یورپ نے ویٹیکن میں اجلاس منعقد کرکے صلیبی اتحاد کا اصل چہرہ واضح کردیا: صدر ایردوان

0 229

صدر ایردوان نے یورپ سے استفسار کرتے ہوئے کہا یورپی یونین دہرے مؤقف پر عمل پیرا ہے- آخر تم لوگ کیوں ویٹیکن میں اکٹهے ہوئے ؟ ویٹیکن کب سے یورپی اتحاد کا حصہ بنا ؟ اور کیوں یہ اجلاس پوپ کی سربراہی میں ہوا ؟ جبکہ ترکی کی یورپی یونین کی رکنیت کو مسترد کردیا جاتا ہے کہ یہ مسلمان ملک ہے- آخر یہ کیا ہے ؟ تم لوگ جو پہلے کہتے رہے ہو اب اس بارے میں کیا کہو گے ؟! اور ﺗﺮﮐﯽ ﮐﻮ 54 ﺑﺮﺳﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮایا جا رہا ہے-

ﺍﯾﺮﺩﻭﺍﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ "ﯾﻮﺭﭘﯽ ﯾﻮﻧﯿﻦ ﮐﮯ ﺭﮐﻦ ممالک ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﺗﺮﮐﯽ ﮐﻮ ﺭﮐﻨﯿﺖ ﻧﮧ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺩﮦ دعوے ﺣﻘﺎﺋﻖ ﺳﮯ ﮐﻮﺳﻮﮞ ﺩﻭﺭ ﮨﯿﮟ، ﯾﻮﺭﭘﯽ ﯾﻮﻧﯿﻦ ﺗﺮﮐﯽ ﮐﯽ ﺗﺮﻗﯽ ﺳﮯ ﺑﮯ ﭼﯿﻦ ﮨﮯ۔”

صلیبی اتحاد

ﺍن کا مزید کہنا تها ﮐﮧ ” ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺭﮐﻦ ﻣﻠﮏ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺍﯾﺎ ﮔﯿﺎ- ترکی کیوں منتظر رہا کیوں کہ ﯾﻮﺭﭘﯽ ﯾﻮﻧﯿﻦ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎن ﺍﮐﺜﺮﯾﺖ ﮐﺎ ﺣﺎﻣﻞ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻠﮏ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺗﺮﮐﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺿﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﺧﻮﻓﺰﺩﮦ ﮨﯿﮟ۔ ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ ﮐﻮنسی وجوہات ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ؟ ترکی کی آبادی زیادہ ہے جبکہ ﺍﺱ اتحاد ﻣﯿﮟ ﭘﺮ ﮨﺠﻮﻡ ﺁﺑﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﺣﺎﻣﻞ ﺩﯾﮕﺮ ممالک ﺷﺎﻣﻞ ﮨﯿﮟ۔ اور ﺟﺮﻣﻨﯽ ﮐﯽ ﺁﺑﺎﺩﯼ ﺗﺮﮐﯽ کے برابر ہونے ﺗﮏ ﺯﻭﺭ ﺩیتے ہوئے ﺍﯾﺮﺩﻭﺍﻥ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﻧﺎﻗﺎبل ﯾﻘﯿﻦ ﮨﮯ۔”

ایردوان نے ترکی کے متعلق یورپی رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ یورپ ہی تها جو خطے میں دہشت گردوں کو مدد فراہم کر رہا ہے اور دہشت گرد عناصر کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے- شاید کہ یہ بهول گئے ہوں کہ بل میں سانپ کس نے داخل کیا لیکن وہ ڈسے بغیر ہرگز نہیں نکلے گا- اور جو اسلحہ انہوں نے دہشت گردوں کو فراہم کیا ہے- ایک دن آئے گا یہی ان کو رسوا کرے گا-
یورپیوں کی ناراضگی کی وجہ سے ہم ہرگز صحیح راستے سے انحراف نہیں کریں گے- نہ پہلے ان کے حکم کی تعمیل کی اور نہ مطالبے پورے کیے-

ایردوان ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﯾﻮﺭﭖ ﮐﮯ ﺟﮭﻮﭦ ﮐﮯ ﭘﻠﻨﺪﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﭘﺮ ﻣﺎﺭتے ہیں تو یہ ﺑﮯ ﭼﯿﻨﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺟﺐ ﮨﻢ ﺣﻘﺎﺋﻖ ﮐﻮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻻﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﺍُﺗﺮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮨﻤﯿﮟ ﺩﮬﻤﮑﯿﺎﮞ ﺩﮮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺏ ﺁﭖ ﮨﯽ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﻧﺴﯽ ﺩﮬﻤﮑﯽ ﮨﮯ؟ ﯾﻮﺭﭘﯽ ممالک ﮐﯽ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺣﻘﻮﻕ کی پامالیوں ﮐﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮنے والے مسائل اور نتائج ﺳﮯ ﺧﺒﺮﺩﺍﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﺮﮔﺰ ﺩﮬﻤﮑﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔

ﺻﺪﺭ ﻧﮯ 16 ﺍﭘﺮﯾﻞ صدارتی نظام کی تائید میں ہونے والے ﺭﯾﻔﺮﻧﮉﻡ ﮐﮯ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﻮﺭﭖ کی ﺗﺮﮐﯽ ﭘﺮ ﭘﺎﺑﻨﺪﯾﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﺒﻨﯽ ﻣﺆﻗﻒ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮑﺘﮧ ﭼﯿﻨﯽ کرتے ہوئے کہا کہ ﺭﻭﺯﻧﺎﻣﮧ ﮈﯾﻠﯽ ﺻﺒﺎﺡ ﭘﺮ ﯾﻮﺭﭘﯽ ﭘﺎﺭﻟﯿﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﻋﺎﺋﺪ ﮐﯿﮯ جاﻧﮯ ﭘﺮ ﺭﺩ ﻋﻤﻞ ﮐﺎ اظہار کرتے ہوئے ﺍﯾﺮﺩﻭﺍﻥ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ "یورپ تو آزادی اظہار کا علمبردار تها، ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﯿﻮﻧﮑﺮ ﺗﺮﮎ ﺍﺧﺒﺎﺭ ﭘﺮ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ؟!

تبصرے
Loading...