بیرون ملک فلسطینیوں کی دو روزہ کانفرنس استنبول میں شروع، وفود کی آمد کا سلسلہ جاری

0 165

آج سے استنبول میں جاری بیرون ملک فلسطینیوں کی کانفرنس کو "ہم واپسی کے حق کے لئے پر عزم ہیں” کا عنوان دیا گیا ہے، اس میں تمام فلسطینی تنظیمیں، ادارے اور انجمنیں حصہ لے رہی ہیں۔ 

ﺍﺱ ﮐﺎﻧﻔﺮﻧﺲ ﮐﮯ ﺍﻏﺮﺍﺽ ﻭﻣﻘﺎﺻﺪ ﻣﯿﮟ فلسطین کے حل کے لئے بیرون ملک فلسطینیوں کے کردار کو یقینی بنانا، تمام جماعتوں کو ایک نکتہ پر اکٹها کرکے متفقہ تحریک چلانا، ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻓﻠﺴﻄﯿﻦ ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺍٓﮔﺎﮨﯽ، ﻓﻠﺴﻄﯿﻨﯽ ﺑﺎﺷﻨﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﺣﻘﻮﻕ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﺳﯿﺎﺳﯽ، ﻗﺎﻧﻮﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﻟﯽ ﺍﻣﺪﺍﺩ، غزہ پر مسلط کردہ اسرائیلی حصار، ﻓﻠﺴﻄﯿﻨﯽ ﭘﻨﺎﮦ ﮔﺰﯾﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﻖ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﻮﺷﺸﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﯿﮟ۔

کانفرنس کے ترجمان زیاد العالول نے کہا کہ یہ کانفرنس ایسے  وقت میں منعقد کی گئی ہے جب مسئلہ فلسطین کے حل کی راہ میں رکاوٹ عرب حمکران بنے ہوئے ہیں. بیرون ملک فلسطینی اس مسئلہ کی حقیقی نمائندگی کرتے ہوئے فلسطینی قوم کی ثابت قدمی اور اس کاز کی مضبوط حیثیت کو منوانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس ﮐﺎﻧﻔﺮﻧﺲ ﻣﯿﮟ فلسطینی کمیونٹی سے متعلق مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکهنے والی شخصیات بهی مدعو ہیں کیونکہ یہ قومی کانفرنس ہے اور اس میں حاضری قومی کاز کے لئے اہمیت کی حامل ہے. اور دنیا بهر کے 50 سے زائد ممالک سے 5000 سے زائد افراد شریک ہیں۔
اس کے علاوہ ترکی میں مقیم فلسطینی کمیونٹی، فلسطینی پناہ گزین، ترک شہری، استنبول اور انقرہ کی شہری حکومتوں کی انتظامیہ، فلسطینی طلباء اور ترکی میں مقیم فلسطینی خاندان بھی شریک ہیں۔ 

العالول نے کانفرنس کی تاریخ اور مقام کے چناؤ کے حوالے سے بتاتے ہوئے کہا کہ ترکی نے ایسے وقت میں ہمارے لئے اپنے دروازے کهولے ہیں جب عرب دنیا نے فلسطینیوں کے ہر عمل کے لئے اپنے دروازے بند کر دیئے ہیں۔
انہوں نے ترکی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ترک حکومت کا کردار ہمارے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے جنہوں نے ہمیں اس کانفرنس کے انعقاد کی اجازت دی۔

اس دو روزہ کانفرنس میں سیمینارز، ورکشاپس اور دیگر سرگرمیاں بهی شامل ہیں۔

واضح رہے بیرون ملک فلسطینی پناہ گزینوں کی تعداد 6 ملین سے تجاوز کر چکی ہے. جن کی اکثریت اردن، لبنان، شام اور خلیجی ممالک کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں مغربی ممالک اور امریکی ریاستوں میں رہنے پر مجبور ہے۔

تبصرے
Loading...