استنبول میں دوسری عالمی امن کانفرنس کا انعقاد

0 1,666

دوسری بین الاقوامی امن کانفرنس استنبول میں منعقد ہوئی کہ جس میں جنوبی ایشیا سمیت دنیا بھر سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بین العلاقائی تعاون اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

لاہور سینٹر فار پیس ریسرچ (LCPR) اور استنبول میں قائم ساؤتھ ایشیا اسٹریٹجک ریسرچ سینٹر (GASAM) کے زیر اہتمام ہونے والی اس کانفرنس میں کئی دانشوروں، بین الاقوامی ماہرین اور شہر میں مقیم سفیروں نے شرکت کی۔

اپنے افتتاحی خطاب میں LCPR کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر مجاہد منصوری نے البرٹ آئن اسٹائن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "امن کو محض طاقت کے زور پر برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ اسے صرف اتفاقِ رائے سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔”

مجاہد منصوری نے کہا کہ "روایتی اقدامات اٹھانے کے ساتھ ساتھ ہم سمجھتے ہیں کہ امن محض ایک دن میں حاصل نہیں ہو سکتا۔ ہم عالمی امن پر اتفاقِ رائے قائم کرنا چاہتے ہیں اور اس پر بھی کہ عالمی امن آخر ہے کیا؟۔”

پاکستان کی جامعہ پنجاب میں علوم سیاست کے اعزازی پروفیسر حسن عسکری رضوی نے ملکوں کے درمیان باہمی علاقائی تعاون کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔ "علاقائی تعاون جغرافیائی فاصلوں کے باوجود انسانیت کو قریب لانے کی حکمتِ عملی ہے۔ یہ اقتصادی و سماجی ترقی اور معاشرے کو مضبوط کرنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ یہ غربت اور عدم ترقی کے خلاف جدوجہد میں ایک مختصر حکمتِ عملی ہے۔ ہمیں بین العلاقائی تعاون کے فروغ کے لیے ساتھ مل بیٹھنے اور بات کرنے کی ضرورت ہے، جس کا ہدف سب کو فائدہ پہنچانا ہو۔”

اس موقع پر 1997ء سے 2000ء تک پاکستان کے خارجہ سیکریٹری کی ذمہ داریاں انجام دینے والے تجربہ کار پاکستانی سفارت کار شمشاد احمد خان نے موجودہ خارجہ سیکریٹری سہیل محمود کا پیغام پہنچایا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ "بین العلاقائی تعاون دنیا کے کئی مسائل کی کلید ہے، صرف سیاسی لحاظ سے ہی نہیں بلکہ عوام سے عوام، کاروبار سے کاروبار، حکومت سے حکومت اور شعبے سے شعبے کے روابط و تعاون کے لحاظ سے بھی بہت وسیع تناظر میں۔”

پیغام میں سہیل محمود نے کہا کہ "اپنے عظیم ورثے کی بدولت پاکستان خود کو ایک عالمی و علاقائی شہری بھی سمجھتا ہے اور علاقائی و عالمی تکمیل کا ایک عنصر بھی۔ مجھے یقین ہے کہ یہ کانفرنس نئے خیالات اور منصوبوں کے لیے ایک کارآمد پلیٹ فارم ثابت ہوگی اور اسلام آباد، انقرہ اور دیگر علاقائی دارالحکومتوں میں پالیسی سازی کو بہتر بنانے میں مدد دےگی۔”

صدر GASAM جمال دیمر نے اسلام اور مشرقی و مغربی دنیا کے درمیان باہمی تعاون کو "عقلِ سلیم” پر بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ "ساتھ رہنے کا کلچر مشکل ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں۔” دیمر نے کہا۔ "ہم اسلام، اور مشرقی و مغربی تہذیب، سماج بننے اور اچھائی کی جانب سفر شروع کرنے سے ہی علاقائی و عالمی امن کے قریب پہنچ سکتے ہیں۔”

اپنی تقریر میں سابق ترک وزیر ماحولیات و شہر کاری ادریس گلوجہ نے کہا کہ "ہمیں ظالم حکمرانوں سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔ ہیں اپنے مذہب سے مخلص رہنا چاہیے، چاہے ہم جس مذہب کی بھی پیروی کرتے ہوں۔”

چیئرمین بین الپارلیمانی ترکی-پاکستان دوستی گروپ کے چیئرمین علی شاہین نے کہا کہ عالمی نظام امن کے بجائے تصادم پیدا کرتا ہے۔ ہم ایک نظام کے اندر امن کے قیام کی کوشش کر رہے ہیں، جہاں مستحق طاقتور نہیں ہیں لیکن طاقتور ضرور حقدار ہیں۔”

تبصرے
Loading...