ترکی ساختہ سولر پینلز کی قومی سولر پاور پلانٹ میں تنصیب

0 180

پہلے ترکی ساختہ سولر پینلز کی وسطی ترکی میں واقع قارہ پینار سولر پاور پلانٹ میں تنصیب کا کام جاری ہے۔

وزیر توانائی و قدرتی وسائل فاتح دونمیز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "ہم نے قونیہ کے قارہ پینار سولر پاور پلانٹ میں پینلز کی تنصیب کا کام شروع کر دیا ہے، جو دنیا کے بڑے سولر پلانٹس میں سے ایک ہوگا۔”

یہ ترکی کا سب سے بڑا سولر پلانٹ پروجیکٹ ہے۔

کالیون ہولڈنگ نے مارچ 2017ء میں جنوبی کوریا کے ہانہوا کیو-سیلز کنسورشیم کے ساتھ مل کر اس منصوبے کا ٹینڈر جیتا تھا۔ البتہ ہانہوا اس منصوبے پر کام جاری نہیں رکھ سکا اور چائنا الیکٹرانکس ٹیکنالوجی گروپ کارپوریشن نے اس تنصیب کی تیاری کا کام کیا اور دو سال تک تکنیکی مدد فراہم کی۔

فاتح دونمیز نے زور دیا کہ حکومت قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار کے لیے کوششیں جاری رکھے گی۔ ہمارا واحد مقصدیہ ہے کہ صنعت میں قابلِ تجدید توانائی کی کھپت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کے اثرات کے بعد جون سے بجلی کی کھپت میں اضافہ شروع ہو چکا ہے۔

وزیر نے یہ بھی کہا کہ ترکی ان چند ملکوں میں سے ایک ہے جس نے وباء کے دوران بھی سرمایہ کاری کا عمل نہیں روکا اور کہا کہ حکومت کو توقع ہے کہ 2020ء کی آخری سہ ماہی میں معیشت کا بحالی کا عمل بہت تیزی سے ہوگا۔

دونمیز نے زور دیا کہ عالمی پیداوار اور لاجسٹکس کو بہتر بنانا چاہیے، خاص طور پر اس وبائی دور میں۔ "ترکی سرمایہ کاروں کو بڑے مواقع دے رہا ہے۔ ہم ایسی جگہ کے قریب واقع ہیں جو تین براعظموں سے قربت رکھتی ہے۔ ہم 25 ارب ڈالرز کی مارکیٹوں سے صرف چار گھنٹے کی پرواز کے فاصلے پر ہیں۔ ہمارے پاس وہ بنیادی ڈھانچہ موجود ہے جو ٹرانسپورٹیشن، توانائی اور لاجسٹکس کے شعبوں میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ساتھ ہی ترکی بہترین انسانی وسائل بھی رکھتا ہے۔ ”

دونمیز نے یہ بھی کہا کہ دنیا بھر کے بڑے ادارے ترکی میں قدرتی گیس کی تقسیم، تیل کی پیداوار اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبوں میں کاروبار کر رہے ہیں۔ "ہم نے انرجی ٹیکنالوجیز کو قومیانے کے لیے توانائی اور کان کنی کے شعبوں میں اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔ ہم نے ایسے سسٹم کو حقیقت کا روپ دیا ہے جو مقامی پیداوار، کارخانے بنانے اور تحقیق کے عمل کی مدد کرتا ہے۔ اگر ہمارے پاس وسائل ہیں تو ہمارے پاس ٹیکنالوجی بھی ہونی چاہیے۔”

تبصرے
Loading...