محمد مُرسی کے بارے میں ‏10 باتیں جو آپ نہیں جانتے

0 3,962

جنگ میں پہلی گولی ہمیشہ سچ کھاتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ظالموں اور جابروں کے ہاتھوں میں موجود سب سے بڑا ہتھیار ہوتا ہے اُن کی حقائق مسخ کرنے کی صلاحیت، جس کے ذریعے وہ ایسی باتیں پھیلاتے ہیں جو ان کے ایجنڈے کے مطابق ہوں۔ کیونکہ سچ کے بغیر ہم حق اور باطل کا فرق نہیں کر سکتے اس لیے باقی صرف جھوٹ اور ناانصافی ہی رہ جاتی ہے۔

اور یہی کچھ آج ہمیں مصر میں دیکھنے کو مل رہا ہے کہ جہاں قوم کا منتخب صدر – جسے اغواء کیا گیا اور مہینوں تک قیدِ تنہائی میں رکھا گیا یہاں تک کہ اس کے حامی بھی قید خانے کی نذر ہوئے، کچل دیے گئے، تشدد کا نشانہ بنے، مارے گئے اور پابندیوں کا شکار بنے – مقدمات کا سامنا کرتے کرتے بالآخر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ آپ کی نظر میں مرسی اصولوں پر جان دینے والے ہیرو ہیں یا ایک جرائم پیشہ فرد؟ اس کا انحصار اس بات پر کہ آپ کس سمت کھڑے ہیں۔ حقیقی صدر مرسی کون تھے؟ ان کے بارے میں جاننے کے لیے کچھ معلومات یہ ہیں:

حافظ قرآن

صدر کے بارے میں جو باتیں بہت کم معلوم ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ حافظِ قرآن تھے۔ یہ کوئی چھوٹی موٹی بات نہیں بلکہ کئی باتوں پر بھاری ہے، آپ ہی بتائیں اس وقت کتنے سربراہانِ مملکت ہیں جو قرآن کے حافظ ہیں؟ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "تم (مسلمانوں) میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔”

دانشمند شخصیت

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مرسی اتنے عقلمند نہیں تھے۔ بارہا انہیں سست اور غبی شخص کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ ان کے حریف ان کے چند فیصلوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے اور اپنا غصہ اتارتے جیسا کہ ٹیکس کے معاملے پر یو ٹرن، لگژور کے گورنر کا انتخاب اور عدلیہ کے خلاف ان کی جنگ کے فیصلے۔ لیکن مرسی اپنے ایسے تمام دشمنوں سے زیادہ پڑھے لکھے تھے۔ وہ پی ایچ ڈی تھے، ایک پروفیسر اور زقازیق یونیورسٹی کے ڈپارٹمنٹ آف انجینئرنگ کے سربراہ بھی۔ اس سے قبل وہ امریکا میں کئی منصوبوں پر کام کر چکے تھے اور وہاں وزیٹنگ پروفیسر تھے۔ حکومت کے چھوٹے سے عہد میں وہ ہر شعبے کے ماہر افراد کو اپنے گرد جمع کرنے میں کامیاب ہوئے۔

ایک معمولی فلیٹ میں رہائش

مصر کے صدر کے قاہرہ بھر میں کئی محلات ہوتے ہیں۔ بہت بڑے اور خوب آراستہ۔ جب مرسی پہلی بار صدارتی محل میں داخل ہوئے تو انہوں نے طے کرلیا کہ وہ ان میں سے کسی میں بھی قیام نہیں کریں گے۔ وہ اپنے سرکاری ذمہ داریاں تو انہی میں نبھانے پر مجبور تھے لیکن رہتے اپنے کرائے والے فلیٹ میں ہی تھے۔ لیکن دشمن کی حرکتیں دیکھیں کہ اسی عمارت کی دیواروں پر اور لفٹ میں مرسی کے اہل خانہ کو موت کی دھمکیاں لکھی گئیں۔ ان کے برعکس دیگر مسلمان "رہنماؤں” کے غسل خانے بھی مرسی کے فلیٹ سے بڑے ہوں گے۔

بہن کے لیے خصوصی علاج سے انکار

جب مرسی صدر تھے تو ان کی ہمشیرہ بیمار پڑ گئیں۔ جب وہ ہسپتال عیادت کے لیے گئے تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ اگر انہیں یورپ یا امریکا منتقل کردیا جائے تو ان کا بہتر علاج ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے صرف ایک صدارتی حکم نامے اور ایک ہوائی جہاز کی ضرورت تھی۔ انہوں نے صاف انکار کردیا کہ ان کے خاندان کے افراد کو محض اس بنیاد پر یہ سہولت نہیں ملنی چاہیے کہ میں ایک بڑے عہدے پر ہوں۔ ان کی بہن کا انتقال اسی سرکاری ہسپتال میں ہوا کہ جہاں عام مصری شہریوں کا علاج ہوتا ہے۔

تقریر میں اذان

جب مرسی ایک اہم تقریر کر رہے تھے تو نماز کا وقت ہو گیا۔ اپنی تقریر جاری رکھنے یا خاموش رہنے کے بجائے مرسی نے اذان کے ساتھ اس کے الفاظ دہرانے شروع کردیے۔ یہ ایک زبردست منظر تھا اور نوجوان مسلمانوں کے لیے بہت ہی جوش والا لمحہ۔

بے گھر بیوہ کی داستان

یہ قاہرہ کی سڑکوں پر سونے والی ایک بے گھر خاتون کی وڈیو ہے۔ ایک دن ایک کار رُکی اور اس کی پچھلی نشست سے مرسی باہر آئے۔ انہوں نے خاتون سے پوچھا کہ وہ سڑکوں پر کیوں سوتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بیوہ ہونے کے بعد سے وہ اپنے گھر کا کرایہ نہیں دے پا رہی تھیں اور بالآخر انہیں نکال دیا گیا۔ مرسی نے کہا کہ مصر کی کوئی ماں اس سلوک کی مستحق نہیں اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بیوہ خاتون کے لیے ایک مناسب فلیٹ تلاش کیا جائے اور ریاست کی جانب سے ان کا وظیفہ مقرر کیا جائے۔ افسوس کی بات یہ کہ فوجی بغاوت کے نتیجے میں مرسی کی حکومت کے خاتمے کے بعد وہ بیوہ پھر بے گھر ہوگئیں۔

امدادی کاموں میں شرکت

صدر مرسی کی یہ تصویر انڈونیشیا کے علاقے بندہ آچے کی ہے جہاں سونامی آیا تھا اور لاکھوں افراد جان سے چلے گئے تھے۔ وہ امدادی سرگرمیوں اور تعمیر نو کے کاموں کے لیے گئے تھے۔ مرسی کا تعلق مصر کے اس طبقے سے نہیں تھا کہ جنہوں نے اپنے ذاتی مفادات اور خاندان کو آگے لے جانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا تھا۔ جب بشار الاسد نے انہیں صدر منتخب ہونے پر مبارک باد کا پیغام بھیجا تو صدر نے جواب دیا کہ "میں آپ کو شامی عوام کا حقیقی نمائندہ نہیں سمجھتا۔” تمام تر پروٹوکول کے باوجود وہ معصوم لوگوں کے قاتل کو وہ عزت دینے کو تیار نہیں ہوئے کہ جس کا وہ طلب گار تھا۔

کم ترین تنخواہ لینے والے سربراہ

ہم کاروباری شخصیات، کھیلوں سے وابستہ اسٹارز اور نام نہاد مشہور افراد کی دولت کے حیران کن اعداد و شمار دیکھتے ہی رہتے ہیں اور اسی لیے یہی سمجھتے ہیں کہ سیاسی رہنما بھی بہت بڑی دولت رکھتے ہیں۔ اس لیے ہمیں حیرت نہیں ہوتی کہ مصر کے سابق وزرائے اعظم اور صدور کروڑ پتی بنے۔ مرسی بھی اپنے لیے اور اپنے خاندان کے لیے اس موقع کا فائدہ اٹھا سکتے تھے اور وہ اس کے حقدار بھی تھے کیونکہ وہ کرائے کے ایک فلیٹ میں رہتے تھے۔ کم از کم اپنا گھر تو لے لیتے؟ لیکن مرسی دنیا کے کسی بھی سربراہِ مملکت کی کم ترین تنخواہ لینے والے شخص تھے۔ جی ہاں! دنیا بھر کے۔ ان کی تنخواہ 10 ہزار ڈالرز سالانہ تھی۔ تختہ الٹنے کے بعد جب انہیں اغواء کیا گیا تب معلوم ہوا کہ انہیں نے کبھی وہ تنخواہ نکلوائی بھی نہیں تھی۔ یعنی اپنے تمام دورِ حکومت میں انہوں نے مفت کام کیا۔

فجر کی نماز مسجد میں

صدر مرسی شاید ہی کبھی جماعت کے ساتھ نماز چھوڑتے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے خلاف بغاوت کرنے والے عناصر مذاق اڑاتے اور ان کے اس عمل کو ریاکاری قرار دیتے۔ اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ مرسی کبھی نماز نہ چھڑتے تھے اور انہیں خطبہ جمعہ کے دوران کئی بار اشک بار دیکھا گیا۔

تصاویر سے پرہیز

دیگر عرب آمر حکومتوں کی طرح مصر میں بھی ہر عمارت کی دیوار پر "ہر دل عزیز” حکمران کی تصویر لگائی جاتی۔ مصر میں شاید ہی کوئی دیوار ہوتی تھی جس سے چپکے حسنی مبارک نیچے لوگوں کو نہ دیکھ رہے ہوتے۔ جب مرسی منتخب ہوئے تو انہوں نے حکم جاری کیا کہ کسی سرکاری عمارت میں ان کی تصویر نہیں لگائی جائے گی اور جہاں ضروری ہو وہاں ان کی جگہ اللہ کے نام کا طغرہ لگایا جائے گا۔ یہ پالیسی اب ختم کی جاچکی ہے اور کئی مصری ایک مرتبہ پھر اپنے حکمران کو پوج رہے ہیں۔

تبصرے
Loading...