یورپ بھر میں PKK حامیوں کے ترک برادری پر حملے

0 374

PKK دہشت گرد گروپ اور اس کی شامی شاخ پیپلز پروٹیکشن یونٹس (YPG) کے حامی شمالی شام میں ترکی کے آپریشن چشمہ امن کے خلاف ‘احتجاج’ کی آڑ میں دہشت گردی پھیلا رہے ہیں اور 10 سے 17 اکتوبر کے دوران یورپ بھر میں ترک برادری پر 26 حملے کر چکے ہیں۔

یہ حملے 9 اکتوبر کو اسی دن شروع ہوگئے تھے جس روز ترکی نے شمالی شام میں اپنی سرحدوں سے پیپلز پروٹیکشن یونٹس (YPG) کو نکالنے کے لیے آپریشن چشمہ امن شروع کیا تھا۔

ان حملوں میں صرف ترک شہریوں کو ہی نہیں بلکہ سفارتی اہلکاروں، کاروباری اداروں، ترک انجمنوں اور مساجد کو بھی نشانہ بنایا گیا اور دہشت گردوں کے ان حامیوں نے چند مقامات کو نذرِ آتش بھی کیا۔ ترک برادری پر حملوں کے علاوہ انہوں نے برلن، لندن، ایمسٹرڈیم، کولون اور دیگر شہروں میں دہشت گرد گروپ کی حمایت میں ریلیاں بھی نکالیں۔

جرمنی

9 اکتوبر سے جرمنی بھر میں YPG/PKK کے حامیوں نے 14 حملے کیے۔ 16 اکتوبر کو ہونے والے تازہ ترین حملے میں جرمنی کے شہر لوڈن شائیڈ میں چار ترک زخمی ہوئے۔ پولیس ترجمان کے مطابق ایک 50 سالہ شخص کو PKK سے تعلق رکھنے والی YPG کے حامیوں نے چھریوں کے وار سے زخمی کیا تھا۔ انہیں شدید زخمی حالت میں قریبی ہسپتال پہنچایا گیا۔ یہ واقعہ آپریشن چشمہ امن کے خلاف YPG اور PKK حامیوں کی جانب سے ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران پیش آیا۔

جرمن پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔

ایسن میں واقع ترک قونصل نرل نے ہسپتال میں زخمی شخص کی عیادت کی اور انہیں یقین دلایا کہ ترک حکومت اس معاملے کی تحقیقات کروائے گی۔

جرمنی میں PKKحامیوں کا پہلا حملہ 10 اگست کو باد سالزوفلن میں ترک اسلامی اتحاد برائے مذہبی امور (DITIB) مولانا مسجد پر ہوا تھا۔

پھر 11 اکتوبر کو برلن میں واقع ترک سفارت خانے کی ایک گاڑی کو آگ لگا دی گئی۔

اس کے ایک دن بعد YPG/PKK حامیوں نے جرمنی کے ایک جنوبی قصبے میں ترکش ورکرز یونین پر حملہ کیا جس میں دو افراد زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ نیورمبرگ میں ایک ترک مارکیٹ پر حملہ کیا گیاکہ جس میں ایک شخص زخمی ہوا۔

اٹلی

10 اکتوبر کو PKK حامیوں نے جینوا میں واقع ترک اعزازی قونصل جنرل کی عمارت پر حملہ کیا۔

دو روز بعد PKK حامیوں روم کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ترکش ایئرلائنز کے کاؤنٹر کے سامنے احتجاج کیا اور ایئرلائن کے آپریشنز میں خلل ڈالا۔ اسی رودن روم میں ترکی کی مجلس برائے ثقافت و سیاحت کے دفتر کے باہر دیواروں پر ترکی مخالفت نعرے لکھے گئے۔

بیلجیئم

11 اکتوبر کو YPG/PKK کے 300 حامیوں نے لیژ کے سینٹ لیمبرٹ اسکوائر پر دو نوجوان ترکوں پر چاقوؤں سے حملے کیے۔

سوئٹزرلینڈ

11 اکتوبر کو YPG/PKK کے 2,000 حامیوں نے برن میں واقع ترک سفارت خانے کی طرف مارچ کیا اور سریوں، پتھروں اور دیگر چیزوں سے پولیس پر حملے کیے۔

12 اکتوبر کو دہشت گردوں کے حامیوں نے باسل میں ترک پرچم نذرِ آتش کیا۔

فن لینڈ

14 اکتوبر کو تقریباً 250 افراد ہیل سنکی میں ترک سفارت خانے پر حملہ آور ہوئے اور عمارت پر پتھراؤ کیا۔

فرانس

فرانس میں ایک واقعے میں گزشتہ منگل کو PKK دہشت گروپ سے تعلق رکھنے والے تین مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا کہ جن پر ترک قونصل خانے پر حملے کا الزام ہے۔

ایک فرانسیسی اخبار کے مطابق ان افراد، جن میں دو مرد اور ایک عورت شامل ہیں، نینٹس میں ترک قونصل خانے پر حملے کی تحقیقات کے دوران حراست میں لیے گئے۔

PKK حامیوں نے عمارت کی دیواروں پر پروپیگنڈا چاکنگ کی اور عمارت کے گرد پٹرول چھڑکا۔ فائر الارم بجنے کی وجہ سے پولیس کی بروقت کارروائی کی بدولت آگ پھیل نہ سکی۔

PKK حامیوں نے لیون میں واقع ترک قونصل خانے کی دیواروں پر بھی چاکنگ کی۔

یونان

یونان میں بھی ترک برادری پر حملے کے واقعات سامنے آئے۔ سالونیکا میں واقع ترک قونصل خانے کی عمارت پر جمعرات کو مظاہرین نے حملہ کیا۔

11 افراد پر مشتمل ایک گروپ ترک قونصل خانے کی عمارت میں مہمان کے طور پر داخل ہوا اور اندر آ کر ترک مخالف نعرے لگانا شروع کردیے۔ انہوں نے بینرز تھام رکھے تھے جن میں "روجاوا سے اظہارِ یکجہتی” لکھا ہوا تھا۔ روجاوا شمال مشرقی شام میں PKK سے منسلک دہشت گردوں کی جانب سے استعمال کیا جانے والا نام ہے جو وہ اپنے زیر قبضہ علاقے کو دیتے ہیں۔ قونصل خانے کے سکیورٹی عملے نے ان مظاہرین پر قابو پایا اور یونانی پولیس کی مدد سے انہیں نکال باہر کیا۔ ایک یونانی خبر رساں ادارے کے مطابق ان مظاہرین کو بعد ازاں پولیس نے گرفتار بھی کیا۔

دریں اثناء یونان کے بائیں بازو کے چند گروپوں نے بھی ترک یونانی دارالحکومت ایتھنز میں ترکی مخالف مارچ کیا۔

نیدرلینڈز

ڈچ پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے شام میں انقرہ کے آپریشن کے خلاف ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران ترک اور PKK حامیوں کے درمیان تصادم کے بعد 23 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب بدھ کی رات PKK حامیوں کا مظاہرہ شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد ترک باشندوں نے بھی ترکی کی حمایت میں مظاہرہ شروع کردیا۔ گرفتار ہونے والے چند افراد اسکرو ڈرائیورز سے مسلح تھے اور "تشدد، جارحیت، نقصان پہنچانے اور گالم گلوچ کے شبے میں پکڑے گئے، روٹرڈیم پولیس نے اپنے بیان میں کہا۔ تصادم کے دوران تین پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوئے۔ ڈچ وزیر اعظم نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں مظاہرے کیے جا سکتے ہیں لیکن تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے۔

یورپ کو اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے

حملے بڑھنے کے بعد ترکی نے یورپی ممالک میں سکیورٹی اقدامات بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ترک وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ "متعلقہ ممالک کے حکام کو بھیجے گئے نوٹسز میں ہم نے PKK کے حامیوں کی جانب سے، خاص طور پر یورپی ممالک میں ہونے والے، پرتشدد مظاہروں اور اقدامات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ "ترکی متعلقہ ممالک سے توقع رکھتا ہے کہ وہ ہمارے سفارت اور قونصل خانوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے اور ترک شہریوں اور اہلکاروں کی جان و املاک کے ساتھ ساتھ ترکی کے مفادات کا بھی تحفظ کریں گے۔ واضح رہے کہ ہم حملہ آوروں کی شناخت، ان کے خلاف قانونی کارروائی اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے عمل کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں۔” وزارت نے کہا۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ یورپ میں PKK حامیوں نے ترک شہریوں کو نشانہ بنایا ہو۔ ترکی عرصے سے یورپی ممالک کی جانب سے PKK حامیوں کی سرگرمیوں کو برداشت کرنے کو تنقید کا نشانہ بناتا آیا ہے۔ PKK – جسے ترکی، امریکا اور یورپی یونین دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں – نے 30 سے زیادہ سالوں سے ترکی کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے جس کا نتیجہ تقریباً 40,000 لوگوں کی اموات کی صورت میں نکلا ہے، جن میں عورتیں، بچے بلکہ شیرخوار تک شامل ہیں۔ بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم کا درجہ رکھنے کے باوجود PKK کو یورپی شہروں میں کھلی چھوٹ حاصل ہے اور جرمنی میں ان کے کارندے خاص طور پر زیادہ متحرک ہیں کہ جہاں اس پر 1993ء سے پابندی ہے۔

تبصرے
Loading...