ترکی کا وہ دستور تبدیل ہو جسے یورپی رہنماو¿ں نے ماضی میں دین بیزار ترک حکومتوں کے لئے اس لئے بنایاتھاتاکہ ترکی ترقی کرکے کسی اہم منزل تک پہنچنے کے بجائے یورپ کا مستقل خدمت گار، زلہ خوار اور دریوزہ گر بنارہے ۔ یورپ کی اس مذموم سازش کے نقصانات اور تباہ کاریوں کے بارے میں ترک عوام کو بخوبی آگاہی ہوچکی ہے ،انہیں ترکی کو پسماندہ رکھنے کے لئے یورپ کی کمرتوڑ جدوجہد کا بھی بخوبی اندازہ ہوچکاہے، جس کے نتیجے میں ترک عوام میں اتفاق اور باہمی یکجہتی کاغیرمعمولی مظاہرہ دیکھنے میں آرہاہے ۔ترک حکومت کے ساتھ عوامی یکجہتی میں بھی اضافہ ہورہاہے جبکہ عالم اسلام کی سطح پر بھی ترکی کی مقبولیت اور اہمیت بڑھ گئی ہے ۔

اب سوال یہ ہے کہ نیاآئین جو ملک کو صدارتی نظام کی طرف لے جائے گا، ترکی کے لئے کس طرح مفید ثابت ہوگا؟ تو عرض ہے صدارتی نظام سے ترکی کی داخلی اورخارجی سلامتی محفوظ ہوجائے گی ۔ملک میں سیاسی استحکام قائم ہوگا۔ پارلیمانی نظام کے سبب ترکی میں ماضی میں بدترین سیاسی انارکی اور طوائف الملوکی کادور دورہ رہا، جس کے نتیجے میں ترکی میں 1950ءسے اب تک کے مختصرعرصے کے دوران50حکومتیں بنی اور ٹوٹی ہیں۔ اس تناسب سے ترکی میں بننے والی ہرحکومت کادورانیہ صرف سولہ مہینے رہا ۔ ملک میں تین فوجی بغاوتیں ہوئیں۔صدارتی نظام کے قیام سے ترکی اقتصادی خسارے سے بھی محفوظ ہوجائے گا ، معیشت مسحکم ہوگی اور ترکی خودکفیل ملک بن جائے گا ۔وہ غیرملکی ہدایات اوراشاروں کا پابند رہنے کے بجائے اپنے قدموں پر کھڑاہوسکے گا۔نیا دستور جمہوری اقدار کی مضبوطی کاذریعہ ہوگا جیساکہ سابقہ آئین میں صدر کے مواخذے کی کوئی شق نہیں ہے۔صدارتی نظام میں ایسانہیں ہوگابلکہ صدر کی جانب سے کسی غلطی کی صورت میں پارلیمنٹ کی منظوری سے ان کامواخذہ ہوسکے گا۔ ملٹری بیوروکریسی کی سیاست دخل اندازیوں اور جرنیلوں کی مہم جوئی کاراستہ بند ہوجائے گا۔ ترکی کو عالمی سطح پر فعال ہونے کا موقع ملے گا۔ مذہبی آزادی پر عائد پابندی ختم ہوگی اور متوازن نظام کے باعث مذہبی انتہاپسندی کابھی خاتمہ ہوگا ۔
ترجمہ: علی ہلال

تبصرے
Loading...