صدر ایردوان کے اعلان کے بعد 1 ارب ڈالرز کے غیر ملکی زرِ مبادلہ کی فروخت

0 210

"صدر رجب طیب ایردوان کی جانب سے ملک میں نئے معاشی اقدامات کے اعلان کے بعد 1 ارب ڈالرز مالیت کے امریکی ڈالرز اب تک ترک لیرا میں تبدیل کروائے جا چکے ہیں۔ یہ بات بینکس ایسوسی ایشن آف ترکی (TBB) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین اور جنرل مینیجر زراعت بینک الپ اسلان چاکر نے ایک بیان میں کہی۔

ایک انٹرویو میں چاکر نے کہا کہ تمام سرکاری و نجی بینک صدر ایردوان کے کنورٹیبل ڈپازٹ سسٹم میں شامل ہو سکتے ہیں۔

قبل ازیں صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی اب درآمدات پر انحصار نہیں کرتا اور مطالبہ کیا کہ کوئی ترک شہری اپنی بچت ترک لیرا کے بجائے غیر ملکی کرنسی میں منتقل نہیں کرے گا۔

صدر نے یہ بھی کہا کہ ترک حکومت شہریوں کو بچت کے لیے ایک نیا مالیاتی متبادل پیش کر رہی ہے تاکہ غیر ملکی شرح مبادلہ کے حوالے سے ان کی پریشانیاں دور ہوں کہ جو حالیہ چند دنوں میں ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "برآمدی اداروں کے لیے جو غیر ملکی زر مبادلہ میں کمی بیشی کی وجہ سے قیمت طے کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، انہیں مرکزی بینک کے ذریعے ایک مستقل شرح تبادلہ دی جائے گی۔”

"کم شرحِ سود کے ساتھ ہم چند مہینوں میں افراطِ زر میں کمی دیکھیں گے۔”

وزیر خزانہ و مالیات نور الدین نباتی نے صدر ایردوان کے اعلان کو سراہا اور نئے ترک معاشی ماڈل کی طاقت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ "صدر ایردوان کے اعلان کردہ معاشی منشور کے ساتھ ترک معیشت سرمایہ کاری، پیداوار، روزگار اور برآمدات کے ذریعے کامیابی حاصل کرے گی۔”

حال ہی میں صدر ایردوان نے یہ بھی کہا کہ وہ ترکی کی افراطِ زر کو 4 فیصد تک لائے تھے اور دوبارہ ایسا ہی کرنے کا عزم ظاہر کیا کیونکہ ملک میں افراطِ زر کی شرح 21 فیصد تک جا پہنچی ہے اور جس کی وجہ ڈالر کے مقابلے میں لیرا کی گرتی ہوئی قدر تھی۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: