2011ء سے اب تک ترکی میں 300000 شامی بچے پیدا ہوئے، رپورٹ

0 923

شامیوں کی ایک نئی نسل ترکی میں پروان چڑھ رہی ہے۔ ترک پبلک آڈٹنگ ایجنسی (KDK) نے رپورٹ جاری کی ہے کہ 2011ء سے اب تک شامی مہاجرین کے گھرانوں میں 276158 بچے جنم لے چکے ہیں۔

ترکی 3.5 ملین شامی مہاجرین کا گھر بن چکا ہے اس طرح دنیا بھر میں اگر کہیں شامی مہاجرین کی سب سے زیادہ تعداد آباد ہے تو وہ ترکی ہی ہے۔ شامی مہاجرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر ترکی ان کی مثالی خدمت کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے تمام مسائل اور ضروریات کو حل کرنے کے لیے ان پر صرف ہونے والا بجٹ 30 بلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق طبی خدمات جو کہ اپریل 2011ء سے شروع ہو گئیں تھیں جب شامی مہاجرین کا پہلا قافلہ ترکی کے سرحدی شہر ہاتے میں پہنچا تھا۔ شامی مہاجرین کو تمام ہسپتالوں تک رسائی حاصل ہے اس کے ساتھ ساتھ مہاجرین کے لیے خصوصی کلینک بھی بنائے گئے ہیں۔ ترک سرکاری ادارہ آفاد جو کہ شامی مہاجرین کی نگہداشت کرتا ہے، ان کے تمام طبی اخراجات اٹھاتا ہے۔ سرحدی علاقوں میں قائم جدید مہاجر کیمپ جہاں کل مہاجرین کا ۔ایک حصہ آباد ہے وہاں بھی خصوصی ہسپتال اور کلینک قائم کئے گئے ہیں

رپورٹ کے مطابق ترکی کے 19 شہروں میں 200 سے زائد مہاجر کلینک قائم ہیں جو مریضوں کو مفت طبی امداد فراہم کر رہے ہیں۔ اب تک ان کلینکس سے 1.3 ملین شامی مریض فائدہ اٹھا چکے ہیں جبکہ 1.1 ملین شامی مریض ترک ہسپتالوں میں سرجری، بیماری اور زخموں کا علاج کروا چکے ہیں۔ 3.2 ملین شامی نوزائیدہ بچوں کو ویکسین پلائی گئی ہے۔

شامی مہاجرین میں ایک بڑی تعداد بچوں کی شامل تھی جنہوں نے ترکی، لبنان اور اردن کا رخ کیا۔ تعلیم ان بچوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے کیوں کہ اگر شامی مہاجرین کی ایک نسل تعلیم سہولیات سے محروم رہی تو اگلی نسل اپنے قدموں پر کھڑا نہیں ہو سکے گی۔ یہ نہ صرف ان کے اپنے مستقبل کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ میزبان ملکوں پر بوجھ میں بھی اضافہ ہو گا۔ ترکی نے اس مسئلے سے نبٹنے کے لیے خصوصی توجہ دی ہے۔ مہاجر بچوں کو پہلے سائیکالوجیکل کونسلنگ سے گزارا گیا ہے اور پھر انہیں تعلیمی اداروں میں داخل کیا گیا ہے۔ 610000 سے زائد شامی بچے اپنے کیمپ سٹی کے اندر یا باہر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ جبکہ 225000 شامی وکیشنل ٹریننگ کورسز حاصل کر رہے ہیں۔

تبصرے
Loading...