ترکی، 2020ء میں سرمایہ کاری میں مثبت پیش رفت کا امکان

0 306

ترکی کی ایک معروف سرمایہ کاری ایسوسی ایشن سمجھتی ہے کہ 2020ء ترک معیشت میں مثبت رحجانات کا سال ہوگا۔

انٹرنیشنل انوسٹرز ایسوسی ایشن (YASED) کی ایسم سارگین کہتی ہیں کہ "گزشتہ سال ہم نے تجارتی جنگ جیسی غیر متوقع صورت حال کی وجہ سے بہت مشکل دور دیکھا، لیکن 2020ء کے بارے میں پیشن گوئی کرنا آسان ہے اور یہ عالمی سطح پر اور ترک معیشت میں بھی سرمایہ کاری کے لیے مثبت سال ہوگا۔”

سارگین نے کہا کہ 2019ء میں غیر یقینی حالات کی وجہ سے سرمایہ کار سخت پریشان رہے اور وہ ترکی بلکہ دنیا بھر میں طویل المیعاد سرمایہ کاری سے ہچکچا رہے تھے۔ سارگین بوئنگ ترکی میں مینیجنگ ڈائریکٹر اور کنٹری ایگزیکٹو بھی ہیں۔

انہوں نے پیشن گوئی کی تھی کہ 2018ء کے مقابلے میں 2019 ء میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) میں کمی آئے گی۔ 2019ء کے باضابطہ اعداد و شمار ابھی ظاہر نہیں کیے گئے۔ "لیکن 2020ء کے لیے کچھ اچھی خبریں ہیں۔ اس سال بحالی کا عمل متوقع ہے۔ ممکن ہے کہ ترکی چند اداروں کا انضمام اور کچھ اداروں کا حصول دیکھے۔”

ترکی کی موجودہ FDI کو ملک کی صلاحیتوں سے کم قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "ہمارا ہدف اس حصے کو 3 فیصد تک بڑھانا ہے، جس سے ملک FDI کے لیے پرکشش ترین 10 ممالک میں شامل ہو جائے گا۔” البتہ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سرمایہ کاریوں کو محفوظ بنانا نئے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرنے سے زیادہ اہم ہے۔

سارگین کا کہنا ہے کہ ترک معیشت ہیجان خیز صورت حال کے باوجود طویل المیعاد سرمایہ کے لیے بدستور منافع بخش ہے۔ "YASED اور ترک حکومت ملک میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے قانون کے بنیادی ڈھانچے پر کام کر رہے ہیں۔ ” انہوں نے کہا کہ نئے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرنا مشکل ہے اور ترکی میں عموماً نئی سرمایہ کاری کے لیے توجہ موجودہ سرمایہ کاروں پر ہی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ترکی کو کوئی خاص قسم کی سرمایہ کاری درکار نہیں، اسے ضرورت ہے اعلیٰ ویلیو-ایڈڈ اور ہائی-ٹیکنالوجی سرمایہ کاری کی، جو ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کرے۔ اس کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ترکی کو سرمایہ کاری حکمتِ عملی مرتب کرنا ہوگی۔”

تبصرے
Loading...